دہشت گردوں کے خلاف اہم پیش رفت

شہر قائد میں دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات روز کا معمول ہیں.

شہر قائد میں دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات روز کا معمول ہیں. فوٹو: ایکسپریس/فائل

قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد میں تیزی کے باعث مطلوب ملزمان اور دہشت گردوں کی گرفتاری و ہلاکت ایک اہم پیش رفت ہے، اس اسٹرٹیجی اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید موثر بناتے ہوئے ملک کے مختلف شہروں اور دور دراز علاقوں میں اپنے ٹھکانے میں روپوش عناصر کا تعاقب اشد ضروری ہے ۔

میڈیا میں بڑے پیمانہ پر ملزمان کی گرفتاریاں اسی مستعدی اور فورسز کی فوری پیش قدمی اور جوابی کارروائی کا نتیجہ ہے کہ ایک طرف تربت میں 20 مزدوروں کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد حساس ادارے اور فرنٹیئر کور نے تربت کے ملحقہ علاقوں میں وسیع پیمانے پر نتیجہ خیز آپریشن کیا جس کے نتیجہ میں میں 13دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

اس میں کالعدم بی ایل ایف کا انتہائی مطلوب کمانڈر حیات بھی مارا گیا جب کہ ایک کمانڈر کو گرفتار کر کے بھاری مقدار میں مائنز، آئی ای ڈیز اور گولہ بارود برآمد کرلیا گیا۔ کراچی میں القاعدہ کے 2 کمانڈروں سمیت 5 دہشت گرد مارے گئے۔ کاؤنٹر ٹیررازم کی اسپیشل ٹیم کی یہ کامیابی اس بات کا عندیہ ہے کہ ملکی سلامتی پر مامور فورسز بین الصوبائی رابطہ اور دہشت گردوں کا پیچھا کرنے کے لیے درست انفارمیشن اور انٹیلی جنس کی صد فی صد صحیح ٹائمنگ کے منتظر ہیں ، اور جیسے اطلاع ملتی ہے وہ عقابوں کی طرح ملزمان کو دبوچ لیتے ہیں ۔

یہ بھی سندھ رینجرز کی اہم کارروائی ہے جس کے تحت منی پاکستان میں لرزہ خیز سانحہ طاہر پلازہ کے 3 زندہ جلائے جانے والے افراد کے مبینہ قاتل گرفتار کرلیے گئے۔ واضح رہے کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ نے تربت میں مزدوروں کے کیمپ پر حملے کی ذمے داری قبول کی تھی جب کہ بولان میں رد عمل کے طور پر اس کے کارندوں کی فائرنگ سے مقامی ڈاکٹر جاں بحق ہوگیا۔ ادھر بھاگ نامی علاقہ میں نامعلوم افراد نے کلینک میں گھس کر فائرنگ کردی جس سے ڈاکٹر امان اﷲ جاں بحق اور ایک نرس زخمی ہو گئی۔


یہ واقعات دہشت گردی کے نیٹ ورک کی اب تک ہولناک اور بے رحمانہ فعالیت کی نشاندہی کرتے ہیں جب کہ اسٹریٹ کرائم بھی میں بھی اضافے کی اطلاعات ہیں۔ اسی طرح کراچی کے مختلف علاقوں میں جہاں جرائم کا گراف واقعتاً گرا ضرور ہے تاہم منی بسوں، کوچز، رکشوں اور بازاروں میں ڈکیت دندناتے ہیں، بھری بسوں میں مسافروں کو گن پوائنٹ پر لوٹ لیتے ہیں۔ شہر قائد میں دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات روز کا معمول ہیں، پیر کو کے ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ سمیت5 افراد جاں بحق اور 7 افراد زخمی ہو گئے، زخمیوں میں ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ کی بیٹی بھی شامل ہے۔ ادھر دہشت گرد فاٹا میں بھی ہنوز سرگرم ہیں، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ان کی بچھائی ہوئی بارودی سرنگ کے دھماکوں سے 2 اہلکار شہید اور 3 زخمی ہوگئے۔

ایک خوش آیند اطلاع ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر سیکیورٹی اداروں نے کراچی سمیت سندھ بھر میں سرکاری اور نجی اداروں کی قیمتی اراضی پر قبضے، دہشت گردوں کو مالی معاونت اور سہولت پہنچانے اور دیگر جرائم میں ملوث ملزمان کی سیاسی سطح پر سرپرستی کرنے والوں کے گرد گھیرا انتہائی تنگ کردیا ہے، ان ملزمان کی سرپرستی کرنے والوں میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے اہم رہنما، بعض انتظامی عہدے دار، سرمایہ دار اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں، ان تمام جرائم کی سرپرستی کرنے والوں کی فائنل فہرستیں مرتب کی جارہی ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہائی پروفائل 13طالبان اور 6 القاعدہ گروپ لیڈرز کو سال 2015کی پہلی سہ ماہی (جنوری تا مارچ 2015) میں ہلاک کیا جب کہ اسی عرصے کے دوران کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کے تحت 326دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ۔

امید کی جانی چاہیے کہ گینگ وار سمیت پورے ملک میں دہشت گردی ،فرقہ وارانہ قتل وغارت اور بلوچستان میں بد امنی سے نمٹنے کے لیے فورسز کی کارروائی کے ساتھ ساتھ سماجی، معاشی اور سیاسی اقدامات کے ذریعے بھی حالات کو نارمل کرنے پر توجہ دی جائے۔ تاہم دہشت گردوں پر واضح کر دینا چاہیے کہ سیاسی اختلافات ، شکایات یا احساس محرومی کو پر تشدد واقعات یا دہشت گردی کا لائسنس سمجھنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی۔
Load Next Story