سیاسی سجادہ نشینی

ہماری مخلص اور عوام دوست سیاسی مڈل کلاس کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

مشکلات سے دوچار عوام اپنی مشکلات کو ختم کرنے اور ایک آسودہ زندگی گزارنے کی شعوری یا غیر شعوری خواہش تو رکھتے ہیں لیکن اس خواہش کی تکمیل کیسے ہو، اس کا انھیں ادراک نہیں ہوتا اس لاعلمی ہی کی وجہ ہوتی ہے کہ وہ ہر اس شخص کے پیچھے چل پڑتے ہیں جو انھیں اس مشکل اور کلفت بھری زندگی سے نجات دلانے کا وعدہ کرتا ہے۔ یہ دھوکہ دہی اور سادہ لوحی کا ایک ایسا کھیل ہے جو پاکستان میں 68 سالوں سے جاری ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کھیل کا اختتام کرنے والی مڈل کلاس اس کھیل کے بڑے کھلاڑیوں یعنی اشرافیہ کی ایجنٹی کا کام انجام دے رہی ہے۔ مڈل کلاس کے اس کردار کی وجہ ہماری اجتماعی زندگی ایک ایسے جمود کا شکار ہو گئی ہے جس میں حرکت و ہلچل کا دور دور تک پتہ نہیں چلتا۔

مڈل کلاس کی اہمیت اور اس کے اس حوالے سے مثبت کردار کی توقع اس لیے رکھی جاتی ہے کہ وہ عام سادہ لوح آدمی کے مقابلے میں سیاسی حالات کا بہتر ادراک رکھتی ہے اور اسی خوبی کی وجہ اس کلاس سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ فکری یا سیاسی جمود کے اس تالاب میں ہلچل مچائے گی لیکن برا ہو اس معاشی نظام کا جس میں انسان کی اولین ترجیح حصول دولت بن گئی ہے اور مڈل کلاس خواہ اس کا تعلق کسی شعبے سے ہو ایلیٹ کے ساتھ نظر آ رہی ہے۔ قلم انسان کے ہاتھ میں ایک دو دھاری تلوار کی حیثیت رکھتا ہے اگر قلمکار قلم کی حرمت سے آشنا ہے تو وہ اپنے قلم کا استعمال اس جمود کو توڑنے کے لیے استعمال کرتا ہے اگر قلمکار ضمیر اور قلم فروش ہو تو اس جمود کو موت میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے اور اسے اس بات کا احساس تک نہیں رہتا کہ وہ اپنا قلم محض اپنے معاشی مفاد کے لیے استرے کی طرح استعمال کر رہا ہے اس کے نتائج کس قدر بھیانک ہوتے ہیں۔ حکمرانوں کی کاسہ لیسی اس ڈھٹائی سے کی جا رہی ہے کہ پڑھنے والے شرمندہ ہو جاتے ہیں۔

اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ یہ چاپلوس کلاس سرکار کی مہربانی سے ہر شعبے کی صف اول میں نظر آتی ہے اور شرافت اور دانشوری کا چولا اوڑھے ہوئے سادہ لوح عوام کو مستقل دھوکہ دیتی رہتی ہے اس کلاس کو نام سے نہیں بلکہ اس کے قلم اس کی کارکردگی سے پہچانا جاتا ہے اس کلاس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ کلاس عوام میں ذہنی انتشار پیدا کرتی ہے۔ پاکستان 68 سالوں سے جس سیاسی جمود کا شکار ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایلیٹ زندگی کے دوسرے شعبوں کے ساتھ ساتھ سیاست پر اس مضبوطی سے قبضہ جمائے بیٹھی ہے کہ اس سسٹم میں تبدیلی کے دور دور تک آثار نظر نہیں آتے۔

سیاسی مڈل کلاس جب سیاسی ایلیٹ سے پنگا لیتی ہے تو اس کا مقصد عوام کو اس مافیا سے چھٹکارا دلانا نہیں ہوتا بلکہ اسے عوام کی طاقت سے پیچھے دھکیل کر اس کی جگہ لینا ہوتا ہے دولت اور اقتدار کی خواہش ہر جگہ ایک دوسرے کی معاونت کرتے ہیں بے چارے عوام قدم قدم پر ان شعبدے بازوں اور مداریوں سے دھوکے کھاتے رہتے ہیں وہ ایک مداری کے سحر سے آزاد بھی نہیں ہو پاتے کہ دوسرا مداری ہاتھوں میں ایک نئی ڈگڈگی تھامے عوام کے سامنے آ جاتا ہے اور عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے اپنے آپ کو ایلیٹ کا دشمن ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔


یہ شرمناک کھیل اس لیے کامیابی سے جاری ہے کہ وہ سیاسی مڈل کلاس جو خلوص نیت سے اس 68 سالہ جمود کو توڑنا چاہتی ہے وہ نظریاتی بھول بھلیوں میں اس قدر گم ہے کہ اسے یہ احساس تک نہیں کہ ایک صدی ایک بہت بڑا عرصہ ہوتی ہے اس عرصے میں دنیا بدل جاتی ہے اور دنیا کے تقاضے بدل جاتے ہیں لیکن لکیر کی فقیری کرنے والی سیاسی مڈل کلاس کو اس کا بالکل احساس نہیں ہوتا کہ وقت بدل گیا ہے وقت کے تقاضے بدل گئے ہیں منزل بہرحال ایک ہی ہے لیکن منزل تک پہنچنے کے راستے بدل گئے ہیں۔ اس ذہنی انتشار کی وجہ سے ہماری مخلص سیاسی مڈل کلاس اپنے وقت اور اپنے تھوڑے سے وسائل کا زیاں کر رہی ہے۔

اس منجمد سیاست کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ بدلے ہوئے حالات کو پیش نظر رکھ کر اپنی افرادی قوت اور وسائل کے استعمال کی ایسی منصوبہ بندی کی جائے ایسی حکمت عملی بنائی جائے کہ سیاست اور اقتدار پر سے ایلیٹ کی اجارہ داری ختم ہو۔ دنیا کی طرح ہمارے ملک میں بھی غربت کی وجہ یہ ہے کہ ملک کی دولت کا 80 فیصد حصہ مجموعی طور پر صرف 20 فیصد لوگوں کے ہاتھوں میں جمع ہو گیا ہے اس دولت پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے اقتدار پر قبضہ ضروری ہے۔ چونکہ ایلیٹ اور اقتدار مافیا کی ایک نسل اب بڑھاپے کی طرف جا رہی ہے تو اسے فکر لاحق ہے کہ اقتدار اور لوٹ مار کا یہ سلسلہ جاری رکھنے کے لیے اس نئی نسل کا آگے آنا ضروری ہے اور یہ مافیا عوام کی دولت کے استعمال سے اپنی نئی نسل کو ملک و قوم کی نجات دہندہ ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

ہماری مخلص اور عوام دوست سیاسی مڈل کلاس کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ اس قبضہ مافیا سے عوام کو نجات دلانے کے لیے قبضہ مافیا کی نئی نسل کو آگے آنے سے روکنا ضروری ہے حیرت اور شرم کی بات یہ ہے کہ عوام کو اس ظالمانہ استحصالی نظام سے نجات دلانے کی اندھی جدوجہد میں اپنے بال سفید کرنے والی یہ سیاسی مڈل کلاس ابھی تک نہ اہم قومی مسائل کا تعین کر سکی ہے نہ اس حوالے سے کوئی منصوبہ بندی اور حکمت عملی طے کر سکی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ''مخلص کلاس'' اندھیرے میں اس طرح دوڑ لگا رہی ہے کہ اس کا رخ آگے کے بجائے پیچھے کی طرف ہے۔ وہ کامیابیوں کے بجائے مسلسل ناکامیوں اور مایوسیوں سے دوچار ہے۔

ہم نے بارہا ان ہی کالموں میں اس حقیقت کی نشاندہی کی ہے کہ جب تک اہم قومی مسائل کا تعین اور ان کے حل کے لیے ایک جامعہ منصوبہ بندی اور ایک موثر حکمت عملی نہیں بنائی جاتی یوں ہی اندھیروں میں بھٹکنا ہماری مخلص سیاسی مڈل کلاس کا مقدر ہو گا۔ ہماری سیاست اور اقتدار پر جو کلاس 68 سال سے قبضہ جمائے بیٹھی ہے وہ آنکھوں سے اوجھل نہیں ہے ہماری آنکھوں کے سامنے ہے بلکہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لوٹ مار کا بازار گرم کیے ہوئے ہے۔ یہ کلاس ہے وڈیرہ شاہی اور اس کی پارٹنر ہے صنعتی اشرافیہ۔ ان دونوں نے اس بات پر گٹھ جوڑ کر لیا ہے کہ اقتدار اور لوٹ مار کے اس بے شرمانہ کھیل کو جاری رکھنے کے لیے اپنی نئی نسل کو سیاسی سجادہ نشین بنانا ضروری ہے اس گٹھ جوڑ پر عملدرآمد کے لیے جو زبردست پروپیگنڈہ مہم چلائی جا رہی ہے اس پر عوام کی کمائی کے اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔

کیا ہماری مخلص اور عوام دوست سیاسی مڈل کلاس کو یہ احساس نہیں ہے کہ بے ایمان اور عوام دشمن اشرافیہ اس ملک اور اس ملک کے عوام پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے سیاسی سجادہ نشینی کا خطرناک کھیل کھیل رہی ہے؟ اگر ہماری محترم مخلص اور عوام دوست سیاسی مڈل کلاس ان بدنما حقائق کا ادراک رکھتی ہے تو پھر عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ اس حوالے سے کیا کر رہی ہے؟
Load Next Story