یمن جنگ … فوری سیاسی حل ناگزیر

پاکستان کوسعودی عرب اورایران کی پراکسی وارکاحصہ بننےکےبجائےیمن کی صورتحال کوسلجھانےکےلیےثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

عالمی طاقتوں نے مشرق وسطیٰ کی مخدوش صورتحال میں خود کو ہمیشہ یرغمالی اور سیال سونے کا ستم رسیدہ کہا ہے، فوٹو : فائل

ایران اور ترکی نے یمن جنگ فوری طور پر روکنے اور مسئلے کے سیاسی حل نکالے جانے کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے جب کہ پاکستان نے اس اتفاق رائے کا خیرمقدم کیا ہے۔

منگل کو ترک صدر رجب طیب اردوان نے تہران میں اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقاتیں کیں۔ بعدازاں مشترکہ پریس کانفرنس میں حسن روحانی نے کہا کہ باہمی ملاقاتوں میں ہم نے شام، عراق اور فلسطین کی بات کی اور یمن کی صورتحال پر گفتگو کی۔ ہم دونوں کا خیال ہے کہ خطے میں خون خرابہ اور جنگ فوری رکنی چاہیے اور یمن میں مکمل سیز فائر ہونا چاہیے۔

امریکا کے سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر کا مشہور مقولہ ہے کہ '' آپ مصر کے بغیر مشرق وسطیٰ میں کوئی جنگ نہیں کرسکتے اور نہ شام کے بغیر قیام امن۔'' مگر گردش ایام کی غضبناکی ملاحظہ ہوکہ شام خود عجیب دہشت انگیز حالات کا شکار ہے جب کہ پاکستان کو مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر ثالثی یا فریق کے کڑے امتحان کا سامنا ہے ۔

جہاں پارلیمنٹ کو قومی امنگوں سے ہم آہنگ ایک ایسا دور رس فیصلہ کرنا ہے جس میں یمن میں جاری جنگ بند ہو اور دونوں ملکوں کے مابین بات چیت سے مسائل کے حل کی کثیر جہتی کوششیں بارآور ثابت ہوں، جب کہ وقت یہی ہے کہ عالم اسلام متحرک ہو ۔ عرب لیگ اور او آئی سی فعال علاقائی بات چیت کے لیے ماحول کو پاکستان ترکی اور ایران سمیت یمنی و سعودی رہنماؤں سے مل کر سازگار بنائے ، سیز فائر ہونا چاہیے تاکہ مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی ہلاکتوں کا دردناک سلسلہ رک جائے۔ یمن اس جنگ میں ''کسی کا افغانستان''نہ بن جائے۔

قبل اس کے کہ اقوام متحدہ کوئی ایکشن لے اسلامی ملکوںکو خود اپنا امن ایکشن پلان تیار کرنا چاہیے۔اس ضمن میں پیش رفت خوش آیند ہے ، مصر کے وزیر دفاع وکمانڈر ان چیف نے جنرل راحیل شریف سے یمن و سعودی عرب کے حوالے سے مشاورت اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جب کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف بھی پاکستان پہنچے ہیں اور یمن جنگ کے بارے میں وزیراعظم نواز شریف اور دیگر حکام کو ایرانی حکومت کا موقف پیش کریں گے۔

وزیراعظم نواز شریف نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ایران کو یمن کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے، سعودی عرب کی جغرافیائی خود مختاری پر حملہ ہوا تو ہم مل کر جنگ لڑیں گے لیکن ابھی تک اس کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔ سعودی عرب نے پاکستان کو اپنی جن ضروریات سے آگاہ کیا ہے، پارلیمنٹ اس بارے میں تجاویز دے، ان پر من و عن عمل کیا جائے گا۔ یمن کی صورتحال پر پاکستان، ترکی کے موقف میں کافی حد تک یکسانیت پائی جاتی ہے، سرتاج عزیز نے کہا کہ وزیر اعظم نے اسی تناظر میں ترک قیادت سمیت دیگر سے رابطے کیے ہیںکیونکہ پاکستان مسلم امہ کا اتحاد چاہتا ہے ۔


جس کے لیے حکومتی سطح پر اورخارجہ محاذ پرکوششیں جاری ہیں۔ ادھر پارلیمنٹیرینز نے صورتحال کا بامعنی تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں خانہ جنگی ہے، یہ مسلکوں کی جنگ نہیں، اس حوالے سے ان کیمرہ اجلاس بھی ہو سکتا ہے۔ یمن میں پاکستانی فوجی بھیجنے کے بجائے سعودی عرب کے ساتھ انٹیلی جنس کے تبادلے، لاجسٹک، اہم اور مقدس مقامات کی حفاظت، مشکل علاقوں میں جنگ کی تربیت اور صحت کے شعبہ میں تعاون فراہم کیا جانا چاہیے۔

ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس سے ایران کی مخالفت کا تاثر ابھرے ۔ پاکستان اور ترکی اس مسئلے کا حل نکالیں۔ حکومت کی طرف سے ہر معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی روش قابل تعریف ہے، پاکستان کو سعودی عرب اور ایران کی پراکسی وار کا حصہ بننے کے بجائے یمن کی صورتحال کو سلجھانے کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان اور ترکی مل کر اسلام آباد یا استنبول میں سعودی عرب اور ایران کے وزرا خارجہ کے درمیان امن مذاکرات کی میزبانی کریں ۔

حقیقت میں ان تجاویز سے بہتر فارمولا ممکن نہیں۔ حکومت نے یمن میں فوج بھیجنے کے معاملے پر اے پی سی بلانے پر بھی غور شروع کیا ہے ۔ دریں اثنا ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف پاکستان پہنچ چکے ہیں جب کہ ترکی کے وزیرخارجہ مولود اولو رواں ہفتے پاکستان آئیں گے۔

ذرایع کے مطابق پاکستان اور ترکی سعودی عرب اورایران کے درمیان براہ راست رابطے کے لیے کوشاں ہیں ۔ ذرایع کے مطابق ایرانی اور ترک وزرائے خارجہ کے دوروں کے بعد پاکستانی وفد سعودی عرب جائے گا۔تاہم یمن کے قبائلی اور فیوڈل پس منظر اور شورشوں سے مرصع تاریخی تناظر کو فراموش نہیں کرنا چاہیے،مشرق وسطیٰ میں انقلاب دستک دے رہا ہے۔

اس ساری صورتحال میں امریکی اور دیگر مسلم ممالک کے کردار اور ان کی حکمت عملی پر بھی نظر رکھنی ہوگی، سارے پتے ایرانی باسکٹ میں ڈالنے سے پہلے ترکی، ایران،سعودی عرب اور دیگراتحادی ممالک حوثیوں کی پیش قدمی روکیں، خونریزی رکے گی تب بات چیت ممکن ہوسکے گی۔

عالمی طاقتوں نے مشرق وسطیٰ کی مخدوش صورتحال میں خود کو ہمیشہ یرغمالی اور سیال سونے کا ستم رسیدہ کہا ہے ۔اس لیے یمن کی تپش اور اس کے شعلوں کی آنچ کا حل سیاسی اور داخلی ہونا چاہیے۔یہ بار گراں مسلم دنیا خود کاندھوں پر اٹھا لے۔ کئی عشرے قبل ظہیر کاشمیری نے اپنے ایک شعر میں خبردار کیا تھا کہ

عجم میں شعلہ بکف پھر رہے ہیں دیوانے بھڑک اٹھے نہ کہیں دامن عرب دیکھو
Load Next Story