امن تحریک کو دھچکا
بے نظیر کے دوسرے دور حکومت میں بعض قوتوں نے کراچی میں بھارتی قونصل خانے کو بند کرانے کے لیے مذموم مہم شروع کی
tauceeph@gmail.com
بھارت اور پاکستان کے درمیان خوشگوار تعلقات کی امید لگانے والوں کے لیے بری خبر ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ماہ کی 8 تاریخ کو ویزے کی پابندیوں کو نرم کرنے کے لیے جو معاہدہ ہوا تھا۔
پاکستان کی وزارت داخلہ ابھی اس پر عمل درآمد کے لیے تیار نہیں ہے مگر بھارتی حکومت نے اس معاہدے کے تحت پاکستانی شہریوں کو ویزے دینے کے لیے طریقہ کار میں نرمی کردی ہے اور اس ہفتے کے اختتام تک اس معاہدے پر مکمل عملدرآمد شروع ہوجائے گا۔ سینیٹ کے خارجہ امور کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس جس میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور معزز سینیٹرز شریک تھے، میں وزارت داخلہ کے ایک درمیانی سطح کے افسر نے بتایا کہ ویزے کا معاہدہ اگلے ہفتے کیبنٹ ڈویژن کو بھیجنے کا امکان ہے، کیبنٹ ڈویژن معاہدے کے مسودے کی دوبارہ چھان بین کے بعد اس کی توثیق کے لیے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے ایجنڈا میں شامل کیا جائے گا۔ یوں اس پر غور و فکر کے عمل میں کتنا عرصہ لگے گا، اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان 8 ستمبر کو اسلام آباد میں ہونے والے معاہدے میں دونوں ممالک کے شہریوں کے ایک دوسرے کے ملک میں جانے کے لیے کئی نئی شقیں شامل کی گئی تھیں، ان میں 65 سال تک پہنچنے والے شہریوں کے سرحد پر ویزے، تاجروںکو ملٹی پل ویزا، طلبا اور سیاحتی گروپوں کو سیاحتی ویزے دینے، پارلیمانی اراکین اور ججوں کو ایئرپورٹ پر ویزے دینے کے علاوہ اور بھی کئی اہم مراعات شامل تھیں۔ اگرچہ اس معاہدے میں صحافیوں کی آزادانہ نقل و حرکت، اخبارات اور کتابوں کی درآمد پر غیر ضروری پابندیاں، شہریوں کو ایئرپورٹ اور بندرگاہوں پر ویزے دینے۔
کراچی اور ممبئی کے درمیان بحری جہاز رانی کی سہولت، واہگہ کے علاوہ تھرپارکر، قصور کی چیک پوسٹوں سے ویزے کا اجرا اور ان علاقوں سے پیدل سرحد پارکرنے کی سہولت وغیرہ شامل نہیں تھی مگر دونوں ممالک میں امن کے لیے کوشش کرنے والے اس ادھورے معاہدے کو بھی ایک خوشگوار تبدیلی قرار دے رہے تھے مگر اس وقت بعض جہاندیدہ صحافیوں اور امن تحریک کے کارکنوں کو خدشہ تھا کہ اس معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوسکے گا۔ جب پیپلزپارٹی کی حکومت 1988 میں برسر اقتدار آئی تھی تو بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی اسلام آباد آئے تھے۔ بے نظیر بھٹو اور راجیو گاندھی کے درمیان دوستی کے نئے سفر کے لیے اہم نکات پر اتفاق رائے ہوا تھا مگر وزیراعظم گاندھی کے دورے کے خلاف مہم شروع کردی گئی تھی۔
بعض حلقوں نے یہ الزام لگایا تھا کہ اسلام آباد کی سڑکوں سے کشمیر ہائوس کے بورڈ ہٹائے گئے تھے۔ اس وقت کے وزیرداخلہ بیرسٹراعتزاز احسن پر یہ الزام لگایا گیا تھاکہ انھوں نے سکھ دہشتگردوں کی فہرست بھارتی وزیر داخلہ کے حوالے کردی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں مداخلت کے لیے پاکستانی علاقوں میں قائم تربیتی کیمپوں سے نوجوانوں کی برآمد کا سلسلہ شروع ہوا تھا، یوں پیپلزپارٹی کی پہلی حکومت بھارت سے خوشگوار تعلقات کی پالیسی پر عملدرآمد نہیں کراسکی ۔ جب مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تو انھوں نے واہگہ کے راستے تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو کم کیا۔ پنجاب سے ٹرک تجارتی سامان لے کر واہگہ کے راستے بھارت جانے لگے، اس زمانے میں ویزے کے اجرا میں پابندیوں کے نرم ہونے سے دونوں طرف لاکھوں لوگوں نے بین الاقوامی سرحد عبور کی تھی۔
بے نظیر کے دوسرے دور حکومت میں بعض قوتوں نے کراچی میں بھارتی قونصل خانے کو بند کرانے کے لیے مذموم مہم شروع کی۔ کراچی میں اس زمانے میں ہونے والی سیاسی بدامنی کو بھارتی قونصل خانے کی سرگرمیوں سے منسلک کرنے کی کوشش کی گئی تھی، پھر سفارتکاروں کو نکالنے کی مہم شروع ہوئی، دونوں ممالک کے تعلقات کو منجمد کرنے کی پالیسی کامیاب ہوگئی۔ وزیراعظم نواز شریف کی دعوت پر بھارتی وزیراعظم واجپائی واہگہ سے بس پر بیٹھ کر لاہور تشریف لائے اور دوستی بس کا سلسلہ شروع ہوا۔
واجپائی نے لاہور میں یادگار پاکستان پر حاضری دے کر ان عناصر کے خیالات کو مسترد کیا کہ بھارت نے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا مگر پھر فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے کارگل کا محاذ کھول کر دونوں ممالک کو جنگ کے قریب کردیا۔ امریکی صدر بل کلنٹن کی مداخلت پر دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔ 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو انھوں نے اپنی جنگجو پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے کشمیر کے مسئلے کے کچھ نئے حل پیش کیے۔ وہ وزیراعظم واجپائی سے ملنے آگرہ آگئے مگر سرحد پار دہشت گردی Cross Border Terrorism کے معاملے پر اتفاق نہ ہونے کی بنا پر ناکام واپس آگئے۔
بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد مشرف حکومت آگرہ سربراہ کانفرنس کی ناکامی کے اس نکتے کو ماننے پر تیارہوگئی۔ مشرف دور میں کراچی سے تھرپارکر ریل گاڑی پاکستان اور بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر کے درمیان بس اور ٹرک سروس شروع ہوئی۔ جموں و کشمیر کے شہریوں کو ڈپٹی کمشنر کے پرمٹ پر آنے جانے کی اجازت ملی۔ جب بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں خوشگوار تبدیلیاں آرہی تھیں تو ممتاز صحافی اور امن تحریک کے کارکن ایم بی نقوی نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول پرلانے کی راہ میں نئی رکاوٹیں کھڑی کرے گی۔
جب آصف علی زرداری نے 2008 میں ایوان صدر میں اپنا عہدہ سنبھالا تو انھوں نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے ہمراہ اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں ایک بڑا بریک تھرو ہوگا۔ انھوں نے تجویز دی کہ دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں صنعتی زون قائم کیے جائیں گے لیکن کچھ عرصے بعد ممبئی میں دہشتگردی کا بدترین واقعہ ہوا، یوں دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی انتہائی سطح عبور کرنے لگے۔
بھارت نے پاکستان سے مذاکرات کا عمل معطل کردیا، دونوں ممالک نے ویزے کے حصول پر نئی پابندیاں عائد کردیں۔ بھارت نے پاکستانی شہریوںکے ویزے کے لیے جو شرائط عائد کیں وہ شرائط امریکا، کینیڈا اور برطانیہ کے ویزے کی شرائط کی طرح تھیں۔ غریب آدمی کو آمدنی سرٹیفیکٹ، یوٹیلٹی بل کی کاپیاں، پولیس کے صداقت نامے اور اسپانسر کرنے والے فرد کو بھی یہ دستاویزات دینے کا پابند کیا گیا، ایسی ہی پابندیاں حکومت پاکستان نے عائد کیں۔ بھارت نے اپنی ایئر لائنز کی پاکستان آنے والی پروازیں منسوخ کردیں، پی آئی اے کی دہلی اور ممبئی سے ہفتے میں صر ف ایک فلائٹ باقی رہ گئی تھی۔ ادیبوں، شاعروں، دانشوروں، اساتذہ، وکلا کے ویزوں کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کلیئرنس اور پولیس رپورٹنگ سے مشروط کردیا گیا۔ اب دوسال کے مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ ہوا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ویزے کے اس معاہدے پر مئی میں دستخط ہونے تھے مگر یہ معاملہ ستمبر تک التوا کا شکار رہا۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے اس سال کے آخر میں پاکستان کے دورے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، وہ چکوال میں اپنے آبائی گائوں جانے کے خواہشمند ہیں۔ انھوں نے اپنے آبائی گائوں میں بجلی کی قلت کو دور کرنے کے لیے شمسی توانائی کا پلانٹ دیا ہے مگر ممبئی جیسی دہشت گردی کے واقعے کی تحقیقات کرنے والا پاکستانی عدالتی کمیشن کوئی پیش رفت نہیں کرسکا ہے، اب ان کے دورے کی منسوخی کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ کیا صدر زرداری کی دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کی خواہش سرکاری فائلوں میں دب جائے گی؟ اگلے چند ہفتوں میں یہ سب واضح ہوجائے گا۔
پاکستان کی وزارت داخلہ ابھی اس پر عمل درآمد کے لیے تیار نہیں ہے مگر بھارتی حکومت نے اس معاہدے کے تحت پاکستانی شہریوں کو ویزے دینے کے لیے طریقہ کار میں نرمی کردی ہے اور اس ہفتے کے اختتام تک اس معاہدے پر مکمل عملدرآمد شروع ہوجائے گا۔ سینیٹ کے خارجہ امور کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس جس میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر اور معزز سینیٹرز شریک تھے، میں وزارت داخلہ کے ایک درمیانی سطح کے افسر نے بتایا کہ ویزے کا معاہدہ اگلے ہفتے کیبنٹ ڈویژن کو بھیجنے کا امکان ہے، کیبنٹ ڈویژن معاہدے کے مسودے کی دوبارہ چھان بین کے بعد اس کی توثیق کے لیے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے ایجنڈا میں شامل کیا جائے گا۔ یوں اس پر غور و فکر کے عمل میں کتنا عرصہ لگے گا، اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان 8 ستمبر کو اسلام آباد میں ہونے والے معاہدے میں دونوں ممالک کے شہریوں کے ایک دوسرے کے ملک میں جانے کے لیے کئی نئی شقیں شامل کی گئی تھیں، ان میں 65 سال تک پہنچنے والے شہریوں کے سرحد پر ویزے، تاجروںکو ملٹی پل ویزا، طلبا اور سیاحتی گروپوں کو سیاحتی ویزے دینے، پارلیمانی اراکین اور ججوں کو ایئرپورٹ پر ویزے دینے کے علاوہ اور بھی کئی اہم مراعات شامل تھیں۔ اگرچہ اس معاہدے میں صحافیوں کی آزادانہ نقل و حرکت، اخبارات اور کتابوں کی درآمد پر غیر ضروری پابندیاں، شہریوں کو ایئرپورٹ اور بندرگاہوں پر ویزے دینے۔
کراچی اور ممبئی کے درمیان بحری جہاز رانی کی سہولت، واہگہ کے علاوہ تھرپارکر، قصور کی چیک پوسٹوں سے ویزے کا اجرا اور ان علاقوں سے پیدل سرحد پارکرنے کی سہولت وغیرہ شامل نہیں تھی مگر دونوں ممالک میں امن کے لیے کوشش کرنے والے اس ادھورے معاہدے کو بھی ایک خوشگوار تبدیلی قرار دے رہے تھے مگر اس وقت بعض جہاندیدہ صحافیوں اور امن تحریک کے کارکنوں کو خدشہ تھا کہ اس معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوسکے گا۔ جب پیپلزپارٹی کی حکومت 1988 میں برسر اقتدار آئی تھی تو بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی اسلام آباد آئے تھے۔ بے نظیر بھٹو اور راجیو گاندھی کے درمیان دوستی کے نئے سفر کے لیے اہم نکات پر اتفاق رائے ہوا تھا مگر وزیراعظم گاندھی کے دورے کے خلاف مہم شروع کردی گئی تھی۔
بعض حلقوں نے یہ الزام لگایا تھا کہ اسلام آباد کی سڑکوں سے کشمیر ہائوس کے بورڈ ہٹائے گئے تھے۔ اس وقت کے وزیرداخلہ بیرسٹراعتزاز احسن پر یہ الزام لگایا گیا تھاکہ انھوں نے سکھ دہشتگردوں کی فہرست بھارتی وزیر داخلہ کے حوالے کردی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں مداخلت کے لیے پاکستانی علاقوں میں قائم تربیتی کیمپوں سے نوجوانوں کی برآمد کا سلسلہ شروع ہوا تھا، یوں پیپلزپارٹی کی پہلی حکومت بھارت سے خوشگوار تعلقات کی پالیسی پر عملدرآمد نہیں کراسکی ۔ جب مسلم لیگ کے قائد نواز شریف نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تو انھوں نے واہگہ کے راستے تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو کم کیا۔ پنجاب سے ٹرک تجارتی سامان لے کر واہگہ کے راستے بھارت جانے لگے، اس زمانے میں ویزے کے اجرا میں پابندیوں کے نرم ہونے سے دونوں طرف لاکھوں لوگوں نے بین الاقوامی سرحد عبور کی تھی۔
بے نظیر کے دوسرے دور حکومت میں بعض قوتوں نے کراچی میں بھارتی قونصل خانے کو بند کرانے کے لیے مذموم مہم شروع کی۔ کراچی میں اس زمانے میں ہونے والی سیاسی بدامنی کو بھارتی قونصل خانے کی سرگرمیوں سے منسلک کرنے کی کوشش کی گئی تھی، پھر سفارتکاروں کو نکالنے کی مہم شروع ہوئی، دونوں ممالک کے تعلقات کو منجمد کرنے کی پالیسی کامیاب ہوگئی۔ وزیراعظم نواز شریف کی دعوت پر بھارتی وزیراعظم واجپائی واہگہ سے بس پر بیٹھ کر لاہور تشریف لائے اور دوستی بس کا سلسلہ شروع ہوا۔
واجپائی نے لاہور میں یادگار پاکستان پر حاضری دے کر ان عناصر کے خیالات کو مسترد کیا کہ بھارت نے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا مگر پھر فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے کارگل کا محاذ کھول کر دونوں ممالک کو جنگ کے قریب کردیا۔ امریکی صدر بل کلنٹن کی مداخلت پر دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔ 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو انھوں نے اپنی جنگجو پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے کشمیر کے مسئلے کے کچھ نئے حل پیش کیے۔ وہ وزیراعظم واجپائی سے ملنے آگرہ آگئے مگر سرحد پار دہشت گردی Cross Border Terrorism کے معاملے پر اتفاق نہ ہونے کی بنا پر ناکام واپس آگئے۔
بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد مشرف حکومت آگرہ سربراہ کانفرنس کی ناکامی کے اس نکتے کو ماننے پر تیارہوگئی۔ مشرف دور میں کراچی سے تھرپارکر ریل گاڑی پاکستان اور بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر کے درمیان بس اور ٹرک سروس شروع ہوئی۔ جموں و کشمیر کے شہریوں کو ڈپٹی کمشنر کے پرمٹ پر آنے جانے کی اجازت ملی۔ جب بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں خوشگوار تبدیلیاں آرہی تھیں تو ممتاز صحافی اور امن تحریک کے کارکن ایم بی نقوی نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول پرلانے کی راہ میں نئی رکاوٹیں کھڑی کرے گی۔
جب آصف علی زرداری نے 2008 میں ایوان صدر میں اپنا عہدہ سنبھالا تو انھوں نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے ہمراہ اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں ایک بڑا بریک تھرو ہوگا۔ انھوں نے تجویز دی کہ دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں صنعتی زون قائم کیے جائیں گے لیکن کچھ عرصے بعد ممبئی میں دہشتگردی کا بدترین واقعہ ہوا، یوں دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی انتہائی سطح عبور کرنے لگے۔
بھارت نے پاکستان سے مذاکرات کا عمل معطل کردیا، دونوں ممالک نے ویزے کے حصول پر نئی پابندیاں عائد کردیں۔ بھارت نے پاکستانی شہریوںکے ویزے کے لیے جو شرائط عائد کیں وہ شرائط امریکا، کینیڈا اور برطانیہ کے ویزے کی شرائط کی طرح تھیں۔ غریب آدمی کو آمدنی سرٹیفیکٹ، یوٹیلٹی بل کی کاپیاں، پولیس کے صداقت نامے اور اسپانسر کرنے والے فرد کو بھی یہ دستاویزات دینے کا پابند کیا گیا، ایسی ہی پابندیاں حکومت پاکستان نے عائد کیں۔ بھارت نے اپنی ایئر لائنز کی پاکستان آنے والی پروازیں منسوخ کردیں، پی آئی اے کی دہلی اور ممبئی سے ہفتے میں صر ف ایک فلائٹ باقی رہ گئی تھی۔ ادیبوں، شاعروں، دانشوروں، اساتذہ، وکلا کے ویزوں کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کلیئرنس اور پولیس رپورٹنگ سے مشروط کردیا گیا۔ اب دوسال کے مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ ہوا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ویزے کے اس معاہدے پر مئی میں دستخط ہونے تھے مگر یہ معاملہ ستمبر تک التوا کا شکار رہا۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے اس سال کے آخر میں پاکستان کے دورے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، وہ چکوال میں اپنے آبائی گائوں جانے کے خواہشمند ہیں۔ انھوں نے اپنے آبائی گائوں میں بجلی کی قلت کو دور کرنے کے لیے شمسی توانائی کا پلانٹ دیا ہے مگر ممبئی جیسی دہشت گردی کے واقعے کی تحقیقات کرنے والا پاکستانی عدالتی کمیشن کوئی پیش رفت نہیں کرسکا ہے، اب ان کے دورے کی منسوخی کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ کیا صدر زرداری کی دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کی خواہش سرکاری فائلوں میں دب جائے گی؟ اگلے چند ہفتوں میں یہ سب واضح ہوجائے گا۔