بارہویں سالانہ مائی کراچی نمائش اختتام پذیر ہوگئی

قومی خزانےمیں68فیصد سےزائدریونیودینےوالےشہرکراچی میں امن ومان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے،سراج قاسم تیلی

قومی خزانےمیں68فیصد سے زائد ریونیو دینے والے شہر کراچی میں امن ومان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے،سراج قاسم تیلی۔ فوٹو: محمد نعمان/ایکسپریس

کراچی چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام 12ویں سالانہ مائی کراچی نمائش اختتام پذیر ہوگئی۔

بزنس مین گروپ کے چیئرمین اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر سراج قاسم تیلی نے کے سی سی آئی کے زیر اہتمام ایکسپو سینٹر میں3روز سے جاری 12ویں سالانہ ''مائی کراچی''نمائش میں زندگی کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد کی شرکت اور زبردست پذیرائی کا خیر مقدم کیا ہے اور اگلے سال بھی شایان شان طریقے سے8 تا 10 اپریل 2016 کو ایکسپو سینٹر میں''مائی کراچی''نمائش کے انعقاد کااعلان کیاہے۔ اتوار کے اختتامی روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر سال ''مائی کراچی''نمائش گزشتہ نمائشوں کی نسبت زیادہ بہتر انداز میں منعقد کی جاتی ہے اور یہ کامیابی کے سی سی آئی کے عہدیداران، خصوصی کمیٹی برائے ''مائی کراچی ''نمائش اور منیجنگ کمیٹی کے ارکان سمیت تمام بی ایم جی اینزکے تعاون اور انتھک محنت کی بدولت ہی ممکن ہوئی ہے جنہوں نے اس نمائش کو یادگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

سراج قاسم تیلی نے کہا کہ12 ویں سالانہ''مائی کراچی'' نمائش ایک بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوئی جہاں ملکی و غیر ملکی تاجروں نے اپنی مصنوعات اور خدمات کی تشہیر کی۔ایکسپو سینٹر کے تمام 6ہالز میں300اسٹالز لگائے گئے تھے جبکہ تقریباً 7 لاکھ افراد نے نمائش کا دورہ کیا۔اس موقع پر انڈونیشیا کے قونصل جنرل ہادی سانتوسو، سوئٹزر لینڈ کے قونصل جنرل روجر کل، بزنس مین گرپ کے وائس چیئرمینز زبیر موتی والا،انجم نثار،کے سی سی آئی کے صدر افتخار احمد وہرہ، سینئر نائب صدر محمد ابراہیم کوسمبی، خصوصی کمیٹی برائے ''مائی کراچی ''نمائش کے چیئرمین محمد ادریس، خصوصی کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین شمیم احمد فرپو، سابق صدر کے سی سی آئی اے کیو خلیل اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی اُن کے ہمراہ تھے۔


چیئرمین بی ایم جی نے کراچی میں کے سی سی آئی کی نمائش میں تعاون پرمختلف قونصلیٹ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 12ویں ''مائی کراچی ''نمائش میں 19ممالک نے شرکت کی اور اگلے سال مزید غیر ملکی نمائش کنندگان کی شرکت متوقع ہے۔ اس نمائش کوملکی و غیر ملکی سطح پرایک اہم ایونٹ تسلیم کیاجانے لگا ہے۔انہوںنے ''مائی کراچی''نمائش کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ نمائش کے نام سے ظاہرہے کہ یہاں رہنے والے ہر ایک شخص کو اسے اپنا شہر ماننا چاہیے جبکہ مختلف ثقافت،رنگ و نسل،زبان اور فرقہ واریت سے بالا تر ہو کرسب کو ایک ساتھ مل جل کر رہنا بھی نمائش کا مرکزی موضوع ہے۔

سراج قاسم تیلی نے امن وامان کی مجموعی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ ماضی کے مقابلے میں امن وامان کی صورتحال قدرے بہتر ہوئی ہے لیکن قومی خزانے میں68فیصد سے زائد ریونیو دینے والے شہر کراچی میں امن ومان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔کراچی کی تاجر وصنعتکا ربرادری غیر یقینی صورتحال کے باوجود تمام تر مشکلات کامقابلہ کرتے ہوئے اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کے سی سی آئی کی خصوصی کمیٹی برائے''مائی کراچی''نمائش کے چیئرمین محمد ادریس کی خدمات کوسراہتے ہوئے کہا کہ 5ماہ کی انتھک جدوجہد کے نتیجے میں نمائش میں عالمی معیار کے لان فیبرک پویلین کاقیام اور فیشن شو کا انعقاد خوشگوار اضافہ تھا جو نہ صرف شاندار طریقے سے منعقد کیا گیا بلکہ ہر ایک نے اس کی تعریف کی لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ محمد ادریس او ر ان کی ٹیم آئند ہ بھی اس نمائش کو مزید کامیاب بنانے میں اپنا کردار اداکرے گی اور نمائش میں اس قسم کا مزید خوشگوار اضافے یقینی بنائے جائیں گے۔

انہوں نے خاص طور پر صوبائی حکومت، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی،سندھ پولیس،رینجرز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تعاون کابھی شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے نمائش کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔بی ایم جی کے وائس چیئرمین و سابق صدر کے سی سی آئی زبیر موتی والانے کہاکہ''مائی کراچی''نمائش ایک بڑا ایونٹ بن گیاہے جس میں مقامی وغیر ملکی تاجر بھرپور تعاون کرتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر نشاندہی کرتے ہوئے کہاکہ ایل پی جی گیس کی درآمد سے گیس کی قیمتوں میں متوقع اضافہ سندھ صوبے کے ساتھ سراسر نا انصافی ہو گی کیونکہ گیس کی مجموعی پیداوار کے لحاظ سے صوبہ سندھ 70 فیصد گیس کی پیداوار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ 2800 ایم ایم سی ایف گیس پروڈیوس کرتا ہے جبکہ اسے صرف 1250 ایم ایم سی ایف گیس ملتی ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ صنعتوں کومحدود پیمانے پر گیس فراہم کی جاتی ہے جبکہ کوئی نیا کنکشن بھی نہیں دیا جارہا۔ صنعتوں کو گیس کی فراہمی کیلیے 350 درخواستیں زیر التوا ہیں اگر ان تمام 350 صنعتی یونٹس کو گیس کنکشن فراہم کر دیے جائیں تواس کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ افراد کوروز گار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے ہوں گے اور حکومت کواس اہم مسئلے پرسنجیدگی کامظاہرہ کرنا چاہیے۔
Load Next Story