میڈیا کا رخ بدلنے کی ضرورت ہے

دنیا بھر میں رائے عامہ کی تشکیل اورفکری انقلاب برپا کرنے میں میڈیا کا بہت اہم کردار رہا ہے،

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

دنیا بھر میں رائے عامہ کی تشکیل اورفکری انقلاب برپا کرنے میں میڈیا کا بہت اہم کردار رہا ہے، پاکستان میں جب تک میڈیا پر سرکارکا قبضہ رہا میڈیا حکمرانوں کی قصیدہ خوانی میں مصروف رہا۔

2007 تک ہمارے ملک میں الیکٹرانک میڈیا چند مخصوص چینلز تک محدود رہا جس کی وجہ سے اس کی کارکردگی بھی محدود رہی لیکن جب ایک فوجی ڈکٹیٹر نے دھڑادھڑ چینلز کھلوانے شروع کیے تو ماضی کا یہ ناقابل ذکر اور کمزور ترین میڈیا اس قدر طاقت ور ہوگیا کہ بڑے بڑے پھنے خان، حکمران بھی میڈیا سے خوفزدہ رہنے لگے اور ان کی کوشش یہی رہی کہ ''کسی نہ کسی طرح'' میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا کو قابو میں رکھا جائے۔

ان نیک کوششوں کی کامیابی کے لیے سیکریٹ فنڈز کے تھیلوں کے منہ کھولے جاتے رہے ہمارے ملک میں ''لفافہ جرنلزم'' بہت مشہور ہوا اور بعض حضرات نے ''سچ'' کو اپنی ڈکشنری ہی سے نکل گیا اور ان کی زندگیوں میں اس قدر خوشحالی آگئی کہ اسے چھپانا ناممکن ہوگیا۔

یہ سچ ہے کہ ہمارا میڈیا اب بھی بڑی بے باکی سے ایلیٹ کی خرمستیوں، حکمران طبقات کی بے راہ رویوں کو طشت از بام کررہاہے لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں عوام میں ظلم و استحکام کے نظام کے حوالے سے بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا میڈیا سیاسی مرغوں کی بے مقصد لڑائی کو عوام تک پہنچانے میں اپنا 90 فی صد وقت صرف کر رہا ہے جس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ عوام ذہنی انتشار اور سخت کنفیوژن کا شکار ہیں ۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس کو اب ختم ہونا چاہیے۔

برسوں سے الیکٹرانک میڈیا جن پروگراموں پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور اس کے لیے سب سے زیادہ وقت صرف کر رہاہے وہ ہے ''ٹاک شوز'' ۔ جن میں اس قدر یکسانیت آگئی ہے اور ان کا پیٹرن اس قدر مایوس اور بیزار کن ہے کہ اب ان شوز کو عوام سیاسی مرغوں کلی لڑائی کا نام دے رہے ہیں اور ان شوز کے اینکر حضرات مرغوں کی لڑائی کے ایسے ماہر ہوگئے ہیں کہ سیاسی شرکا ہر وقت ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان رہتے ہیں ۔

یہ کام وہ مڈل کلاس کررہی ہے جس کا تاریخی کردار تبدیلیوں کے عمل میں عوام کی رہنمائی کرتا رہا ہے، ہماری ایلیٹ اور حکمران طبقات نے اپنے ان سعادت مندوں کو ہیرو بنادیا ہے جو ہر جگہ سر فہرست رہتے ہیں اور اپنی انتہائی ماہرانہ صلاحیتوں سے اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں اور جو قلمکار اس نظام کی سفاکیوں کو سمجھتے ہیں اور اپنا قلم ان سفاکیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں انھیں نچلی صفوں میں دھکیل کر ان کی آواز کو عوام تک پہنچنے سے روکا جا رہا ہے۔


مثال کے طور پر ہمارے قومی اہم ترین مسائل میں اہم ترین مسئلہ جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ہے لیکن اینکر اور مہمان حضرات اس اہم ترین مسئلے پر چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں۔ دنیا کا کوئی باشعور اور عوام سے مخلص سیاست دان اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ ہماری سیاست ہمارے معاشرتی، ہماری معیشت میں 68سال سے جو جمود کی کیفیت طاری ہے ۔

اس کی سب سے بڑی وجہ سیاست اور اقتدار پر جاگیرداروں اور ان کے اتحادیوں کا قبضہ ہے، سیاسی موروثیت جمہوریت کی ضد ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارا میڈیا ان مورثی شہزادوں، شہزادیوں کی مقبولیت میں اضافے کا سبب بن رہا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک طرف لولی لنگڑی جمہوریت کو غنیمت کہا جارہاہے تو دوسری طرف ولی عہد نظام سے چشم پوشی اختیار کی جارہی ہے۔

اس میں بھی ذرا برابر شک نہیں کہ الیکٹرانک میڈیا کے کارکن جان ہتھیلی پر رکھ کر نازک اور رسکی مقامات پر پہنچ جاتے ہیں بلکہ ان کارکنوں کی جرأت اور بہادری کا عالم یہ ہے کہ وہ نئے نئے دلچسپ انکشافات کرنے کے لیے کبھی ملاوٹ کے کارخانوں پر ہلہ بول دیتے ہیں تو کبھی جعلی عاملوں، باباؤں کے آستانوں میں گھس کر ان کے کرتوتوں سے عوام کو واقف کرانے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی ہیبت ناک قبرستانوں میں پہنچ کر مردوں کی ہڈیاں اور ٹوٹکوں، جادو ٹونوں کے مغلظات سے پردہ اٹھاتے اور عوام کو دکھاتے نظر آتے ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ کام مرد کارکن ہی نہیں بلکہ نوجوان خاتون کارکن بھی انجام دیتی نظر آتی ہیں۔ بلاشبہ معاشرے کی ان برائیوں سے پردہ اٹھانا اہم بھی ہے اور وقت کی ضرورت بھی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جو نظام ان گندگیوں، ان غلاظتوں کو جنم دیتا ہے اس کے خلاف رائے عامہ کو بیدار کرنا زیادہ ضروری نہیں؟

دیہی علاقوں میں رہنے والوں کی حالت زار کو تو چھوڑیے شہری علاقوں اور کراچی جیسے ترقی یافتہ شہر کی کچی بستیوں اور مضافاتی علاقوں میں لاکھوں غریب عوام جس حال میں زندہ ہیں اور زندگی گزار رہے ہیں کیا اس زندگی کے شرمناک مناظرکو میڈیا میں نہیں آنا چاہیے؟ ایک غریب مزدور ایک غریب کسان کس حال میں زندگی گزار رہا ہے اس کے کچن کا کیا حال ہے۔

اس کے ''ڈرائنگ روم'' کی شکل کیسی ہے اس کے چولہوں کا کیا حال ہے اس کے بچوں کی نشوونما کیسے ہورہی ہے ان بستیوں میں گندگی کی کیا صورت حال ان بستیوں میں علاج معالجے کی کیا صورت حال ہے، ان بستیوں میں جرائم کیوں پرورش پارہے ہیں، ان بستیوں میں تعلیمی اداروں کا کیا حال ہے۔

ان بستیوں میں منشیات اور اسلحے کی تجارت کیوں فروغ پارہی ہے، کون اسے فروغ دے رہا ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا؟ یہ ایسے حقیقی مسائل ہیں جن کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمارے انتہائی ظالمانہ طبقاتی نظام میں الیٹ کس طرح کی زندگی گزار رہے ہیں، ان کی بستیوں میں گلاب کیوں کھلتے ہیں، ان کے کچن کا روزانہ خرچ کیا ہے، ان کے ڈیپ فریزر اور فریج جن نعمتوں سے بھرے رہتے ہیں، یہ کس کی محنت کا نتیجہ ہیں، ان کے محلوں پر ملازموں کی گارڈز کی بھیڑ کیوں لگی رہتی ہے، کیا یہ ساری نعمتیں عوام کا حق چھین کر حاصل نہیں کی جارہی ہیں؟ اس اسرار سے الیکٹرانک میڈیا کو پردہ اٹھانا چاہیے یہی اس کی ذمے داری ہے۔
Load Next Story