عام اشیا کی درآمدات میں بے قاعدگیوں کیخلاف کارروائی شروع

ڈائریکٹوریٹ آئی اینڈ آئی کراچی نے صابن ودیگر اشیا کی درآمد میں انڈرانوائسنگ کرنے والوں کی فہرست بنالی

ٹیکنوسٹی کراچی میں چھاپہ، کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث کمپنی کا ریکارڈ ضبط، واجبات کا تعین کیا جا رہا ہے، حکام۔ فوٹو: فائل

ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو نے روزمرہ استعمال کی پروڈکٹس کی درآمدی سرگرمیوں میں ہونے والی بے قاعدگیوں، انڈرانوائسنگ اور سیلزٹیکس کی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔

ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ آئی اینڈ آئی کراچی کی جانب سے سوپ، ڈیٹرجنٹ، ایئرفریشنر اورکاسمیٹکس کے ایسے درآمد کنندگان کی فہرست مرتب کرلی گئی ہے جو طویل دورانیے سے ان اشیا کی درآمدات میں انڈرانوائسنگ میں ملوث ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹرجنرل آئی اینڈ آئی ہارون محمد ترین اور ڈائریکٹرآئی اینڈ آئی کراچی شمس الہادی نے ایک خفیہ اطلاع پرایڈیشنل ڈائریکٹرز کراچی عقیل احمد صدیقی اور عاصم افتخار کو ہدایت کی کہ وہ انڈرانوائسنگ اور سیلز ٹیکس میں بے قاعدگیوں کی مرتکب کمپنی کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے ٹیم تشکیل دیں جس پرحکام نے ڈپٹی ڈائریکٹر آئی اینڈ آئی کراچی آصف آبڑو کی سربراہی میں چھاپہ مار ٹیم تشکیل دی اور اس ٹیم نے ٹیکنوسٹی کراچی میں مبینہ طور پر انڈرانوائسنگ میں ملوث اے کے بزنس لنک نامی دفتر پر چھاپہ مارا جس کا مالک انیل کمار100 سرفہرست ٹیکس دہندگان میں شامل ہے.


آئی اینڈ آئی کی ٹیم کی تلاشی کے دوران انیل کماراور دلیپ کمار کی ایک اور میگالائن نامی کمپنی کی نشاندہی ہوئی جس کے ریکارڈ کی بھی چھان بین کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ مذکورہ میگالائن نامی کمپنی نہ توسیلزٹیکس اور نہ ہی انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہے اور اسی کمپنی کے توسط سے گزشتہ 4 ماہ کے دوران کروڑوں روپے مالیت کی درآمدی پروڈکٹس کو فروخت کیا گیا ہے لیکن اس بھاری مالیت کی فروخت پرقومی خزانے میں کسی قسم کا ٹیکس جمع نہیں کرایا گیا۔

آئی اینڈ آئی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ کارروائی سیلز ٹیکس ایکٹ مجریہ1990 کی شق38 کے تحت کی ہے انہیں اطلاع ملی تھی کہ 100 سرفہرست ٹیکس دہندگان کی فہرست میں شامل فرد کی کمپنی کسٹمز کی سطح پرانڈرانوائسنگ اور بعدازاں سیلزٹیکس میں بے قاعدگیوں میں ملوث ہیں۔ آصف ابڑو نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ چھاپے کے دوران کمپنی کے 3 کمپیوٹرز قبضے میں لے لیے گئے ہیں جنہیں ڈی کوڈ کرکے بے قاعدگیوں کے مزید شواہد اکھٹے کیے جارہے ہیں کیونکہ اطلاع کے مطابق درآمدکنندہ انتہائی کم ویلیوظاہر کرکے بین الاقوامی سطح کے مہنگے برانڈ کے صابن بشمول ہارمونی، لارک، ملک سوپ، پیرزسوپ اودیگر مصنوعات جن میں پیمپرزاور ایئرفریشنرز شامل ہیں کی کسٹمز کلیئرنس حاصل کرتا رہا ہے اور مقامی مارکیٹ میں 350 فیصد منافع پر ان مصنوعات کو فروخت کرتا رہا ہے۔

آصف آبڑو کے مطابق کمپنی گزشتہ 15 سال سے صابن سمیت دیگر پروڈکٹس ملک میں تجارتی بنیادوں پر درآمد کررہی ہے لیکن انڈرانوائسنگ اور سیلز سپریشن میں ملوث پائی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی کا محکمہ کسٹمز کے ساتھ بھی ویلیوایشن کا تنازع چل رہا ہے تاہم آئی اینڈ آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس کمپنی کی تمام درآمدی مصنوعات کی اصل ویلیوسے آگہی کے لیے ان کے بیرونی فروخت کنندگان اور وہاں کی مارکیٹ سے رابطہ کریں گے کیونکہ مذکورہ کمپنی کی80 فیصد درآمدات انڈونیشیا سے جبکہ20 فیصد درآمدات ملائیشیا سے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی کی بے قاعدگیوں کے ذریعے قومی خزانے کو کسٹم ڈیوٹی وسیلزٹیکس کی مد میں نقصانات اور ٹیکس واجبات کا تعین کیا جا رہا ہے۔
Load Next Story