ارکان اسمبلی کے لیے سیکرٹ قانون
ہر اسمبلی خصوصاً قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں وزیروں کے غیر حاضر رہنے کی شکایات ہوتی ہیں۔
صدر مملکت ممنون حسین نے وفاقی محتسب کے حکم کے خلاف حکم امتناعی جاری کر کے ارکان قومی اسمبلی کو تحفظ فراہم کر دیا ہے۔ یہ حکم اسپیکر قومی اسمبلی کی استدعا پر دیا گیا ہے کیونکہ وفاقی محتسب نے اسپیکر قومی اسمبلی کو حکم دیا تھا کہ ارکان قومی اسمبلی کی ایوان میں حاضری کے میکنزم اور مکمل معلومات عوام کو فراہم کی جائیں اور ارکان اسمبلی کی حاضری کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا جائے۔
اس حکم کے خلاف صدر مملکت نے ارکان اسمبلی کے مفاد میں فیصلہ دیا کہ ارکان قومی اسمبلی کی حاضریاں سیکرٹ قانون کے تحت آتی ہیں اس لیے ان کی حاضری کی معلومات عوام کو نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی محتسب وفاقی اداروں سے متعلق شہریوں کی شکایات سننے کے بعد فیصلہ دینے کے مجاز ہیں جس کے تحت ایک شہری کی درخواست پر فیصلہ دیا کہ انفارمیشن ایکٹ کے تحت ارکان قومی اسمبلی جنھیں عوام ہی منتخب کرتے ہیں کی ایوان میں حاضریوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا حق ہے مگر وفاقی محتسب کا یہ حکم اسپیکر قومی اسمبلی کو اپنے ارکان کے خلاف محسوس ہوا اور انھوں نے کسٹوڈین کی حیثیت سے فیصلے کے خلاف صدر مملکت سے اپیل کی اور صدر مملکت نے عوام کی بجائے ان ارکان اسمبلی کو ترجیح دی کیونکہ صدر مملکت کو ارکان اسمبلی منتخب کرتے ہیں عوام نہیں اور صدر مملکت کو منتخب کرنے والے ضرور عوام کے ووٹوں سے ہی منتخب ہوتے ہیں مگر عوام اور قانون ان ارکان اسمبلی سے یہ بھی نہیں پوچھ سکتے کہ حضور منتخب ہو کر جب آپ باقاعدگی سے ایوان میں آنا پسند نہیں کرتے تو اسمبلیوں کا انتخاب کیوں لڑتے ہیں اور اکثر اپنی اسمبلیوں سے غیر حاضر کیوں رہتے ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے صدر مملکت کے حضور یہ موقف اختیار کیا کہ قومی اسمبلی کے ارکان کی حاضریاں سیکرٹ قانون کے تحت آتی ہیں جو پبلک نہیں کی جا سکتیں۔
قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں آئے دن کورم کا مسئلہ درپیش ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ ایوان کو خالی دیکھ کر کسی رکن کی نشاندہی پر اجلاس ملتوی کرنا پڑتا ہے اور حکومت کو اپنے مفاد کا فیصلہ لینا ہو تو اجلاس موخر کیا جاتا ہے یا گھنٹیاں بجوا کر کیفے ٹیریا میں کھانے پینے اور خوش گپیوں میں مصروف ارکان اسمبلی کو بلوایا جاتا ہے اور اگر عوام کے مفاد میں فیصلے کا موقعہ ہو تو کورم پورا نہ ہونے کو جواز بنا کر اجلاس ملتوی ہو جاتا ہے۔
ہر اسمبلی میں اسپیکر کے سامنے ارکان موجود ہوتے ہیں اور اکثر یہ بھی ہوتا آ رہا ہے کہ اسپیکر کے سامنے ارکان ایوان سے باہر جاتے رہتے ہیں ایوان خالی ہوتا جاتا ہے مگر اسپیکر اپنے ارکان کو ایوان میں موجود رہنے کا حکم نہیں دے سکتے کیونکہ اس طرح ارکان کا ذاتی استحقاق مجروح ہو سکتا ہے کہ ان کی مرضی ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق ایوان میں آئیں جائیں اور کوئی قانون انھیں ایوان میں رہنے کا پابند نہیں بناتا بس ضروری ہے کہ ہر فاضل رکن ایوان میں داخلے کے وقت اپنی حاضری لگائے تا کہ اس کے الاؤنسز اور مراعات محفوظ ہو جائیں اور حاضری لگا کر ایوان میں آنے کے بعد فاضل رکن کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ پورا وقت ایوان میں موجود رہے یا کچھ منٹوں بعد ایوان سے چلا جائے۔
حاضری سے قانونی ضرورت بھی پوری ہو جاتی ہے۔ اجلاس میں آ جانے سے ہی قانون اور فاضل رکن کا مقصد پورا ہو جاتا ہے اور فاضل رکن تمام سرکاری مراعات کا حقدار قرار پاتا ہے۔
ایوان کی صدارت کرنے والے اسپیکر ایوان میں چند ممبر اور کورم نہ ہونا دیکھ کر اس وقت تک کارروائی جب تک جاری رکھتے ہیں جب تک کوئی رکن کورم پورا ہونے کی نشاندہی نہیں کر دیتا۔ بعض ارکان اسمبلی اور وزرا حضرات ایوان میں آ کر ٹھنڈے ماحول میں نیند بھی پوری کر لیتے ہیں حاضری بھی پوری ہو جاتی ہے۔
پیسہ بھی مل جاتا ہے۔ ایک دوسرے سے ملاقات بھی ہو جاتی ہے سرکاری خرچے پر دارالحکومت میں افسروں سے بھی مل لیا جاتا ہے اور عوام کی نمایندگی کا حق بھی پورا ہو جاتا ہے، کیونکہ انھیں سرکاری مراعات بھی عوام ہی کے ادا کردہ ٹیکسوں ہی سے ملتی ہیں۔
میڈیا پر آئے دن مختلف اسمبلیوں اور سینیٹ کے اجلاسوں کی فوٹیج اور تصاویر عوام دیکھتے ہیں جہاں ایوانوں کی کرسیاں خالی نظر آتی ہیں اور سونے والے وزیروں اور ارکان کو بھی گانوں کے پس منظر میں سوتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔ عوام کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس ملتوی ہونے کی خبریں دیکھتے اور سنتے ہیں تو یہ مناظر سیکرٹ کے زمرے میں تو نہیں آتے۔
بعض دفعہ اسپیکر ارکان کو حاضری یقینی بنانے کا بھی کہتے ہیں اور ایوانوں کا کوئی منظر چھپا ہوا نہیں ہوتا پھر اسپیکر قومی اسمبلی نے صدر مملکت سے کیسے وفاقی محتسب کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی لے لیا کہ قومی اسمبلی ارکان کی حاضریاں سیکریٹ قانون کے تحت آتی ہیں اور اگر میڈیا ارکان کی غیر حاضریوں کی خبریں دیتا ہے تو قومی اسمبلی کے اسپیکر نے اپنے ارکان کے حقائق آشکار ہونے پر میڈیا کو کبھی ایسا کرنے سے کیوں منع نہیں کیا۔
میڈیا کی خبروں سے تو لگتا ہے کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ارکان قومی اسمبلی کو سیکریٹ قانون کا تحفظ حاصل نہیں ہے اور عوام کو بھی یہ حق ہے کہ وہ یہ جانیں کہ ان کے ارکان قومی اسمبلی ایوان میں کیا کرتے ہیں کیونکہ عوام انھیں منتخب کر کے قانون سازی کے لیے بھیجتے ہیں اور ارکان عوام کے نمایندے ہیں سرکاری افسر نہیں کہ اہم اجلاسوں کے معاملات سیکریٹ رکھے جائیں کیونکہ سیکریٹ اجلاسوں میں کوریج کے لیے میڈیا کو مدعو نہیں کیا جاتا اور سرکاری خبر جاری کی جاتی ہے جب کہ میڈیا میں ارکان قومی اسمبلی سے متعلق جھلکیاں بھی دکھائی جاتی ہیں۔
ہر اسمبلی خصوصاً قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں وزیروں کے غیر حاضر رہنے کی شکایات ہوتی ہیں۔ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں اسمبلیوں میں ارکان کے جھگڑوں کی خبریں آتی ہیں اور یہی ارکان منتخب سیاسی جماعتوں سے تعلق کے باعث اپنے ذاتی مفاد اور مراعات بڑھوانے کے لیے ایک بھی ہو جاتے ہیں۔ یہی ارکان اپنی اسمبلیوں میں آپس میں لڑتے الزامات لگاتے، دھمکیاں دیتے اور ایوان سے باہر شیر و شکر نظر آتے ہیں۔
ہر اسمبلی میں مختلف محکموں کی قائمہ کمیٹیاں اور قومی سطح پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی قانونی طور پر بنی ہوئی ہیں جن میں شرکت کے لیے متعلقہ وزرا اور اعلیٰ سرکاری افسران پابند ہیں مگر یہ لوگ ان کمیٹیوں سے بھی غیر حاضر رہتے ہیں تو کمیٹی کے ممبران کو بڑا ناگوار گزرتا ہے اور چیئرمین کمیٹی ان غیر حاضریوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہیں مگر ارکان قومی اسمبلی جب ایوان سے خود غیر حاضر ہوتے ہیں تو انھیں برا نہیں لگتا اور انھیں اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔ بعض ارکان کہتے ہیں کہ جب وزیر اعظم ہی کو پرواہ نہیں اور وہ اکثر مہینوں ایوان میں نہیں آتے تو ہم کیوں آئیں؟
ارکان قومی اسمبلی وزیر اعظم سے ایوان میں نہ آنے کی وجہ پوچھ سکتے ہیں نہ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ارکان سے پوچھیں کہ وہ اپنے اپنے ایوانوں میں اکثر خاموش یا غیر حاضر کیوں رہتے ہیں جب کہ عوام انھیں اپنے مسائل پر بولنے اور ترجمانی کے لیے ہی اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں۔
اس حکم کے خلاف صدر مملکت نے ارکان اسمبلی کے مفاد میں فیصلہ دیا کہ ارکان قومی اسمبلی کی حاضریاں سیکرٹ قانون کے تحت آتی ہیں اس لیے ان کی حاضری کی معلومات عوام کو نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی محتسب وفاقی اداروں سے متعلق شہریوں کی شکایات سننے کے بعد فیصلہ دینے کے مجاز ہیں جس کے تحت ایک شہری کی درخواست پر فیصلہ دیا کہ انفارمیشن ایکٹ کے تحت ارکان قومی اسمبلی جنھیں عوام ہی منتخب کرتے ہیں کی ایوان میں حاضریوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا حق ہے مگر وفاقی محتسب کا یہ حکم اسپیکر قومی اسمبلی کو اپنے ارکان کے خلاف محسوس ہوا اور انھوں نے کسٹوڈین کی حیثیت سے فیصلے کے خلاف صدر مملکت سے اپیل کی اور صدر مملکت نے عوام کی بجائے ان ارکان اسمبلی کو ترجیح دی کیونکہ صدر مملکت کو ارکان اسمبلی منتخب کرتے ہیں عوام نہیں اور صدر مملکت کو منتخب کرنے والے ضرور عوام کے ووٹوں سے ہی منتخب ہوتے ہیں مگر عوام اور قانون ان ارکان اسمبلی سے یہ بھی نہیں پوچھ سکتے کہ حضور منتخب ہو کر جب آپ باقاعدگی سے ایوان میں آنا پسند نہیں کرتے تو اسمبلیوں کا انتخاب کیوں لڑتے ہیں اور اکثر اپنی اسمبلیوں سے غیر حاضر کیوں رہتے ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے صدر مملکت کے حضور یہ موقف اختیار کیا کہ قومی اسمبلی کے ارکان کی حاضریاں سیکرٹ قانون کے تحت آتی ہیں جو پبلک نہیں کی جا سکتیں۔
قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں آئے دن کورم کا مسئلہ درپیش ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ ایوان کو خالی دیکھ کر کسی رکن کی نشاندہی پر اجلاس ملتوی کرنا پڑتا ہے اور حکومت کو اپنے مفاد کا فیصلہ لینا ہو تو اجلاس موخر کیا جاتا ہے یا گھنٹیاں بجوا کر کیفے ٹیریا میں کھانے پینے اور خوش گپیوں میں مصروف ارکان اسمبلی کو بلوایا جاتا ہے اور اگر عوام کے مفاد میں فیصلے کا موقعہ ہو تو کورم پورا نہ ہونے کو جواز بنا کر اجلاس ملتوی ہو جاتا ہے۔
ہر اسمبلی میں اسپیکر کے سامنے ارکان موجود ہوتے ہیں اور اکثر یہ بھی ہوتا آ رہا ہے کہ اسپیکر کے سامنے ارکان ایوان سے باہر جاتے رہتے ہیں ایوان خالی ہوتا جاتا ہے مگر اسپیکر اپنے ارکان کو ایوان میں موجود رہنے کا حکم نہیں دے سکتے کیونکہ اس طرح ارکان کا ذاتی استحقاق مجروح ہو سکتا ہے کہ ان کی مرضی ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق ایوان میں آئیں جائیں اور کوئی قانون انھیں ایوان میں رہنے کا پابند نہیں بناتا بس ضروری ہے کہ ہر فاضل رکن ایوان میں داخلے کے وقت اپنی حاضری لگائے تا کہ اس کے الاؤنسز اور مراعات محفوظ ہو جائیں اور حاضری لگا کر ایوان میں آنے کے بعد فاضل رکن کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ پورا وقت ایوان میں موجود رہے یا کچھ منٹوں بعد ایوان سے چلا جائے۔
حاضری سے قانونی ضرورت بھی پوری ہو جاتی ہے۔ اجلاس میں آ جانے سے ہی قانون اور فاضل رکن کا مقصد پورا ہو جاتا ہے اور فاضل رکن تمام سرکاری مراعات کا حقدار قرار پاتا ہے۔
ایوان کی صدارت کرنے والے اسپیکر ایوان میں چند ممبر اور کورم نہ ہونا دیکھ کر اس وقت تک کارروائی جب تک جاری رکھتے ہیں جب تک کوئی رکن کورم پورا ہونے کی نشاندہی نہیں کر دیتا۔ بعض ارکان اسمبلی اور وزرا حضرات ایوان میں آ کر ٹھنڈے ماحول میں نیند بھی پوری کر لیتے ہیں حاضری بھی پوری ہو جاتی ہے۔
پیسہ بھی مل جاتا ہے۔ ایک دوسرے سے ملاقات بھی ہو جاتی ہے سرکاری خرچے پر دارالحکومت میں افسروں سے بھی مل لیا جاتا ہے اور عوام کی نمایندگی کا حق بھی پورا ہو جاتا ہے، کیونکہ انھیں سرکاری مراعات بھی عوام ہی کے ادا کردہ ٹیکسوں ہی سے ملتی ہیں۔
میڈیا پر آئے دن مختلف اسمبلیوں اور سینیٹ کے اجلاسوں کی فوٹیج اور تصاویر عوام دیکھتے ہیں جہاں ایوانوں کی کرسیاں خالی نظر آتی ہیں اور سونے والے وزیروں اور ارکان کو بھی گانوں کے پس منظر میں سوتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔ عوام کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس ملتوی ہونے کی خبریں دیکھتے اور سنتے ہیں تو یہ مناظر سیکرٹ کے زمرے میں تو نہیں آتے۔
بعض دفعہ اسپیکر ارکان کو حاضری یقینی بنانے کا بھی کہتے ہیں اور ایوانوں کا کوئی منظر چھپا ہوا نہیں ہوتا پھر اسپیکر قومی اسمبلی نے صدر مملکت سے کیسے وفاقی محتسب کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی لے لیا کہ قومی اسمبلی ارکان کی حاضریاں سیکریٹ قانون کے تحت آتی ہیں اور اگر میڈیا ارکان کی غیر حاضریوں کی خبریں دیتا ہے تو قومی اسمبلی کے اسپیکر نے اپنے ارکان کے حقائق آشکار ہونے پر میڈیا کو کبھی ایسا کرنے سے کیوں منع نہیں کیا۔
میڈیا کی خبروں سے تو لگتا ہے کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ارکان قومی اسمبلی کو سیکریٹ قانون کا تحفظ حاصل نہیں ہے اور عوام کو بھی یہ حق ہے کہ وہ یہ جانیں کہ ان کے ارکان قومی اسمبلی ایوان میں کیا کرتے ہیں کیونکہ عوام انھیں منتخب کر کے قانون سازی کے لیے بھیجتے ہیں اور ارکان عوام کے نمایندے ہیں سرکاری افسر نہیں کہ اہم اجلاسوں کے معاملات سیکریٹ رکھے جائیں کیونکہ سیکریٹ اجلاسوں میں کوریج کے لیے میڈیا کو مدعو نہیں کیا جاتا اور سرکاری خبر جاری کی جاتی ہے جب کہ میڈیا میں ارکان قومی اسمبلی سے متعلق جھلکیاں بھی دکھائی جاتی ہیں۔
ہر اسمبلی خصوصاً قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں وزیروں کے غیر حاضر رہنے کی شکایات ہوتی ہیں۔ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں اسمبلیوں میں ارکان کے جھگڑوں کی خبریں آتی ہیں اور یہی ارکان منتخب سیاسی جماعتوں سے تعلق کے باعث اپنے ذاتی مفاد اور مراعات بڑھوانے کے لیے ایک بھی ہو جاتے ہیں۔ یہی ارکان اپنی اسمبلیوں میں آپس میں لڑتے الزامات لگاتے، دھمکیاں دیتے اور ایوان سے باہر شیر و شکر نظر آتے ہیں۔
ہر اسمبلی میں مختلف محکموں کی قائمہ کمیٹیاں اور قومی سطح پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی قانونی طور پر بنی ہوئی ہیں جن میں شرکت کے لیے متعلقہ وزرا اور اعلیٰ سرکاری افسران پابند ہیں مگر یہ لوگ ان کمیٹیوں سے بھی غیر حاضر رہتے ہیں تو کمیٹی کے ممبران کو بڑا ناگوار گزرتا ہے اور چیئرمین کمیٹی ان غیر حاضریوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہیں مگر ارکان قومی اسمبلی جب ایوان سے خود غیر حاضر ہوتے ہیں تو انھیں برا نہیں لگتا اور انھیں اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔ بعض ارکان کہتے ہیں کہ جب وزیر اعظم ہی کو پرواہ نہیں اور وہ اکثر مہینوں ایوان میں نہیں آتے تو ہم کیوں آئیں؟
ارکان قومی اسمبلی وزیر اعظم سے ایوان میں نہ آنے کی وجہ پوچھ سکتے ہیں نہ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ارکان سے پوچھیں کہ وہ اپنے اپنے ایوانوں میں اکثر خاموش یا غیر حاضر کیوں رہتے ہیں جب کہ عوام انھیں اپنے مسائل پر بولنے اور ترجمانی کے لیے ہی اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں۔