یمن کا بحران پارلیمنٹ کی غیر جانبدار رہنے کی متفقہ قرارداد

پاکستانی پارلیمنٹ نےحالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئےبالکل صحیح فیصلہ کیاکہ پاکستان کواس تنازع میں غیرجانبداررہناچاہیے

او آئی سی اور عرب لیگ پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فعال کردار ادا کرتے ہوئے اس مسئلے کا پرامن حل تلاش کریں۔ فوٹو : فائل

پاکستانی پارلیمنٹ نے یمن میں خانہ جنگی کے حوالے سے جمعے کو متفقہ طور پر قرار داد منظور کی جس میں سعودی کمان میں اتحاد کی عسکری کارروائی میں شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے ملک کو اس تنازع میں غیر جانبدار رہنے کا کہا گیا، قرار داد میں کہا گیا کہ یمن کے بحران کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ اور او آئی سی اپنا کردار ادا کریں، سعودی عرب اور حرمین الشریفین کی سلامتی کو خطرہ ہوا تو پاکستان ساتھ کھڑا ہوگا۔

سعودی عرب نے پاکستان سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں بری، بحری اور فضائی تعاون فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔ حکومت پاکستان نے سعودی عرب کو اس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا تاہم وزیراعظم نے دیگر جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے لیے چھ اپریل کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین نے پانچ روز تک یمن کی صورت حال میں پاکستان کے متوقع کردار پر کھل کر بات چیت کی، تمام سیاسی جماعتوں نے پاکستان کواس تنازع سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں شریک ہونے سے ملک کے مسائل میں اضافہ ہو جائے گا ۔

جس کا وہ متحمل نہیں ہو سکتا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جمعے کو بارہ نکات پر مشتمل قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرار داد ایوان میں موجود جماعتوں کے نمایندوں کے اتفاق رائے کے بعد تیار کی گئی ہے۔

قرار داد میں کہا گیا کہ ایوان سمجھتا ہے کہ یمن میں جاری جنگ کی نوعیت فرقہ وارانہ نہیں تاہم اس کے فرقہ وارانہ تنازع میں تبدیل ہونے کے امکانات موجود ہیں جس کے پاکستان سمیت خطے میں سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ قرار داد میں کہا گیا کہ حکومت پاکستان یمن کے معاملے پر غیر جانبدار رہے اور وہاں فوری جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور او آئی سی میں کردار ادا کرے۔

جب یمن کا بحران پیدا ہوا تو اس وقت بعض حلقوں کی جانب سے پوری شد و مد سے یہ آواز اٹھائی جانے لگی کہ پاکستان کو اس نازک موقع پر سعودی عرب کی بھرپور مدد کرنا چاہیے کیونکہ وہ ہمارا برادر اسلامی ملک ہے جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی بھرپور مددکی اور کبھی اسے تنہا نہیں چھوڑا۔ یہ صورت حال بڑی نازک اور مشکل تھی کیونکہ اگر پاکستان یمن کے بحران میں شریک ہوتا تو اس سے پورے خطے میں فرقہ وارانہ تنازعات کے جنم لینے کا امکان تھا اور اگر پاکستان سعودی عرب کو انکار کرتا ہے تو اس سے اس کے ناراض ہونے کا خدشہ بھی اپنی جگہ موجود تھا۔


پاکستانی پارلیمنٹ نے حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے بالکل صحیح فیصلہ کیا کہ پاکستان کو اس تنازع میں غیرجانبدار رہنا چاہیے، اسے اقوام متحدہ اور او آئی سی کے ذریعے حل کیا جائے۔ یمن پاکستان کا نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کا مسئلہ ہے اور سب اسلامی ممالک کو مل کر اسے حل کرنا چاہیے۔

عملاً پاکستان نے سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کرنے سے انکار تو کر دیا ہے مگر ساتھ ہی یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ اگر سعودی عرب کی علاقائی سالمیت یا حرمین الشریفین کو کسی قسم کے خطرے کا سامنا ہوا تو پاکستان اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کے انکار کے بعد سعودی عرب کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے اور مستقبل میں دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات میں کوئی فرق آتا ہے یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر پاکستان نے اس مشکل صورت حال سے بچ کر نکلنے کی جو کامیاب حکمت عملی اپنائی ہے وہ بالکل درست ہے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعے کو اسلام آباد میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے ملاقات کے موقع پر اس خدشے کا اظہار کیا کہ یمن کا یہ بحران مسلم امہ کے اتحاد کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے، مسلم ممالک کی قیادت کو اس مسئلے کے مذاکراتی حل کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے بھی کہا ہے کہ یمن کی نازک صورت حال پر حکومت اسلامی سربراہی کانفرنس بلائے۔

یہ بالکل صائب تجویز ہے کہ تمام اسلامی ممالک کو مل کر اس مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا چاہیے کیونکہ بعض حلقے ان خدشات کا مسلسل اظہار کر رہے ہیں کہ اگر اس بحران پر قابو نہ پایا گیا تو اس سے پورا مشرق وسطیٰ متاثر ہو سکتا ہے جو مسلم امہ کے اتحاد کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔

گزشتہ دنوں وزیراعظم پاکستان نے ترکی کا دورہ کیا اس موقع پر دونوں ملکوں میں اتفاق رائے پایا گیا کہ یمن کے مسئلے کا پرامن سیاسی حل تلاش کیا جائے۔ یہ خدشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک اس جنگ میں شریک ہوتے ہیں تو یہ جنگ ختم ہونے کے بجائے فرقہ وارانہ تنازعے کی صورت میں پھیل کران ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

پاکستانی حکومت کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی پارلیمنٹ نے متفقہ قرار داد منظور کرتے ہوئے اس تنازع میں غیرجانبدار رہنے کا فیصلہ کر کے درست جانب قدم اٹھایا ہے۔ او آئی سی اور عرب لیگ پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فعال کردار ادا کرتے ہوئے اس مسئلے کا پرامن حل تلاش کریں۔
Load Next Story