یمن بحران اور پاکستان کی پالیسی

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا پالیسی بیان اور پارلیمنٹ کی قرار داد تھوڑے بہت ترمیم و اضافے کے ساتھ ایک جیسے ہیں۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا پالیسی بیان اور پارلیمنٹ کی قرار داد تھوڑے بہت ترمیم و اضافے کے ساتھ ایک جیسے ہیں۔. فوٹو: پی آئی ڈی

پاکستان کے لیے یمن کا بحران خاصا گمبھیر اور دباؤ کے باعث بن گیا ہے۔ سعودی عرب اور اس کے عرب اتحادی پاکستان سے جو کچھ چاہ رہے ہیں 'وہ انھیں نہیں مل رہا جس کی وجہ سے پاکستان اور عرب ممالک میں سفارتی سرگرمیاں بھی تیز ہیں اور تلخ بیان بازیا ںبھی جاری ہیں۔ اس مسئلے پر کچھ روز پہلے پارلیمنٹ کی ایک مشترکہ قرار داد بھی آئی تھی ۔اس قرار داد سے سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک مطمئن نہیں تھے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور قرقاش کا ٹویٹ تو سب کے سامنے ہے۔ گزشتہ روز وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی اس معاملے پر پالیسی بیان دیا۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کی خود مختاری اور سالمیت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ یمن کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔

سعودی عرب پاکستان کا اہم اسٹرٹیجک اتحادی ہے اور پاکستان اپنے دوستوں اور اسٹرٹیجک پارٹنرز کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد حکومتی پالیسی کے مطابق ہے تاہم خلیجی اتحادی اس قرارداد کو صحیح طور پر نہ سمجھ سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں کی مذمت کرتا ہے۔ سعودی عرب کی سالمیت کو کوئی خطرہ ہوا تو اس کا سخت جواب دیں گے۔ سعودی عرب ہمارا قریبی اتحادی ہے، اس کے کندھے سے کندھا ملا کر چلیں گے۔ ہم بلا شک وشبہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس مشکل وقت میں دوست ممالک کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور سعودی بھائیوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ پاکستان نے ایران پر حوثی باغیوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کرنے کے لیے زور دیا ہے۔ ہم یمن میں معزول صدر منصور ہادی کی حکومت کی بحالی پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ یہ امن کی طرف ایک اہم قدم ہوگا۔

سعودی عرب کی علاقائی خود مختاری کی کسی بھی خلاف ورزی یا حرمین الشریفین کو خطرے کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔ یمن میں غیر ریاستی عناصر کی جانب سے قانونی حکومت کو گرانے کی شدید مذمت کرتے ہیں، یمن بحران کے حل کے لیے سعودی عرب کی قیادت کی مشاورت سے سفارتی کوششیں تیز کی جائیں گی۔ یمن بحران کا مذاکرات کے ذریعے پرامن حل تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا پالیسی بیان اور پارلیمنٹ کی قرار داد تھوڑے بہت ترمیم و اضافے کے ساتھ ایک جیسے ہیں۔ وزیراعظم نے باغیوں کی مذمت کی ہے اور منصور ہادی کی حکومت کو جائز قرار دیا ہے۔


یوں اس حوالے سے دیکھا جائے تو یمن کے بحران پر پاکستان نے اپنی پوزیشن خاصی حد تک واضح کر دی تاہم وہاں فوج بھیجنے یا نہ بھیجنے کے معاملے پر گومگو کی کیفیت برقرار ہے۔ بہر حال حکومت اس حوالے سے بہتر جانتی ہے کہ یمن کا بحران ملک پر کس انداز میں اور کتنے حجم میں اثرانداز ہو سکتا ہے۔

سعودی عرب 'متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ پاکستان اور پاکستانیوں کے جو تعلقات ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ سعودی عرب کے مذہبی امور کے وزیر بھی پاکستان کے دورے پر آئے ہیں ۔وہ جس مقصد کے لیے آئے وہ بھی کسی حد تک واضح ہے اور انھوں نے اپنا پیغام بھی یقینی طور پر حکومت تک پہنچایا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ یمن کا بحران جیسے جیسے بڑھے گا 'پاکستان کے مسائل میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔پاکستان کے عرب دوستوں کی توقعات بہت زیادہ ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان نے اب تک جو پالیسی اختیار کر رکھی ہے 'وہ کتنی کارگر ثابت ہو تی ہے۔

پاکستان ایران کو بھی مطمئن رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور عرب ممالک کو بھی راضی رکھنا چاہتا ہے۔ اصولی طور پر تو ہونا یہ چاہیے کہ عربوں کو اپنے معاملات خود حل کرنے چاہئیں 'اسی طرح ایران کو بھی عربوں کے تحفظات دور کرنے چاہئیں بلکہ ایسی پالیسی اختیار کرنی چاہیے جس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا خاتمہ ہو سکے۔

ترکی بھی اس معاملے کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے لیکن سوال پھر وہی ہے کہ کیا عرب ممالک اور حوثی فائٹرز ترکی یا پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو قبول کرتے ہیں ؟یہ بھی سوال ہے کہ کیا ایران اس معاملے میں ثالثی پر تیار ہے اور کیا عرب ممالک ایران کے اس عمل دخل کو قبول کرنے پر تیار ہیں۔ یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب معلوم کیے بغیر پاکستان ثالثی کے عمل میں شریک نہیں ہو سکتا۔ بہر حال یمن کا بحران بھی پاکستان کے لیے بہت سے سبق لے کر آیا ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں جو کمزوریاں موجود ہیں 'وہ کھل کر سامنے آئی ہیں 'ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اس بحران میں اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر مستقل نوعیت کی خارجہ پالیسی اختیار کرے ۔ڈنگ ٹپاؤ پالیسیاں وقتی فائدہ تو پہنچاتی ہیں لیکن آخر کار نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ پاکستان نے سرد جنگ میں جو کردار ادا کیا 'اس کے نتائج طالبان کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ایران بھی پاکستان کی پالیسی سے پوری طرح مطمئن نہیں اور عرب ممالک بھی ناراض ہو رہے ہیں۔

پاکستان نے مستقبل میں کیا پالیسی اختیار کرنی ہے 'اس کے خدوخال بھی واضح نہیں ہیں۔سرد جنگ کے خاتمے کے بعد پاکستان کو اپنی خارجہ اور داخلہ پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے تھی ۔ہمارے ہمسایہ بھارت نے بڑی مہارت سے سرد جنگ میںسوویت یونین کے ساتھ تعلقات بنائے رکھے اور اس کے ساتھ ساتھ امریکا کو بھی ناراض نہیں کیا۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اس نے امریکا کے ساتھ اسٹرٹیجک تعلقات قائم کر لیے جب کہ روس کے ساتھ بھی اس کے تعلقات بدستور قائم ہیں۔حتیٰ کہ چین کے ساتھ بھی اس کے تعلقات دن بدن بہتر ہو رہے ہیں۔پاکستان کو بھی ایسی ہی پالیسی اختیار کرنی چاہیے تاکہ اس کے مشرق اور مغرب دونوں سطح پر اچھے تعلقات قائم رہیں۔
Load Next Story