نئی عمارتوں کو این او سی کے بغیر سہولتیں فراہم نہ کرنیکی ہدایت
بہار سوسائٹی کے پلاٹ پر تعمیرات کے دوران قوانین کو نظر انداز کیا گیا ہے،درخواست گزار
عدالت نے حکم دیا ہے کہ نئی تعمیر ہونے والی عمارتوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی سے قبل ایس بی سی اے کا این او سی ضروری چیک کیا جائے۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ نے شہری سہولتیں فراہم کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے این او سی کے بغیر تعمیر ہونے والی نئی عمارتوں کو بجلی ،گیس اور پانی کے کنکشنز فراہم نہ کیے جائیں.
جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ نئی تعمیر ہونے والی عمارتوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی سے قبل ایس بی سی اے کا این او سی ضروری چیک کیا جائے۔
عدالت نے رجسٹرار اور سب رجسٹرارز کوبھی حکم دیا کہ عمارت کی لیز اور سب لیز میںبھی اس بات یقینی کو بنایا جائے کہ تمام دستاویزات قانون کے مطابق ہوں، غیرسرکاری تنظیم پکار فائونڈیشن کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سلیم نامی شخص نے بہار مسلم کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی کے پلاٹ نمبر124پر غیرقانونی تعمیرات کی ہیں،کثیرالمنزلہ عمارت میں قوانین کو نظرانداز کیا گیا اور بلڈنگ پلان کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ نئی تعمیر ہونے والی عمارتوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی سے قبل ایس بی سی اے کا این او سی ضروری چیک کیا جائے۔
عدالت نے رجسٹرار اور سب رجسٹرارز کوبھی حکم دیا کہ عمارت کی لیز اور سب لیز میںبھی اس بات یقینی کو بنایا جائے کہ تمام دستاویزات قانون کے مطابق ہوں، غیرسرکاری تنظیم پکار فائونڈیشن کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ سلیم نامی شخص نے بہار مسلم کوآپریٹیو ہائوسنگ سوسائٹی کے پلاٹ نمبر124پر غیرقانونی تعمیرات کی ہیں،کثیرالمنزلہ عمارت میں قوانین کو نظرانداز کیا گیا اور بلڈنگ پلان کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔