اچار فیکٹری حادثہ احتیاطی تدابیر لازم
حکومت کو متعلقہ ذیلی اداروں کو فعال اور غیر قانونی چلنے والی فیکٹریوں کی بندش پر توجہ دینی چاہیے۔
اگر حقیقت حال کا جائزہ لیا جائے تو ہر حادثے کے پیچھے متعلقہ اداروں کی غفلت، لاپرواہی اور احتیاطی تدابیر کا اختیار نہ کیا جانا موجب نظر آئے گا۔ فوٹو : فائل
پاکستان بھر میں چھوٹی و گھریلو صنعتیں قائم ہیں لیکن رولز و ریگولیشن اور چیک اینڈ بیلنس کا موثر نظام نہ ہونے کے باعث وقتاً فوقتاً ان فیکٹریوں میں حادثات کی اطلاعات اور قیمتی جانوں کے ضیاع کی خبریں ذرایع ابلاغ کے ذریعہ منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔
اتوار کو کراچی کے علاقے کورنگی اﷲ والا ٹائون میں قائم اچار کی ایک فیکٹری میں زیر زمین ٹینک میں گر کر فیکٹری کا مالک، ملازم باپ بیٹے سمیت 6 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ یہ متضاد اطلاع بھی سامنے آئی کہ ہلاکتیں کیمیکل کے باعث پیش آئیں جب کہ ذرایع کے مطابق زیر زمین ٹینک میں کسی قسم کا کیمیکل موجود نہیں تھا بلکہ کئی ماہ قبل گاجروں کو نمک لگا کر محفوظ کیا گیا تھا، ایئرٹائٹ ہونے سے ٹینک میں گیس جمع ہوئی ہوگی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔
مذکورہ حادثے کی طرز کے کئی حادثے پاکستان کے مختلف علاقوں میں پیش آچکے ہیں۔ کنواں کھدائی کے دوران مزدوروں کے دبنے کے حادثات ہوں یا نالہ صفائی کی مہم میں گیس سے متاثرہ ہلاکتیں، اگر حقیقت حال کا جائزہ لیا جائے تو ہر حادثے کے پیچھے متعلقہ اداروں کی غفلت، لاپرواہی اور احتیاطی تدابیر کا اختیار نہ کیا جانا موجب نظر آئے گا۔
مذکورہ حادثے کے بعد ایک اور خبر منظر عام پر آئی کہ کراچی اور حیدرآباد میں بیشتر اچار کے کارخانے غیر قانونی ہیں۔ پاکستان میں یہ المیہ ہے کہ یہاں ارباب اختیار ان معاملات پر چشم پوشی اختیار کیے رکھتے ہیں۔ فیکٹریوں کے حادثات کو چیک اینڈ بیلنس کے موثر نظام اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے کم کیا جاسکتا ہے، حکومت کو متعلقہ ذیلی اداروں کو فعال اور غیر قانونی چلنے والی فیکٹریوں کی بندش پر توجہ دینی چاہیے۔
اتوار کو کراچی کے علاقے کورنگی اﷲ والا ٹائون میں قائم اچار کی ایک فیکٹری میں زیر زمین ٹینک میں گر کر فیکٹری کا مالک، ملازم باپ بیٹے سمیت 6 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ یہ متضاد اطلاع بھی سامنے آئی کہ ہلاکتیں کیمیکل کے باعث پیش آئیں جب کہ ذرایع کے مطابق زیر زمین ٹینک میں کسی قسم کا کیمیکل موجود نہیں تھا بلکہ کئی ماہ قبل گاجروں کو نمک لگا کر محفوظ کیا گیا تھا، ایئرٹائٹ ہونے سے ٹینک میں گیس جمع ہوئی ہوگی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔
مذکورہ حادثے کی طرز کے کئی حادثے پاکستان کے مختلف علاقوں میں پیش آچکے ہیں۔ کنواں کھدائی کے دوران مزدوروں کے دبنے کے حادثات ہوں یا نالہ صفائی کی مہم میں گیس سے متاثرہ ہلاکتیں، اگر حقیقت حال کا جائزہ لیا جائے تو ہر حادثے کے پیچھے متعلقہ اداروں کی غفلت، لاپرواہی اور احتیاطی تدابیر کا اختیار نہ کیا جانا موجب نظر آئے گا۔
مذکورہ حادثے کے بعد ایک اور خبر منظر عام پر آئی کہ کراچی اور حیدرآباد میں بیشتر اچار کے کارخانے غیر قانونی ہیں۔ پاکستان میں یہ المیہ ہے کہ یہاں ارباب اختیار ان معاملات پر چشم پوشی اختیار کیے رکھتے ہیں۔ فیکٹریوں کے حادثات کو چیک اینڈ بیلنس کے موثر نظام اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے کم کیا جاسکتا ہے، حکومت کو متعلقہ ذیلی اداروں کو فعال اور غیر قانونی چلنے والی فیکٹریوں کی بندش پر توجہ دینی چاہیے۔