افغانستان میں خانہ جنگی کے خدشات
افغان نیشنل آرمی ابھی تک پروفیشنل آرمی کا روپ نہیں دھار سکی
انٹرنیشنل کرائسز گروپ کی طرف سے افغانستان پر شایع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ نیٹو کے انخلاء کے بعد افغانستان کی حکومت ختم ہو سکتی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے لیے صدر اوباما نے جو ٹرائل فریم دیا ہے۔
وہ قریب آتا جا رہا ہے لیکن افغانستان کی صورت حال پر غور کیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ شاید امریکا اور نیٹو افواج کے طویل عرصے تک اس ملک میں قیام کرنا پڑے گا۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کی طرف سے افغانستان پر شایع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ نیٹو کے انخلاء کے بعد افغانستان کی حکومت ختم ہو سکتی ہے اور ملک ایک طویل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان پولیس اور فوج، جسے امریکی ماہرین کی زیر نگرانی تیار کیا گیا ہے، ان کی حربی صلاحیت اور تنظیمی استعداد کار ابھی تک قابل بھروسہ نہیں ہو سکی۔
اور نہ ہی وہ ذہنی طور پر ملکی سیکیورٹی کی بھاری ذمے داری اٹھانے پر تیار نظر آتی ہیں۔ یہ باتیں کسی حد تک درست بھی ہیں۔ افغانستان قبائل میں تقسیم سماج ہے۔ افغان نیشنل آرمی ابھی تک پروفیشنل آرمی کا روپ نہیں دھار سکی۔ اس میں شامل افراد قبائلی تعصبات کا بھی شکار ہیں اور ان کی ایک خاص قسم کی مذہبی اپروچ بھی ہے۔ جس کی وجہ سے اس فورس میں شامل سپاہی ڈسپلن کی خلاف ورزی بھی کرتے رہتے ہیں۔ادھر افغان حکومت کا موقف ہے کہ ہماری فورسز ملکی سلامتی اور خود مختاری کا بطریق احسن اور کماحقہ' دفاع کر سکتی ہیں۔
افغان صدر کے نائب ترجمان حامد علمی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری نے مستقبل میں افغانستان کی مکمل حمایت کا وعدہ کر رکھا ہے اور اگر اس وعدے کو وفا کیا جاتا ہے اور اس سے انحراف نہیں کیا جاتا تو 2014میں امریکی اعلان کے مطابق افغانستان سے نیٹو اور ایساف (انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورسز) کے انخلاء سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ افغان فورسز ملک کے امن و امان کو سنبھالنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
یہاں بعض تلخ حقائق ایسے ہیں جنھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور وہ یہ ہیں کہ خود امریکی میڈیا بھی تواتر کے ساتھ ایسی خبریں' رپورٹیں اور کیری کیچر وغیرہ شایع کر رہا ہے جن میں نئی قائم کی جانے والی افغان فوج اور پولیس کی صلاحیتوں پر شکوک و شبہات ظاہر کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں ایسے واقعات کی بھی کمی نہیں ہے جب مسلح افغان فوجی کسی معمولی بات سے برانگیختہ ہو کر نیٹو اور امریکی فوجیوں پر فائر کھول دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک اور حقیقت کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ جس عجلت کے ساتھ امریکا افغان فورسز کو تیار کر رہا ہے' اس قلیل مدت میں فوجیوں کی تربیت مکمل نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کٹھن کام کے لیے خاصا طویل وقت درکار ہوتا ہے۔
تاہم اس صورتحال کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے، بعض مبصرین کا اندازہ ہے کہ افغان فورسز کی ناپختگی کی خبریں پھیلانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ امریکا کو افغانستان میں طویل تر قیام کا بہانہ مل سکے اور امریکی فورسز 2014 کے بعد بھی اس ملک میں قیام کرتی رہیں۔ بہر حال پاکستان کو افغانستان کی صورت حال پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں ہونے والی تبدیلیاں براہ راست پاکستان پر اثرانداز ہوتی ہیں۔
وہ قریب آتا جا رہا ہے لیکن افغانستان کی صورت حال پر غور کیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ شاید امریکا اور نیٹو افواج کے طویل عرصے تک اس ملک میں قیام کرنا پڑے گا۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کی طرف سے افغانستان پر شایع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ نیٹو کے انخلاء کے بعد افغانستان کی حکومت ختم ہو سکتی ہے اور ملک ایک طویل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان پولیس اور فوج، جسے امریکی ماہرین کی زیر نگرانی تیار کیا گیا ہے، ان کی حربی صلاحیت اور تنظیمی استعداد کار ابھی تک قابل بھروسہ نہیں ہو سکی۔
اور نہ ہی وہ ذہنی طور پر ملکی سیکیورٹی کی بھاری ذمے داری اٹھانے پر تیار نظر آتی ہیں۔ یہ باتیں کسی حد تک درست بھی ہیں۔ افغانستان قبائل میں تقسیم سماج ہے۔ افغان نیشنل آرمی ابھی تک پروفیشنل آرمی کا روپ نہیں دھار سکی۔ اس میں شامل افراد قبائلی تعصبات کا بھی شکار ہیں اور ان کی ایک خاص قسم کی مذہبی اپروچ بھی ہے۔ جس کی وجہ سے اس فورس میں شامل سپاہی ڈسپلن کی خلاف ورزی بھی کرتے رہتے ہیں۔ادھر افغان حکومت کا موقف ہے کہ ہماری فورسز ملکی سلامتی اور خود مختاری کا بطریق احسن اور کماحقہ' دفاع کر سکتی ہیں۔
افغان صدر کے نائب ترجمان حامد علمی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری نے مستقبل میں افغانستان کی مکمل حمایت کا وعدہ کر رکھا ہے اور اگر اس وعدے کو وفا کیا جاتا ہے اور اس سے انحراف نہیں کیا جاتا تو 2014میں امریکی اعلان کے مطابق افغانستان سے نیٹو اور ایساف (انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورسز) کے انخلاء سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ افغان فورسز ملک کے امن و امان کو سنبھالنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
یہاں بعض تلخ حقائق ایسے ہیں جنھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور وہ یہ ہیں کہ خود امریکی میڈیا بھی تواتر کے ساتھ ایسی خبریں' رپورٹیں اور کیری کیچر وغیرہ شایع کر رہا ہے جن میں نئی قائم کی جانے والی افغان فوج اور پولیس کی صلاحیتوں پر شکوک و شبہات ظاہر کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں ایسے واقعات کی بھی کمی نہیں ہے جب مسلح افغان فوجی کسی معمولی بات سے برانگیختہ ہو کر نیٹو اور امریکی فوجیوں پر فائر کھول دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک اور حقیقت کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ جس عجلت کے ساتھ امریکا افغان فورسز کو تیار کر رہا ہے' اس قلیل مدت میں فوجیوں کی تربیت مکمل نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کٹھن کام کے لیے خاصا طویل وقت درکار ہوتا ہے۔
تاہم اس صورتحال کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے، بعض مبصرین کا اندازہ ہے کہ افغان فورسز کی ناپختگی کی خبریں پھیلانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ امریکا کو افغانستان میں طویل تر قیام کا بہانہ مل سکے اور امریکی فورسز 2014 کے بعد بھی اس ملک میں قیام کرتی رہیں۔ بہر حال پاکستان کو افغانستان کی صورت حال پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہاں ہونے والی تبدیلیاں براہ راست پاکستان پر اثرانداز ہوتی ہیں۔