معاشی ترقی کیسے ممکن ہو

پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ضروری ہے کہ بے جا قسم کی قانونی رکاوٹوں کو دور کیا جائے

پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ضروری ہے کہ بے جا قسم کی قانونی رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ فوٹو: فائل

موجودہ جمہوری سیٹ اپ چند ماہ بعد اپنی آئینی مدت پوری کر لے گا۔

ملک میں اس وقت انتخابی ماحول کی کیفیت ہے۔ سیاسی جماعتیں انتخابی جوڑ توڑ بھی کر رہی ہیں ، جلسے جلوس بھی ہو رہے ہیں۔چیف الیکشن کمشنر کا تقرر ہوچکا ہے اور ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ان کی تقرری پر اعتماد کا اظہار کرچکی ہیں۔اگلا مرحلہ نگران حکومت کے قیام کا ہے جو خوش اسلوبی سے طے ہوتا نظر آرہا ہے۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری کر رہی ہے' اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں جمہوری عمل جاری و ساری رہے گا۔ موجودہ حکومت کے ساڑھے چار برسوں کے دوران عدلیہ و حکومت کے درمیان مختلف مقدمات کے حوالے سے کشیدگی بھی رہی جو اب تک کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔

بلوچستان کا بحران بھی ماضی کی نسبت زیادہ شدت سے سامنے آیا' اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں لاپتہ افراد کا کیس بھی چل رہا ہے۔ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل بھی پیش ہوئے' ان کے بیانات بھی اخبارات کی زینت بنے' یہ ایک مثبت تبدیلی تھی۔ اختر مینگل کا اسلام آباد میں ہونا اور سیاسی رہنمائوں سے ملاقاتیں کرنا' ملکی سیاست کے لیے خوش کن ثابت ہو سکتا ہے۔ بلوچستان کے بارے میں فاضل جج صاحبان کے ریمارکس بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کی قیادت نے بھی بلوچستان کے بارے میں اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ مسلم لیگ ن ' تحریک انصاف نے بھی اپنا موقف پیش کیا۔ اس دوران سندھ میں بلدیاتی آرڈیننس بھی آیا اور سندھی قوم پرستوں کے تحفظات بھی سامنے آئے۔ حکومت نے اگلے روز نیا احتساب بل بھی پارلیمنٹ میں پیش کر دیا۔ ان تمام تبدیلیوں اور سرگرمیوں پر غور کیا جائے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ سب معاملات سیاسی و آئینی نوعیت کے ہیں۔ ان اقدامات کے معیشت پر بھی زبردست اثرات پڑے اور پاکستان کی معیشت کی ترقی سست رفتار ہوئی۔

ادھر وفاقی سطح پر کوئی ایسی مربوط معاشی پالیسی بھی دیکھنے میں نہیں آئی جس کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ حکومت واقعی معیشت کو بہتر بنانے میں سنجیدہ ہے۔ حکومت کی ساڑھے چار سال کے دوران ساری توجہ سیاسی جوڑ توڑ پر مرکوز رہی اور ملکی معیشت کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی گئی۔ ارباب اختیار اپنی ہر تقریر اور بیان میں یہ تو کہتے رہے کہ ملک میں ترقی کا بے پناہ پوٹینشل ہے لیکن اس پوٹینشل کو استعمال کرنے کے لیے عملی اقدام سامنے نہیں آ سکے۔


اگلے روز صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایوان صدر میں ینگ پریزیڈنٹس آرگنائزیشن کے عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں موجود بے پناہ معاشی پوٹینشل، پاکستان کی اسٹرٹیجک لوکیشن، معدنی وسائل اور ہنر مند افرادی قوت کو ملک کی ترقی اور عوام کی بہبود کے لیے استعمال کیا جائے۔ انھوں نے کہا حکومت کی طرف سے اسپیشل اکنامک زون بل2012 کاروبار اور سرمایہ کار دوست ماحول کے قیام کے لیے اہم ہے جس سے امید ہے کہ کاروباری فائدے ہوں گے اور روزگار فراہم ہوں گے۔

قانون کے تحت پوری اشیاء، مشینری اور آلات کو ایک دفعہ کے لیے کسٹم ڈیوٹیز سے استثنیٰ ہوگا اور دس سال کے لیے اس پر کوئی انکم ٹیکس نہیں ہوگا، ان تراغیب کو قانونی تحفظ دیا جائے گا جس سے معاشی پالیسیوں کو استحکام ملے گا اور ملک کی صنعتی اساس بڑھے گی۔ صدر نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک جمہوری منتخب حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی، حکومت پارلیمنٹ کی مضبوطی کو بھرپور ترجیح دیتی ہے۔ پاکستان مضبوط اور طاقتور پارلیمنٹ کے ذریعے زیادہ مستحکم ہوگا۔

صدر مملکت کی یہ باتیں غلط نہیں ہیں۔ پاکستان میں ترقی کا بے پناہ پوٹینشل ہے۔ پاکستانی ہنر مند بیرون ملک اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ اس ملک میں بہترین ڈاکٹرز اور انجینئرز کی کمی نہیں۔ سائنس کے دوسرے شعبوں کے ماہرین بھی موجود ہیں۔ ہمارا یہ بہترین اثاثہ امریکا' یورپ اور دوسرے ممالک میں فرائض انجام دے کر وہاں کی سماجی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے' اگر پاکستان میں انھیں سہولتیں ملیں تو یہ لوگ یہاں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقعے ہیں۔

پاکستانی اور غیر ملکی سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری کر کے اچھا خاصا منافع بھی کما سکتے ہیں اور اس ملک کی ترقی میں اپنا کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ ایک جانب امن و امان کی صورتحال مخدوش ہے' دہشت گردی نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور دوسری طرف سرخ فیتہ ہے جو سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ضروری ہے کہ بے جا قسم کی قانونی رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ بیورو کریسی کے اختیارات جتنے کم ہوں گے' سرمایہ دار کے لیے کام کرنا اتنا ہی آسان ہو جائے گا۔

اسی طرح حکومت کی یہ اولین ذمے داری ہونی چاہیے کہ وہ ملک میں قیام امن کے لیے کام کرے۔ خیبر پختونخوا ، اس کے قبائلی علاقے اور بلوچستان میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقعے ہیں لیکن یہاں حکومت کی رٹ کمزور ہے، قبائلی علاقوں میں تو کوئی سرمایہ کار جا ہی نہیں سکتا،لے دے کہ پنجاب اور کراچی بچتا ہے، جہاں سرمایہ کاری ہوسکتی ہے، ان دو خطوں کی بنیاد پر پورے ملک کو خوشحال بنانا نا ممکن ہے۔پاکستان کی سیاسی قیادت کو اب نعرے بازی اور مفادات کی سیاست کو پس پشت ڈال کر زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر سیاست کرنی چاہیے ۔جب تک ہم عملی حقیقتوں کو تسلیم کر کے معاشی اور سیاسی نظام تشکیل نہیں دیا جاتا ملکی معیشت خوشحال نہیں ہو سکتی۔
Load Next Story