ٹینشن کائے کو لینے کا

زیادہ ترخلیجی شہری سرکاری ملازمت پسند کرتے ہیں اور صرف دس فیصد مقامی پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

یمن کے تنازعے میں غیر جانبداری کی پاکستانی پارلیمانی قرار داد کے بعد متحدہ عرب امارات کے وزیرِ مملکت انور قرقاش اور وزیرِ داخلہ نثار علی خان کا لفظی میچ، زیرِ لب سعودی بڑبڑاہٹ اور خلیجی میڈیا کی ترکی اور پاکستان پر ایران نوازی کی طعنہ زنی اپنی جگہ۔مگر خلیج تعاون کونسل کو آخر پاکستانی فوج ہی کیوں چاہیے جب کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سالانہ دفاعی بجٹ (چھیانوے ارب ڈالر ) کے مقابلے میں پاکستان کا دفاعی بجٹ (چھ ارب ڈالر) مونگ پھلی کے برابر ہے۔

خلیج تعاون کونسل مصر کے فوجی دستوں کو طلب کرنے کی اتنی خواہاں کیوں نہیں جسے گذشتہ دو برس میں سعودی عرب ، امارات اور کویت چودہ ارب ڈالر کی گرانٹ دے چکے ہیں۔ اور خلیج تعاون کونسل کی چھ ریاستیں تو ماشااللہ خود اتنی جدید فوج اور فائر پاور رکھتی ہیں کہ اگر اسے ہی استعمال کر لیں تو یمن لاوا بن کے بحرِ ہند میں بہہ جائے۔آخر یہ مہنگے مہنگے جنگی کھلونے کس لیے جمع ہو رہے ہیں جب انھیں استعمال کے لیے بھی دوسرے کے ہاتھ درکار ہوں۔

بات یہ ہے کہ ماسوائے عراق کسی خلیجی ملک کو ایک بڑی جنگ لڑنے کا کوئی تجربہ نہیں۔انیس سو اڑتالیس میں ایک سعودی دستہ متحدہ عرب افواج کا حصہ بنا جسے اسرائیل کی نوزائیدہ مملکت نے شکست دی تھی۔یمن میں سن باسٹھ سے پینسٹھ تک سعودی دستے لڑے ضرور مگر جمال عبدالناصر کے فوجیوں سے۔جب کہ انیس سو انہتر میں جنوبی یمن سے مختصر کشیدگی کے دور میں پاکستانی فضائیہ نے سعودی عرب کی محدود مدد کی۔اومان سعودی ہمسایہ ہے مگر ستر کے عشرے میں جب وہاں سلطان قابوس کے خلاف جنوبی یمن کی مارکسٹ حکومت کی مدد سے قبائلی بغاوت ہوئی تو سعودیوں کے بجائے شاہ ایران نے یہ بغاوت فرو کرنے میں مدد کی۔

سن تہتر کی عرب اسرائیل جنگ میں خلیجی ممالک نے مصر اور شام کی سفارتی و اقتصادی مدد تو کی مگر سوائے عراق کسی خلیجی ملک نے جنگ میں فوجی شرکت نہیں کی۔جب انیس سو اناسی میں ایک باغی گروہ نے حرم شریف پر قبضہ کیا تو اسے فرانسیسی کمانڈوز نے چھڑوایا۔تاہم گرفتار باغیوں کے سر سعودیوں نے قلم کیے۔

سن اسی کے عشرے میں ایران اور عراق کے درمیان آٹھ سالہ جنگ ِ عرب و عجم میں خلیجی ممالک نے صدام حسین سے بھرپور مالی یکجہتی ( لگ بھگ بتیس ارب ڈالر ) تو دکھائی البتہ ایک بھی علامتی فوجی دستہ نہیں بھیجا۔مگر اس دوران سعودی عرب کو کسی بیرونی خطرے سے بچانے کے لیے مشرقی صوبوں میں ایک پاکستانی ڈویژن طویل عرصے تک متعین رہا۔اور سن نوے میں جب عراق نے کویت پر قبضہ کیا تو بنیادی لڑائی امریکی اوربرطانوی فوجی دستوں اور فضائیہ نے لڑی۔ خلیجی ریاستوں نے زیادہ تر لاجسٹک مدد فراہم کی۔ البتہ سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز امریکی جنرل شوارزکوف کے ہمراہ اس اتحاد کے علامتی سپریم کمانڈر رہے۔

ہاں عرب اسپرنگ کے بعد یقیناً خلیج تعاون کونسل کے ارکان نے کچھ عملی فوجی تجربہ حاصل کیا۔ کونسل کے ایک رکن بحرین میں شیعہ بے چینی سے بے چین سعودی قیادت میں خلیجی دستے بھیجے گئے۔یا لیبیا کی خانہ جنگی میں متحدہ عرب امارات اور قطر کی فضائیہ نے اپنے اپنے گروہوں کے حق میں کچھ مسلح اڑانیں بھریں۔گذشتہ برس متحدہ عرب امارات کی فضائیہ نے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بھی چند حملے کیے اور ایک خاتون اماراتی پائلٹ مریم المنصوری کو بھی شہرت ملی۔ جب داعش نے اردن کے ایک پائلٹ معاز الکسبہ کو زندہ پکڑ لیا تو اماراتی فضائیہ نے اپنا جنگی مشن معطل کردیا۔

خلیجی ممالک کا زیادہ تر جنگی تجربہ ذیلی نوعیت کا رہا ہے اور بیشتر پراکسی لڑائیاں چیک بک اور طفیلی گروہوں اور تنظیموں کے ذریعے لڑی گئی ہیں۔چاہے یمن ہو کہ افغانستان، پاکستان، بوسنیا ، شام ، عراق یا پھر شمالی و مشرقی افریقہ۔

اگر کسی ملک کے پاس اتنے وسائل ہوں کہ وہ ہر کام ٹھیکے پر دے سکتا ہے تو پھر مزدور ، مستری ، ڈاکٹر اور انجینئرز ہی کیوں، فوجی کیوں نہیں ؟آپ دیکھئے کہ سن پچھتر میں خلیجی ممالک کی آبادی میں غیر ملکیوں کا تناسب دس فیصد سے بھی کم تھا۔آج خلیجی ممالک کی تقریباً چوالیس فیصد آبادی غیرملکی کارکنوں پر مشتمل ہے۔

پچیس لاکھ غیرملکی تو صرف روزمرہ گھریلو کام کاج کے لیے وقف ہیں۔زیادہ تر خلیجی شہری سرکاری ملازمت پسند کرتے ہیں اور صرف دس فیصد مقامی پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔مگر پرائیویٹ سیکٹر میں مقامی کی پارٹنر شپ ( کفیل ) ضروری ہے۔ ( گویا محنت تمہاری ، منافع مشترکہ )۔


لیکن پہلا حق تو ہمسائے کا ہوتا ہے۔اس کا کیا بنا ؟ سن انیس سو پچھتر تک خلیجی ممالک میں جتنے بھی غیر ملکی کارکن تھے، ان میں بہتر فیصد مصری ، اردنی ، لبنانی ، شامی اور فلسطینی وغیرہ تھے۔ آج غیر ملکی افرادی قوت میں عرب کارکنوں کا تناسب پچیس فیصد سے زیادہ نہیں۔اس وقت خلیج تعاون کونسل ممالک میں پچاس فیصد ورک فورس بھارت ، پاکستان ، بنگلہ دیش ، سری لنکا اور فلپینز سے ہے جب کہ بیشتر اعلیٰ کارپوریٹ ملازمتیں اور مہارتی آسامیاں یورپیوںاور شمالی امریکیوں کے لیے ہیں۔

ایسا کیوں ہوا کہ روزگار کا پنڈولم عرب کارکنوں سے ایشیائی لیبر مارکیٹ کی جانب منتقل ہوگیا ؟ ایک ایسے ماحول میں جہاں کم ازکم تنخواہ کا تصور نہ ہو ، لیبر قوانین غیر واضح ہوں ، احتجاج کی کوئی تسلیم شدہ شکل نہ ہو اور کام کے دوران حادثات اور ہیلتھ اینڈ سیفٹی اور انشورنس کا نظام بھی مبہم ہو۔وہاں ایک ہم زبان و ہم ثقافت کارکن زیادہ مسائل کھڑے کرسکتا ہے۔جب کہ دور دراز سے آیا اجنبی ضرورت مند زیادہ تابعدار اور سستا پڑتا ہے۔لیبر مارکیٹ صرف برادر عرب یا اسلامی جذبے و مروت پر نہیں بلکہ سفاک کاروباری اصول پر چلتی ہے۔

چونکہ دنیا میں ضرورت مندوں کی کمی نہیں اس لیے اکثر حکومتیں دولت مند ریاستوں کی ہاں میں ہاں ملانے اور ان کی ہر جائز و ناجائز برداشت کرنے کی عادی ہوجاتی ہیں۔آخر لاکھوں لوگوں کے معاشی مستقبل کا معاملہ ہے۔اگر گھر کے اندر سب کے لیے وافر دانے ہوں تو کاہے کو نودولتئے محلے داروں کی بے نقط سننا پڑے۔

جب یمن نے انیس سو نوے میں کویت پر صدامی قبضے کے خلاف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکا اور سعودی عرب کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی تو ساڑھے سات لاکھ یمنی تارکینِ وطن کو کان پکڑ کے سعودی عرب سے نکال دیا گیا۔ حالانکہ ان تارکینِ وطن کا اپنی خارجہ پالیسی سے نہ لینا ایک نہ دینا دو۔سن دو ہزار تیرہ میں بھی غیرقانونی تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن میں ساڑھے تین لاکھ یمنی کارکن نکالے گئے اور یوں سب سے غریب عرب ملک ادھ موا ہوگیا۔

اسی طرح کویت پر عراقی قبضے کے دوران وہاں آباد چار لاکھ فلسطینیوں میں سے دو لاکھ تو نکل گئے جب کہ بقیہ کو عراقی قبضے کے خاتمے کے بعد کویتی حکومت نے نکال باہر کیا۔لگ بھگ چار ہزار انتقامی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے اور سولہ ہزار جیل گئے۔جو فلسطینی عراقی قبضے کے دوران کویت سے فرار ہوئے انھیں بھی واپس نہیں آنے دیا گیا اور بیشتر کو املاکی معاوضہ بھی نہیں ملا۔یہ قیامت یوں ٹوٹی کہ یاسر عرفات نے اس جنگ میں عراق کی حمایت کردی تھی۔

وہ تو جب دو ہزار چار میں صدر محمود عباس نے کویت پہنچ کر معافی مانگی تب گلو خلاصی ہوئی۔مگر فلسطینی سفارتخانہ سترہ برس بعد انیس سو تیرہ میں ہی دوبارہ کھل پایا۔( آج تک مختلف عرب ممالک سے مختلف ادوار میں جتنے فلسطینی ( نو لاکھ ) دربدر ہوئے ان کی تعداد ان فلسطینیوں سے زیادہ ہے ( پانچ لاکھ ) جنھیں انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کی صیہونی حکومت نے آبائی گھروں سے نکالا تھا )۔

فرض کریں کل تمام پاکستانی خلیج سے نکال دیے جاتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا ؟ تیس لاکھ لوگ گھر واپس آجائیں گے جو پاکستان کو ملنے والے لگ بھگ سولہ ارب ڈالر زرِ مبادلہ میں سے تقریباً نصف کما کے بھیجتے ہیں۔مگر تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ پاکستان سالانہ سولہ ارب ڈالر کا بیشتر خام تیل اور فرنس آئل تین خلیجی ممالک ( سعودی عرب ، کویت اور متحدہ عرب امارات ) سے خریدتا ہے۔بس اتنا ہے کہ یہ تیل ایک سے چھ ماہ کے کریڈٹ پر مل جاتا ہے ورنہ تو نقد پر ہر ملک تیل دینے کو تیار ہے۔

پی آئی اے کے بعد خلیجی فضائی کمپنیاں پاکستان کے سب سے زیادہ مسافر ڈھوتی ہیں۔پاکستان میں مواصلات و بینکاری کے شعبے میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری خلیجی ممالک کی ہے۔

اسلام آباد کے بعد پاکستانی کارپوریٹ اور پولٹیکل اسٹیبلشمنٹ کا دوسرا بڑا املاکی و غیر املاکی قبلہ دوبئی ہے۔ پاکستان کے اندر اس وقت جتنا سیاسی اثر و رسوخ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا ہے شائد امریکا کا بھی نہیں۔

جنوبی ایشیا میں اگر کوئی ملک خلیجی ریاستوں کا معتمد ہے تو وہ پاکستان ہے۔ایران اور مغرب کے تعلقات کی بہتری کے بعد پاکستانی حمایت کی اہمیت اور بڑھ جائے گی۔لہذا دراڑ پڑی تو دیوار صرف پاکستان پر ہی نہیں گرے گی۔اسی سبب فریقین باہمی گرمی سردی و طعنہ زنی کے باوجود تعاون کرتے رہیں گے۔ویسے بھی ملکوں کی دوستی ضرورت کے تابع ہوتی ہے۔وفا ، اخلاص اور قربانی کے اوصاف صرف ضرورت کی پیکیجنگ کے کام آتے ہیں اور پیکیجنگ تو بدلتی رہتی ہے ، ری ڈیزائن ہوتی رہتی ہے۔اس لیے ٹینشن کائے کو لینے کا۔۔۔
Load Next Story