کراچی کا ضمنی الیکشن یا تبدیلی کا پیامبر
دشمن نہیں چاہتے کہ کراچی پر امن ہو، تشدد سے پاک کراچی ان کے مکروہ عزائم کی تکمیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
امید اور دعا کرنی چاہیے کہ کراچی کے مقدر میں 23 اپریل کا ضمنی الیکشن خوشیوں کا پیامبر ہو۔ فوٹو : محمد عظیم / ایکسپریس
NEW DELHI:
یہ ایک غیر معمولی، دلچسپ اور ڈرامائی صورتحال ہے کہ انتخابی ایشو کے حوالے سے بدامنی کے زخموں سے چور کراچی دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور نہ صرف ملکی انتخابی پنڈت اور ماہر تجزیہ کار بلکہ عالمی مبصرین اور غیرملکی میڈیا کے شاہین بھی ملک کے اقتصادی انجن اور تجارتی و کاروباری حب کراچی کے حلقہ این اے 246 کی انتخابی مہم پر نظریں مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ بلاشبہ منی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو رہا ہے۔
اس نشست پر جو ایم کیو ایم کے سابق رہنما نبیل گبول کے اچانک مستعفی ہونے کے بعد خالی ہوئی ہے ۔ تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی جماعتیں الیکشن لڑ رہی ہیں تاہم اصل معرکہ آرائی ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان ہے۔ ایم کیو ایم کے امیدوار کنور نوید جمیل، تحریک انصاف کے عمران اسماعیل، جماعت اسلامی کے راشد نسیم اور آزاد امیدوار محفوظ یار خان الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
گزشتہ روز تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کراچی آئے، شاندار ریلی نکالی، جناح گراؤنڈ کا جائزہ لیا، ان کی اہلیہ ریحام خان بھی عزیز آباد آئیں، عمران خان نے جناح گراؤنڈ میں شاندار استقبال پر کراچی والوں کا شکریہ ادا کیا، انھوں نے کہا کہ ہم نے کراچی کو پر امن شہر بنانا ہے، کارکن کسی بھی قسم کے تصادم سے گریز کریں، خوش آیند بریک تھرو یہ ہوا کہ اس موقع پر کچھ تشدد آمیز واقعات بھی ہوئے مگر دونوں جماعتوں نے کمال تدبر سے حالات کو سنبھال لیا، عمران کی اپیل بھی سنی گئی کہ ایم کیو ایم کو اپنا امیج بدلنا اور مسلح ونگ ختم کرنا چاہیے تا کہ وہ قومی دھارے میں شامل ہو جائے۔
ایم کیو ایم بسم اللہ کرے، مین اسٹریم اس کا منتظر ہے۔ خدا کا شکر کہ اس دوران کوئی 12 مئی نہیں ہوا بلکہ اس سے کراچی کی دو بڑی سیاسی جماعتوں میں رواداری اور کراچی کو امن کا شہر بنانے کے عہد کی گونج سنائی دی۔ یہ منظر بھی حیران کن تھا کہ عمران خان ،ان کی اہلیہ اور دیگر رہنما اور کارکن ریلی کی شکل میں جناح گراؤنڈ پہنچے تو ایم کیو ایم کے کارکنوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے استقبال کیا۔
قبل ازیں عمران خان نے انتخابی مہم کے آغاز پر کہا کہ الطاف حسین کا بیان اچھا ہے اسے خوش آمدید کہتا ہوں، کراچی میں پھول برسائے جائیں اور فضائیں اچھی ہوں،یہ پاکستان کے لیے اچھا ہے۔ الطاف حسین کی طرف سے جو بھی تحفہ ملے گا شوکت خانم اسپتال کو عطیہ کر دوں گا۔
ادھر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر فاروق ستار نے پر تشدد واقعے کے حوالے سے کہا ہے کہ عمران خان کی جناح گراؤنڈ آمد کے وقت پیش آنے والے چھوٹے ناخوشگوار واقعے میں متحدہ کے کارکنوں کے ملوث ہونے کے تاثرات غلط ہیں، عمران خان نے اپنی انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز ایم کیو ایم کے شہدا کی یادگار سے کیا۔
جس سے کارکنوں کے جذبات کو تقویت ملی ہے، ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی، سینٹرل ایگزیکٹو کونسل اور ارکان اسمبلی سمیت کارکنوں نے الطاف حسین کی ہدایت پر عمران خان، ان کی اہلیہ ریحام خان اور قافلے کے شرکا کو خوش آمدید کہا، اپنی روایتی مہمان نوازی کا ثبوت دیا، کنور نوید جمیل نے کہا کہ سیاست میں رواداری اور بردباری سے جمہوریت کو فروغ ملتا ہے، الطاف حسین کی جانب سے عمران خان اور ان کی اہلیہ کے لیے لائے گئے تحائف امانتاً رکھے ہیں۔
حیدر عباس رضوی نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایک جماعت نے دوسری جماعت کے مرکز پر جلسہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہو اور اتنے بڑے معاملے میں چھوٹے تصادم کو بڑا نہیں بنانا چاہیے کیو نکہ اس میں ایم کیو ایم والے ملوث نہیں تھے اور نہ پی ٹی آئی والے بلکہ یہ شرپسندوں کا مذموم کارنامہ تھا ۔
یہ تاثرات بے مثال ہیں جب کہ دونوں جماعتوں کی قیادت اور کارکنوں نے بدمزگی اور بد نظمی کے واقعے کے بعد جس جمہوری افہام و تفہیم کا مظاہرہ کیا اسے الیکشن تک جاری رہنا چاہیے یہ اہم تبدیلی ہے، اس کا ردھم اور ٹیمپو سدا برقرار رہنا چاہیے، انگریزی میں کہتے ہیں کہ ''دیر از مینی اے سلپ بٹوین دی کپ اینڈ دی لپ''۔ دشمن نہیں چاہتے کہ کراچی پر امن ہو، تشدد سے پاک کراچی ان کے مکروہ عزائم کی تکمیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
منی پاکستان میں طالبان، کالعدم تنظیموں، کرمنل عناصر اور عالمی مافیاؤں کے زرخرید ایجنٹوں کی کوشش ہے کہ مائی کولاچی کا وارث میگا سٹی اور ایک روادار، بندہ نواز، اہل وطن کا مستانہ ماہی جیسا آزاد، بے خوف اور سیاسی شعور و تحمل کا آئینہ دار معاشی مرکز تباہ و برباد ہو، ٹارگٹ کلنگ ہوتی رہے، اس لیے وفاقی و سندھ حکومت، سارے سیاسی اسٹیک ہولڈرز اور سول سوسائٹی کا فرض ہے کہ وہ کراچی کو امن کا گہوارہ بنائیں۔
اگر پی ٹی آئی اور متحدہ قومی موومنٹ سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اتحاد، سیاسی اشتراک عمل اور رواداری و مفاہمانہ حکمت عملی سے کام لیا تو این اے 246 کا ضمنی الیکشن تو ایک استعارہ بن جائے گا امن کی طرف لوٹنے کا۔ امید اور دعا کرنی چاہیے کہ کراچی کے مقدر میں 23 اپریل کا ضمنی الیکشن خوشیوں کا پیامبر ہو۔
یہ ایک غیر معمولی، دلچسپ اور ڈرامائی صورتحال ہے کہ انتخابی ایشو کے حوالے سے بدامنی کے زخموں سے چور کراچی دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور نہ صرف ملکی انتخابی پنڈت اور ماہر تجزیہ کار بلکہ عالمی مبصرین اور غیرملکی میڈیا کے شاہین بھی ملک کے اقتصادی انجن اور تجارتی و کاروباری حب کراچی کے حلقہ این اے 246 کی انتخابی مہم پر نظریں مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ بلاشبہ منی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو رہا ہے۔
اس نشست پر جو ایم کیو ایم کے سابق رہنما نبیل گبول کے اچانک مستعفی ہونے کے بعد خالی ہوئی ہے ۔ تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی جماعتیں الیکشن لڑ رہی ہیں تاہم اصل معرکہ آرائی ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے درمیان ہے۔ ایم کیو ایم کے امیدوار کنور نوید جمیل، تحریک انصاف کے عمران اسماعیل، جماعت اسلامی کے راشد نسیم اور آزاد امیدوار محفوظ یار خان الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
گزشتہ روز تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کراچی آئے، شاندار ریلی نکالی، جناح گراؤنڈ کا جائزہ لیا، ان کی اہلیہ ریحام خان بھی عزیز آباد آئیں، عمران خان نے جناح گراؤنڈ میں شاندار استقبال پر کراچی والوں کا شکریہ ادا کیا، انھوں نے کہا کہ ہم نے کراچی کو پر امن شہر بنانا ہے، کارکن کسی بھی قسم کے تصادم سے گریز کریں، خوش آیند بریک تھرو یہ ہوا کہ اس موقع پر کچھ تشدد آمیز واقعات بھی ہوئے مگر دونوں جماعتوں نے کمال تدبر سے حالات کو سنبھال لیا، عمران کی اپیل بھی سنی گئی کہ ایم کیو ایم کو اپنا امیج بدلنا اور مسلح ونگ ختم کرنا چاہیے تا کہ وہ قومی دھارے میں شامل ہو جائے۔
ایم کیو ایم بسم اللہ کرے، مین اسٹریم اس کا منتظر ہے۔ خدا کا شکر کہ اس دوران کوئی 12 مئی نہیں ہوا بلکہ اس سے کراچی کی دو بڑی سیاسی جماعتوں میں رواداری اور کراچی کو امن کا شہر بنانے کے عہد کی گونج سنائی دی۔ یہ منظر بھی حیران کن تھا کہ عمران خان ،ان کی اہلیہ اور دیگر رہنما اور کارکن ریلی کی شکل میں جناح گراؤنڈ پہنچے تو ایم کیو ایم کے کارکنوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے استقبال کیا۔
قبل ازیں عمران خان نے انتخابی مہم کے آغاز پر کہا کہ الطاف حسین کا بیان اچھا ہے اسے خوش آمدید کہتا ہوں، کراچی میں پھول برسائے جائیں اور فضائیں اچھی ہوں،یہ پاکستان کے لیے اچھا ہے۔ الطاف حسین کی طرف سے جو بھی تحفہ ملے گا شوکت خانم اسپتال کو عطیہ کر دوں گا۔
ادھر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر فاروق ستار نے پر تشدد واقعے کے حوالے سے کہا ہے کہ عمران خان کی جناح گراؤنڈ آمد کے وقت پیش آنے والے چھوٹے ناخوشگوار واقعے میں متحدہ کے کارکنوں کے ملوث ہونے کے تاثرات غلط ہیں، عمران خان نے اپنی انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز ایم کیو ایم کے شہدا کی یادگار سے کیا۔
جس سے کارکنوں کے جذبات کو تقویت ملی ہے، ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی، سینٹرل ایگزیکٹو کونسل اور ارکان اسمبلی سمیت کارکنوں نے الطاف حسین کی ہدایت پر عمران خان، ان کی اہلیہ ریحام خان اور قافلے کے شرکا کو خوش آمدید کہا، اپنی روایتی مہمان نوازی کا ثبوت دیا، کنور نوید جمیل نے کہا کہ سیاست میں رواداری اور بردباری سے جمہوریت کو فروغ ملتا ہے، الطاف حسین کی جانب سے عمران خان اور ان کی اہلیہ کے لیے لائے گئے تحائف امانتاً رکھے ہیں۔
حیدر عباس رضوی نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ایک جماعت نے دوسری جماعت کے مرکز پر جلسہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ہو اور اتنے بڑے معاملے میں چھوٹے تصادم کو بڑا نہیں بنانا چاہیے کیو نکہ اس میں ایم کیو ایم والے ملوث نہیں تھے اور نہ پی ٹی آئی والے بلکہ یہ شرپسندوں کا مذموم کارنامہ تھا ۔
یہ تاثرات بے مثال ہیں جب کہ دونوں جماعتوں کی قیادت اور کارکنوں نے بدمزگی اور بد نظمی کے واقعے کے بعد جس جمہوری افہام و تفہیم کا مظاہرہ کیا اسے الیکشن تک جاری رہنا چاہیے یہ اہم تبدیلی ہے، اس کا ردھم اور ٹیمپو سدا برقرار رہنا چاہیے، انگریزی میں کہتے ہیں کہ ''دیر از مینی اے سلپ بٹوین دی کپ اینڈ دی لپ''۔ دشمن نہیں چاہتے کہ کراچی پر امن ہو، تشدد سے پاک کراچی ان کے مکروہ عزائم کی تکمیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
منی پاکستان میں طالبان، کالعدم تنظیموں، کرمنل عناصر اور عالمی مافیاؤں کے زرخرید ایجنٹوں کی کوشش ہے کہ مائی کولاچی کا وارث میگا سٹی اور ایک روادار، بندہ نواز، اہل وطن کا مستانہ ماہی جیسا آزاد، بے خوف اور سیاسی شعور و تحمل کا آئینہ دار معاشی مرکز تباہ و برباد ہو، ٹارگٹ کلنگ ہوتی رہے، اس لیے وفاقی و سندھ حکومت، سارے سیاسی اسٹیک ہولڈرز اور سول سوسائٹی کا فرض ہے کہ وہ کراچی کو امن کا گہوارہ بنائیں۔
اگر پی ٹی آئی اور متحدہ قومی موومنٹ سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اتحاد، سیاسی اشتراک عمل اور رواداری و مفاہمانہ حکمت عملی سے کام لیا تو این اے 246 کا ضمنی الیکشن تو ایک استعارہ بن جائے گا امن کی طرف لوٹنے کا۔ امید اور دعا کرنی چاہیے کہ کراچی کے مقدر میں 23 اپریل کا ضمنی الیکشن خوشیوں کا پیامبر ہو۔