جنھیں پالا پوسا جاتا ہے بیچنے کے لیے

تاریخ میں مثالوں کی کمی نہیں ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ سب سے زیادہ فروخت سیاسی شہیدوں کی ہوتی ہے

barq@email.com

ویسے تو سب کچھ ہی بیچنے کے لیے پیدا کیا جاتا ہے، دانے سے لے کر خرمن تک، کھیت سے لے کر کھلیان تک اور گھاس سے لے کر پھل پھول تک ۔۔۔

بلکہ کوئی چیز برائے فروخت ہو نہ ہو لیکن تاجر لوگ اسے مال تجارت بنا لیتے ہیں، نظریات و عقائد دین و دنیا اور علم و تعلیم تک کو ۔۔۔ لیکن یہ شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ سب سے زیادہ تجارت اور خرید و فروخت اس ''جنس'' کی کی جاتی ہے جو برائے فروخت ہے ہی نہیں یا کم از کم ایسا کہا سنا اور سمجھا جاتا ہے اور کتابوں میں لکھا جاتا ہے۔ اس ناقابل فروخت لیکن حد سے زیادہ فروخت ہونے والی چیز کا نام ''انسان'' ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ دوسری اجناس کی طرح اسے بھی خود یہ پتہ نہیں ہوتا ہے کہ مجھے بیچا جا رہا ہے یا بیچ دیا گیا ہوں، بلکہ بعض اوقات تو اس کی پوری پوری لاٹیں فروخت کر دی جاتی ہیں۔

قوم، وطن اور ملک کے نام سے ۔۔۔ اور پھر بھی اسے پتہ نہیں ہوتا، لیکن ہم وہ بات بھی نہیں کر رہے ہیں کیوں کہ یہ تجارت آج کل بڑی عام ہو چکی ہے بلکہ بازار میں سب سے زیادہ خرید و فروخت اسی کی ہوتی ہے کیوں کہ شیئر مارکیٹ میں اس کے سوداگر ہی چھائے ہوئے ہیں، مطلب یہ کہ ہم عام انسانوں عرف عوام عرف ہندسوں عرف ووٹ کی بات نہیں کر رہے ہیں، مختلف پارٹیوں کے ان خصوصی مال تجارت کی بھی بات نہیں کر رہے ہیں جن کو ''پارٹی کے کارکن'' کہہ کر منتخب دانوں کی صورت میں بیچا جاتا ہے، کبھی کبھی کوئی خاص قسم کا ٹائٹل بھی ان پر لگا دیا جاتا ہے جیسے جیالے، ممتاز کارکن، ممتاز رہنماء وغیرہ، بلکہ یہاں ہم ان خاص دانوں کی بات کر رہے ہیں جو خاص طور پر فروخت کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔


مت پوچھئے کہ تیار کرنے والے، مارکیٹ پہنچانے والے اور سجا سنوار کر بیچنے والے کون ہوتے ہیںَ کیوں کہ ایک تو یہ گمنام ہوتے ہیں دوسرے تعداد بھی مقرر نہیں ہے اور تعارف بھی مخصوص نہیں ہے، چنانچہ اس مخصوص تیار شدہ بلکہ زراعت کی زبان میں ''ترقی دادہ'' دانے کو بیچنے والے ہزاروں لاکھوں بھی ہو سکتے ہیں،آٹھ دس بھی ہو سکتے اور دو چار بھی ہو سکتے ہیں۔ چلیے پہیلیاں بجھانا چھوڑ کر سیدھی سیدھی بات کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے بہترین مثال مزارات کی ہے، یہ مزار اﷲ والے بزرگوں کے ہوں یا سیاسی شہیدوں کے، پاکستان میں ان کی خرید و فروخت سب سے زیادہ ہوئی ہے، ہو رہی ہے اور آیندہ بھی نہ جانے کب تک ہوتی رہے گی۔کبھی کبھی ہم یہ سب کچھ دیکھ کر بہت زیادہ دکھی ہو جاتے ہیں کہ ان بزرگوں اور سیاسی شہداکی تعلیمات ونظریات کو کس کس طرح بیچا جا رہا ہے۔ آپ سے کیا پردہ ہم توآج کے بعض سیاستدانوں کے چہروں میں بھی شہید اور مزار دیکھ لیتے ہیں، شہادت ان کی صورت سے ٹپکتی ہے۔

ہر مزار کے لیے ایک صاحب مزار کو تیار کرنا پڑتا ہے۔اس کی مشہوری کی جاتی ہے، اس کا تقدس، کرامتیں اور عبادتیں مشتہر کی جاتی ہیں، تب کہیں جا کر صحیح وقت آتا ہے۔ وہ سوداگر ہی کیا جو مال تجارت کو ذرہ بھر بھی یہ احساس ہونے دے کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ آپ نے ہارس اینڈ کیٹل شو میں اکثر دیکھا ہو گا کہ گھوڑے اونٹ یا دوسرے جانور ناچتے ہیں، کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ناچ رہے ہیں ؟کیا ان کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ ناچ ہے؟ کیا وہ جانتے ہیں کہ ان کی حرکات کو کیش کیا جا رہا ہے؟ جس بات پر ہمیں پہلے ہنسی آ جاتی ہے اور پھر مسلسل رونا آتا رہتا ہے وہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد کسی کا نام چاند ستاروں پر لکھ دو، سمندروں کے قطرے قطرے اور ریگستان کے ذرے ذرے کو ان کے نام سے موسوم کر دو، دنیا کی ساری آبادی کو بٹھا کر چوبیس گھنٹے اس کا نام جپواتے رہو، ان کو کیا فرق پڑتا ہے۔

ہم جب پشاور شہر میں چلتے پھرتے ہیں تو ایک جگہ ملک سعد پل ہے، دوسری جگہ فضل رازق تھانہ، دوسرا ایک پیر زکوڑی پل ہے، اس طرح اور بھی کئی جگہیں ہیں جن پر نام تو لکھے ہیں لیکن کوئی جانتا تک نہیں کہ کون لوگ ہیں یا تھے البتہ کچھ لوگوں نے ان کے نام کو کیش ضرور کرایا ہے۔مشہور ومعروف مزارات پر بھی جب ہم جاتے ہیں توصاحب مزار تو نیچے مٹی میں محو خواب ہوتا ہے لیکن مزار کے متولی اور نگران سکے بٹورتے ہیں اور ہمیں پورا یقین ہے کہ ان کے منہ سے اپنے بزرگوں کے شکریے اور بخشش کے الفاظ بہت کم نکلتے ہوں گے بلکہ شاید بہت سوں کو یہ بھی پتہ نہیں کہ یہ مزار ہے کس کا؟ لوگ کہتے ہیں بلکہ سمجھتے ہیں کہ جو سیاسی شخصیات شہید بن کر رہ گئی ہیں، ان کے والی وارث ان کے نام پر اپنی سیاست چمکا رہے ہیں، بڑے ذہین لوگ تھے لیکن انھیں بھی اس کا پتہ نہیں کہ ان کے نام کو کیسے کیسے بیچا جائے گا۔ تاریخ میں مثالوں کی کمی نہیں ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ سب سے زیادہ فروخت سیاسی شہیدوں کی ہوتی ہے۔
Load Next Story