بچت اسکیموں کو پرکشش بنانے کی ضرورت

پالیسی ریٹ میں 0.50 فیصد کمی کے بعد بینکوں کے ٹرم ڈپازٹ پر بھی منافع کی شرح میں کمی واقع ہو جائے گی

عالمی سطح پر قومی بچتوں کی اوسط شرح 22 فیصد رہی جب کہ پاکستان کو سات فیصد شرح نمو حاصل کرنے کے لیے بچتوں کی شرح میں تیس فیصد تک اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل

جی ڈی پی کسی بھی ملک کی ترقی کو جانچنے کا ایک پیمانہ ہے۔گو اقتصادیات میں اب اس کی اتنی اہمیت نہیں ہے لیکن پھر بھی اسے اہمیت دی جاتی ہے۔

پاکستان خطے میں اپنا موازنہ بھارت اور چین سے کرتا ہے۔اس وقت وقت صورتحال یہ ہے کہ چین اور بھارت دونوں کی جی ڈی پی گروتھ ریٹ پاکستان کے مقابلے کہیں زیادہ ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں قومی بچتوں کی شرح 13.8 فیصد کے قریب ہے جو کہ گزشتہ سال کی 15.4 فیصد شرح میں بھی کم تھی۔ عالمی سطح پر قومی بچتوں کی اوسط شرح 22 فیصد رہی جب کہ پاکستان کو سات فیصد شرح نمو حاصل کرنے کے لیے بچتوں کی شرح میں تیس فیصد تک اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے سود کی شرح میں کمی کے بعد قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں بھی کمی ہو نے کی اطلاعات گردش کررہی ہیں۔


دو ماہ قبل بھی حکومت نے قومی بچت کی اسکیموں میں 0.80 فیصد کمی کی تھی۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق بچت اسکیموں میں منافع میں کمی سے ان اسکیموں میں عوام کی دلچسپی کم ہو سکتی ہے۔ یہ اطلاعات بھی اخبارات میں آرہی ہیں کہ چھوٹے سرمایہ کاروں اور طالب علموں کو بھی، ان اسکیموں کی طرف راغب کرنے کی خاطر خصوصی بانڈز جاری کرنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ اسٹوڈنٹس ویلفیئر بانڈ 100روپے کی مالیت کا ہوگا۔یہ ایک اچھا فیصلہ ہے۔ بعض معروف ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی طرف سے پالیسی ریٹ میں 0.50 فیصد کمی کے بعد بینکوں کے ٹرم ڈپازٹ پر بھی منافع کی شرح میں کمی واقع ہو جائے گی۔

ایک بات جو عمومی تفہیم کے منافی ہے وہ یہ ہے کہ بچت اسکیموں میں بالعموم ریٹائرڈ لوگ اور بیوہ خواتین اپنی بچت رکھتی ہیں تا کہ ان کے کچن کے اخراجات چلتے رہیں۔ لیکن ان اسکیموں کی شرح منافع میں مسلسل کمی سے وہ لوگ اخراجات پورے کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ چھوٹی رقوم کی بچت کرنے والوں سے زیادہ ہمدردانہ سلوک کرے اور عوام میں بچت کلچر کو فروغ دینے کے لیے قومی بچت اسکیموں کو زیادہ پر کشش بنایا جائے۔
Load Next Story