گھوسٹ منتخب نمایندے
دنیا میں ہزاروں سال تک شخصی حکومتیں قائم رہیں جن کا عمومی تعلق بادشاہی نظام سے ہوتا تھا۔
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
سندھ کے اندرونی علاقوں میں ہزاروں گھوسٹ ملازمین جن کا عمومی تعلق اسکولوں سے بتایا جاتا ہے برسوں سے گھروں میں بیٹھ کر یا دوسری نوکریاں کرتے ہوئے دو دو تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔
انھیں گھوسٹ اس لیے کہا جاتا ہے کہ جس کام کے لیے انھیں ملازم رکھا جاتا ہے یہ گھوسٹ وہ کام کرنے کے بجائے گھروں میں آرام سے بیٹھ کر اپنی تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔ ان کی تعداد ہزاروں میں بتائی جاتی ہے جن میں سے 800کو اس حرکت کی وجہ سے نوکریوں سے نکال دیا گیا۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی نے تازہ انکشاف یہ کیا ہے کہ کراچی کے محکمے بلدیہ میں بھی ہزاروں کی تعداد میں گھوسٹ ملازمین موجود ہیں اور برسوں سے گھر بیٹھ کر تنخواہیں وصول کر رہے ہیں ان گھوسٹوں کو بھی ملازمتوں سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔کام کیے بغیر تنخواہیں لینے کا یہ سلسلہ نیا نہیں بلکہ عشروں پرانا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ گھوسٹ عشروں سے حرام کی کھا رہے تھے تو سرکار کیا کر رہی تھی اگر سرکار کو ان گھوسٹوں کا پتہ نہ تھا تو سرکار پر نااہلی کا الزام عائد ہوتا ہے اگر سرکار کو ان گھوسٹوں کا علم تھا تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ سرکار ان گھوسٹوں کی سرپرستی بھی کرتی ہے اور ان کا تحفظ بھی کرتی ہے۔
ان گھوسٹوں کا عمومی تعلق شعبہ تعلیم سے بتایا جاتا ہے جن میں زیادہ تعداد اساتذہ کی بتائی جاتی ہے اگر اساتذہ گھوسٹ ہوجاتے ہیں یعنی اسکولوں میں بچوں کو پڑھا کر حلال کی تنخواہ لینے کے بجائے گھروں میں بیٹھ کر حرام کی تنخواہ لیتے ہیں تو اس کا براہ راست منفی اثر ہمارے طلبا پر پڑتا ہے وہ تعلیمی اداروں سے یا تو قطع تعلق کر لیتے ہیں یا پھر اسکولوں میں کھیل کود کر وقت پورا کرتے ہیں۔ اس کا ایک اور شرمناک پہلو یہ ہے کہ تعلیمی ادارے چونکہ وڈیروں کے اوطاق بنے ہوئے ہیں اس لیے اسکول بند ہوتے ہیں اور اساتذہ ملازمین اور طلبا گھوسٹ بن جاتے ہیں۔
اس پوری صورتحال کی ذمے داری ہمارے حکمران طبقات پر آتی ہے کہ یہ ان کی ذمے داری ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کو وڈیروں کی اوطاق اور مویشی خانے نہ بننے دیں اور جو تعلیمی ادارے اوطاق یا مویشی خانے بنے ہوئے ہیں انھیں دوبارہ بحال کرکے اساتذہ کو گھوسٹ بننے سے بچائیں چونکہ حکمران بھی اپنی ذمے داریوں سے پہلو تہی کرکے بڑی بڑی تنخواہیں لے رہے ہیں۔
لہٰذا ان کا شمار بھی گھوسٹوں میں ہی ہونا چاہیے۔جب ہم تعلیمی اداروں اور سرکاری محکموں کے ان گھوسٹوں پر نظر ڈالتے ہیں تو فطری طور پر ہمارے ذہنوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ عوام الیکشن میں جن نمایندوں کو اپنے ووٹوں سے منتخب کرکے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں ان کی اولین ذمے داری یہ ہوتی ہے کہ وہ ووٹ دینے والوں کے علاقوں میں جائیں اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔
لیکن صورتحال یہ ہے کہ ووٹ لینے کے بعد یہ محترم عوامی نمایندے اگلے الیکشن تک عوام کی بستیوں سے غائب ہوجاتے ہیں اور جب دوبارہ ووٹ لینے آتے ہیں تو نئے وعدوں نئے دھوکوں کے ساتھ آتے ہیں جب کہ یہ معززین اپنی بھاری تنخواہیں اور مختلف بھاری الاؤنسز بڑی پابندی کے ساتھ وصول کرتے ہیں اس کے علاوہ جھوٹے اور غلط میڈیکل بلز دے کر لاکھوں روپے بھی وصول کرتے ہیں۔ کیا ان عوامی نمایندوں کو گھوسٹ ماننا چاہیے؟ اگر انھیں گھوسٹ مان لیا جاتا ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کو اسمبلیوں سے فارغ نہیں کردینا چاہیے؟
دنیا میں ہزاروں سال تک شخصی حکومتیں قائم رہیں جن کا عمومی تعلق بادشاہی نظام سے ہوتا تھا۔ بادشاہی نظام میں چونکہ عوام اپنے سیاسی سماجی معاشی حقوق سے محروم کردیے جاتے ہیں اور ان کی داد فریاد سننے والا کوئی نہیں ہوتا لہٰذا دنیا کے سیاسی مفکرین نے نظام حکومت کو عوامی بنانے کے لیے جمہوریت کو متعارف کرایا۔ اور جمہوریت میں حکمران اور منتخب نمایندوں کو عوام کے سامنے جواب دہ بنایا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عوام کے منتخب نمایندے منتخب ہونے کے بعد عوام سے لاتعلق ہوجائیں تو کیا انھیں عوامی نمایندگی کا حق ہونا چاہیے؟ کیا انھیں گھوسٹ نہیں کہنا چاہیے؟
ہمارے ملک میں جمہوریت بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنا ہمارا ملک پرانا ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ عوام کے منتخب نمایندے عام طور پر عوام سے پانچ سال کے لیے پردہ کر لیتے ہیں اور اگر اسمبلیوں میں آتے بھی ہیں تو یا تو اونگھتے ہوئے نظر آتے ہیں یا پھر اپنی نشستوں پر سوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہم اپنے ملک کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل کرانا چاہتے ہیں تو پھر ہمارے منتخب نمایندوں کا بھی وہی کردار ہونا چاہیے جو ترقی یافتہ ملکوں کے منتخب نمایندوں کا ہوتا ہے۔
کوئی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس ملک میں شرح خواندگی 100 فیصد نہ ہو اور تمام طلبا کو اعلیٰ تعلیم کے مواقعے حاصل نہ ہوں اس حوالے سے جب ہم اس شعبے پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمارے سامنے اس شعبے کی ایک بھیانک تصویر آتی ہے جس کے سر پر گھوسٹ کی پگڑی بنی ہوئی نظر آتی ہے۔ ہمارا الیکٹرانک میڈیا دیہی علاقوں میں موجود اسکولوں اور اسپتالوں کی جو تصویریں پیش کرتا آرہا ہے اس میں اسکولوں میں وڈیروں کے مویشیوں کو بندھا دکھایا جاتا ہے اور اسپتالوں کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا دکھایا جاتا ہے۔
میڈیا کی یہ رپورٹیں یقینا سرکار تک پہنچتی ہوں گی اور یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے انسان ہر روز اپنی تھکان دور کرنے کے لیے 8-6 گھنٹے سو جاتا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جن اداروں کو عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے 24 گھنٹے جاگتے رہنا چاہیے وہ اصحاب کہف کی طرح سو رہے ہیں کیونکہ اگر ہمارے حکام اور ادارے جاگتے رہیں تو نہ اسکول اوطاق اور مویشی خانوں میں بدل سکتے ہیں نہ ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ اور ملازمین گھوسٹ بن سکتے ہیں۔سیاسی ارتقا کی تاریخ میں جمہوریت کو ایک اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ جمہوریت کا مطلب عوام کی حکومت عوام کے لیے عوام کے ذریعے ہوتا ہے۔
ترقی یافتہ مغربی ملکوں میں کسی نہ کسی حد تک جمہوریت اپنی روایتی تعریف پر پوری اترتی ہے جس کی وجہ سے ان ملکوں میں نہ تعلیمی اداروں کو اوطاق اور مویشی خانوں میں بدلا جاسکتا ہے نہ ان اسکولوں میں اساتذہ اور اس محکمے کے ملازمین گھوسٹ ہوتے ہیں۔ گھوسٹ کے معنی نوکری سے غیر حاضر تنخواہ کے دن حاضری کے لیے جاتے ہیں گھوسٹ ملازمین خواہ وہ اساتذہ ہوں یا کسی دوسرے شعبے سے تعلق رکھتے ہوں اس حرام خوری کا شکار اس لیے بن گئے ہیں کہ وہ جب اپنے منتخب نمایندوں کو سب سے بڑے گھوسٹ کی شکل میں دیکھتے ہیں تو فطری طور پر وہ بھی اسی راہ کے مسافر بن جاتے ہیں۔
جس راہ پر ان کے محترم منتخب نمایندے چل رہے ہیں۔ سندھ کا دیہی علاقہ ابھی تک وڈیرہ شاہی کی جاگیر بنا ہوا ہے اور یہ بیماری شہری علاقوں تک پھیل رہی ہے اگر گھوسٹ ملازمین کو سزا کے طور پر ان کی نوکریوں سے نکالنا جائز اور منطقی ہے تو پھر گھوسٹ عوامی نمایندوں کو ''نوکریوں'' سے نکالنا منطقی نہیں؟
انھیں گھوسٹ اس لیے کہا جاتا ہے کہ جس کام کے لیے انھیں ملازم رکھا جاتا ہے یہ گھوسٹ وہ کام کرنے کے بجائے گھروں میں آرام سے بیٹھ کر اپنی تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔ ان کی تعداد ہزاروں میں بتائی جاتی ہے جن میں سے 800کو اس حرکت کی وجہ سے نوکریوں سے نکال دیا گیا۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی نے تازہ انکشاف یہ کیا ہے کہ کراچی کے محکمے بلدیہ میں بھی ہزاروں کی تعداد میں گھوسٹ ملازمین موجود ہیں اور برسوں سے گھر بیٹھ کر تنخواہیں وصول کر رہے ہیں ان گھوسٹوں کو بھی ملازمتوں سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔کام کیے بغیر تنخواہیں لینے کا یہ سلسلہ نیا نہیں بلکہ عشروں پرانا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ گھوسٹ عشروں سے حرام کی کھا رہے تھے تو سرکار کیا کر رہی تھی اگر سرکار کو ان گھوسٹوں کا پتہ نہ تھا تو سرکار پر نااہلی کا الزام عائد ہوتا ہے اگر سرکار کو ان گھوسٹوں کا علم تھا تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ سرکار ان گھوسٹوں کی سرپرستی بھی کرتی ہے اور ان کا تحفظ بھی کرتی ہے۔
ان گھوسٹوں کا عمومی تعلق شعبہ تعلیم سے بتایا جاتا ہے جن میں زیادہ تعداد اساتذہ کی بتائی جاتی ہے اگر اساتذہ گھوسٹ ہوجاتے ہیں یعنی اسکولوں میں بچوں کو پڑھا کر حلال کی تنخواہ لینے کے بجائے گھروں میں بیٹھ کر حرام کی تنخواہ لیتے ہیں تو اس کا براہ راست منفی اثر ہمارے طلبا پر پڑتا ہے وہ تعلیمی اداروں سے یا تو قطع تعلق کر لیتے ہیں یا پھر اسکولوں میں کھیل کود کر وقت پورا کرتے ہیں۔ اس کا ایک اور شرمناک پہلو یہ ہے کہ تعلیمی ادارے چونکہ وڈیروں کے اوطاق بنے ہوئے ہیں اس لیے اسکول بند ہوتے ہیں اور اساتذہ ملازمین اور طلبا گھوسٹ بن جاتے ہیں۔
اس پوری صورتحال کی ذمے داری ہمارے حکمران طبقات پر آتی ہے کہ یہ ان کی ذمے داری ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کو وڈیروں کی اوطاق اور مویشی خانے نہ بننے دیں اور جو تعلیمی ادارے اوطاق یا مویشی خانے بنے ہوئے ہیں انھیں دوبارہ بحال کرکے اساتذہ کو گھوسٹ بننے سے بچائیں چونکہ حکمران بھی اپنی ذمے داریوں سے پہلو تہی کرکے بڑی بڑی تنخواہیں لے رہے ہیں۔
لہٰذا ان کا شمار بھی گھوسٹوں میں ہی ہونا چاہیے۔جب ہم تعلیمی اداروں اور سرکاری محکموں کے ان گھوسٹوں پر نظر ڈالتے ہیں تو فطری طور پر ہمارے ذہنوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ عوام الیکشن میں جن نمایندوں کو اپنے ووٹوں سے منتخب کرکے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں ان کی اولین ذمے داری یہ ہوتی ہے کہ وہ ووٹ دینے والوں کے علاقوں میں جائیں اور ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔
لیکن صورتحال یہ ہے کہ ووٹ لینے کے بعد یہ محترم عوامی نمایندے اگلے الیکشن تک عوام کی بستیوں سے غائب ہوجاتے ہیں اور جب دوبارہ ووٹ لینے آتے ہیں تو نئے وعدوں نئے دھوکوں کے ساتھ آتے ہیں جب کہ یہ معززین اپنی بھاری تنخواہیں اور مختلف بھاری الاؤنسز بڑی پابندی کے ساتھ وصول کرتے ہیں اس کے علاوہ جھوٹے اور غلط میڈیکل بلز دے کر لاکھوں روپے بھی وصول کرتے ہیں۔ کیا ان عوامی نمایندوں کو گھوسٹ ماننا چاہیے؟ اگر انھیں گھوسٹ مان لیا جاتا ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کو اسمبلیوں سے فارغ نہیں کردینا چاہیے؟
دنیا میں ہزاروں سال تک شخصی حکومتیں قائم رہیں جن کا عمومی تعلق بادشاہی نظام سے ہوتا تھا۔ بادشاہی نظام میں چونکہ عوام اپنے سیاسی سماجی معاشی حقوق سے محروم کردیے جاتے ہیں اور ان کی داد فریاد سننے والا کوئی نہیں ہوتا لہٰذا دنیا کے سیاسی مفکرین نے نظام حکومت کو عوامی بنانے کے لیے جمہوریت کو متعارف کرایا۔ اور جمہوریت میں حکمران اور منتخب نمایندوں کو عوام کے سامنے جواب دہ بنایا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عوام کے منتخب نمایندے منتخب ہونے کے بعد عوام سے لاتعلق ہوجائیں تو کیا انھیں عوامی نمایندگی کا حق ہونا چاہیے؟ کیا انھیں گھوسٹ نہیں کہنا چاہیے؟
ہمارے ملک میں جمہوریت بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنا ہمارا ملک پرانا ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ عوام کے منتخب نمایندے عام طور پر عوام سے پانچ سال کے لیے پردہ کر لیتے ہیں اور اگر اسمبلیوں میں آتے بھی ہیں تو یا تو اونگھتے ہوئے نظر آتے ہیں یا پھر اپنی نشستوں پر سوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہم اپنے ملک کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل کرانا چاہتے ہیں تو پھر ہمارے منتخب نمایندوں کا بھی وہی کردار ہونا چاہیے جو ترقی یافتہ ملکوں کے منتخب نمایندوں کا ہوتا ہے۔
کوئی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس ملک میں شرح خواندگی 100 فیصد نہ ہو اور تمام طلبا کو اعلیٰ تعلیم کے مواقعے حاصل نہ ہوں اس حوالے سے جب ہم اس شعبے پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمارے سامنے اس شعبے کی ایک بھیانک تصویر آتی ہے جس کے سر پر گھوسٹ کی پگڑی بنی ہوئی نظر آتی ہے۔ ہمارا الیکٹرانک میڈیا دیہی علاقوں میں موجود اسکولوں اور اسپتالوں کی جو تصویریں پیش کرتا آرہا ہے اس میں اسکولوں میں وڈیروں کے مویشیوں کو بندھا دکھایا جاتا ہے اور اسپتالوں کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا دکھایا جاتا ہے۔
میڈیا کی یہ رپورٹیں یقینا سرکار تک پہنچتی ہوں گی اور یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے انسان ہر روز اپنی تھکان دور کرنے کے لیے 8-6 گھنٹے سو جاتا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جن اداروں کو عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے 24 گھنٹے جاگتے رہنا چاہیے وہ اصحاب کہف کی طرح سو رہے ہیں کیونکہ اگر ہمارے حکام اور ادارے جاگتے رہیں تو نہ اسکول اوطاق اور مویشی خانوں میں بدل سکتے ہیں نہ ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ اور ملازمین گھوسٹ بن سکتے ہیں۔سیاسی ارتقا کی تاریخ میں جمہوریت کو ایک اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ جمہوریت کا مطلب عوام کی حکومت عوام کے لیے عوام کے ذریعے ہوتا ہے۔
ترقی یافتہ مغربی ملکوں میں کسی نہ کسی حد تک جمہوریت اپنی روایتی تعریف پر پوری اترتی ہے جس کی وجہ سے ان ملکوں میں نہ تعلیمی اداروں کو اوطاق اور مویشی خانوں میں بدلا جاسکتا ہے نہ ان اسکولوں میں اساتذہ اور اس محکمے کے ملازمین گھوسٹ ہوتے ہیں۔ گھوسٹ کے معنی نوکری سے غیر حاضر تنخواہ کے دن حاضری کے لیے جاتے ہیں گھوسٹ ملازمین خواہ وہ اساتذہ ہوں یا کسی دوسرے شعبے سے تعلق رکھتے ہوں اس حرام خوری کا شکار اس لیے بن گئے ہیں کہ وہ جب اپنے منتخب نمایندوں کو سب سے بڑے گھوسٹ کی شکل میں دیکھتے ہیں تو فطری طور پر وہ بھی اسی راہ کے مسافر بن جاتے ہیں۔
جس راہ پر ان کے محترم منتخب نمایندے چل رہے ہیں۔ سندھ کا دیہی علاقہ ابھی تک وڈیرہ شاہی کی جاگیر بنا ہوا ہے اور یہ بیماری شہری علاقوں تک پھیل رہی ہے اگر گھوسٹ ملازمین کو سزا کے طور پر ان کی نوکریوں سے نکالنا جائز اور منطقی ہے تو پھر گھوسٹ عوامی نمایندوں کو ''نوکریوں'' سے نکالنا منطقی نہیں؟