وفاقی حکومت جلد وول ڈیولپمنٹ کمپنی قائم کرے گی بوسن
بلوچستان کو ملک میں وول پروڈکشن کے اعتبار سے نیشنل لیڈر بنایا جاسکتا ہے
ہمارا بنیاد ی مقصد لائیو اسٹاک کی پیداوار کے طریقوں اور مارکیٹنگ میں مہارت کو بہتر بناکر زیادہ سے زیادہ آمدنی حاصل کرنا ہے، وفاقی وزیر۔ فوٹو: فائل
لاہور:
وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات بوسن نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں اور ڈونرز آرگنائزیشنز کے اشتراک سے جلد وول ڈیولپمنٹ کمپنی قائم کرے گی جبکہ بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے علاقوں کے لوگوں کی معاشی حالت بدلنے کے لیے جانوروں کی افزائش کو فروغ دینا ہوگا نیز بلوچستان کو جلد ماڈل صوبہ بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد میں جمعرات کو وول کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک اور دیگر اہم شخصیات کے ہمراہ آسٹریلیا کا دورہ کیا جس کے دوران انہیں ڈاکٹر عبدالمالک کی ملک کے ساتھ محبت، صوبہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے بے پناہ جذبہ دیکھنے میں ملا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران انہیں آسٹریلوی ماہرین کے تجربات سے استفادہ کا موقع بھی ملا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے ایسے علاقہ جات جن میں ترقی کے لیے بہت زیادہ پوٹینشل موجود ہے ان میں بلوچستان، رینج لینڈز، تھرپارکر، فاٹا، گلگت بلتستان، سندھ، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے کچے کے حصے بھی شامل ہیں۔
وفاقی وزیر نے توقع ظاہر کی کہ حکومت اپنے وسائل کو پاکستان کے نظر انداز علاقہ جات میں لائیو اسٹاک و ڈیری ڈیولپمنٹ اور وول کی پیداوار بڑھانے کیلیے استعمال کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں اور فنڈنگ اداروں کے ساتھ مل کر وول ڈیولپمنٹ کمپنی قائم کرنے کے لیے جامع پلان مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس سلسلے میں بنیادی حیثیت بلوچستان کو حاصل ہوگی تاہم پاکستان کے دیگر علاقہ جات پربھی بھرپور توجہ مرکوز کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے لہٰذا اگر زیادہ سے زیادہ وسائل، تعاون، رہنمائی، جدید پیداواری صلاحیت، تکنیکی امداد اور ضروری فنڈز فراہم کر دی جائیں تو بلوچستان کو ملک میں وول پروڈکشن کے اعتبار سے نیشنل لیڈر بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آسٹریلین ماہرین پاکستان کادورہ کرچکے ہیں اور پاکستان بھی کسانوں، مویشی پال حضرات اور تکنیکی عملے پر مشتمل وفد مزید تربیت کیلیے جلد آسٹریلیا بھیج رہاہے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ ہمارا بنیاد ی مقصد لائیو اسٹاک کی پیداوار کے طریقوں اور مارکیٹنگ میں مہارت کو بہتر بناکر زیادہ سے زیادہ آمدنی حاصل کرنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ انہیں بے حد خوشی ہوئی ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سال 2016 کو زراعت و لائیو اسٹاک کی ترقی کاسال قرار دیا ہے، وفاقی حکومت اس ضمن میں ان کے ساتھ بھرپور تعاون کریگی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ، سینیٹر طلحہٰ محمود، چیف سیکریٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ، آسٹریلوی ماہرین، پاکستانی سائنسدان، کاشتکار، ڈویژنل وضلعی انتظامی حکام، یونیورسٹی کے افسران اور طلبا وطالبات بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔
وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سکندر حیات بوسن نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں اور ڈونرز آرگنائزیشنز کے اشتراک سے جلد وول ڈیولپمنٹ کمپنی قائم کرے گی جبکہ بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے علاقوں کے لوگوں کی معاشی حالت بدلنے کے لیے جانوروں کی افزائش کو فروغ دینا ہوگا نیز بلوچستان کو جلد ماڈل صوبہ بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد میں جمعرات کو وول کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک اور دیگر اہم شخصیات کے ہمراہ آسٹریلیا کا دورہ کیا جس کے دوران انہیں ڈاکٹر عبدالمالک کی ملک کے ساتھ محبت، صوبہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے بے پناہ جذبہ دیکھنے میں ملا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران انہیں آسٹریلوی ماہرین کے تجربات سے استفادہ کا موقع بھی ملا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے ایسے علاقہ جات جن میں ترقی کے لیے بہت زیادہ پوٹینشل موجود ہے ان میں بلوچستان، رینج لینڈز، تھرپارکر، فاٹا، گلگت بلتستان، سندھ، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے کچے کے حصے بھی شامل ہیں۔
وفاقی وزیر نے توقع ظاہر کی کہ حکومت اپنے وسائل کو پاکستان کے نظر انداز علاقہ جات میں لائیو اسٹاک و ڈیری ڈیولپمنٹ اور وول کی پیداوار بڑھانے کیلیے استعمال کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں اور فنڈنگ اداروں کے ساتھ مل کر وول ڈیولپمنٹ کمپنی قائم کرنے کے لیے جامع پلان مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس سلسلے میں بنیادی حیثیت بلوچستان کو حاصل ہوگی تاہم پاکستان کے دیگر علاقہ جات پربھی بھرپور توجہ مرکوز کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے لہٰذا اگر زیادہ سے زیادہ وسائل، تعاون، رہنمائی، جدید پیداواری صلاحیت، تکنیکی امداد اور ضروری فنڈز فراہم کر دی جائیں تو بلوچستان کو ملک میں وول پروڈکشن کے اعتبار سے نیشنل لیڈر بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آسٹریلین ماہرین پاکستان کادورہ کرچکے ہیں اور پاکستان بھی کسانوں، مویشی پال حضرات اور تکنیکی عملے پر مشتمل وفد مزید تربیت کیلیے جلد آسٹریلیا بھیج رہاہے۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ ہمارا بنیاد ی مقصد لائیو اسٹاک کی پیداوار کے طریقوں اور مارکیٹنگ میں مہارت کو بہتر بناکر زیادہ سے زیادہ آمدنی حاصل کرنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ انہیں بے حد خوشی ہوئی ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سال 2016 کو زراعت و لائیو اسٹاک کی ترقی کاسال قرار دیا ہے، وفاقی حکومت اس ضمن میں ان کے ساتھ بھرپور تعاون کریگی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ، سینیٹر طلحہٰ محمود، چیف سیکریٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ، آسٹریلوی ماہرین، پاکستانی سائنسدان، کاشتکار، ڈویژنل وضلعی انتظامی حکام، یونیورسٹی کے افسران اور طلبا وطالبات بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔