پورے معاشرے کی بینکاری خدمات تک رسائی چاہتے ہیں ایس بی پی
پاکستان میں اے ٹی ایمز کی دستیابی بہت کم ہے اور ملک میں صرف 5600 اے ٹی ایمز ہیں، ڈپٹی گورنر
پاکستان میں اے ٹی ایمز کی دستیابی بہت کم ہے اور ملک میں صرف 5600 اے ٹی ایمز ہیں، ڈپٹی گورنر فوٹو: فائل
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر قاضی عبدالمقتدر نے معاشرے کے تمام طبقات کو بینکاری خدمات مہیا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
گزشتہ روزکراچی پریس کلب کے دورے میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب کی مربوط کوششوں سے ہم ''بینکاری سب کے لیے'' کا مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ موثر اور پھلتے پھولتے بینکاری نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ملک میں مالی شمولیت بڑھانے کیلیے مالی اداروں کو ضوابطی ماحول فراہم کررہا ہے، عوام کو فنانس تک رسائی فراہم کرنا نہ صرف مرکزی بینک بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے دشوار کام ہے، اسٹیٹ بینک لوگوں کو ان کی دہلیز پر بینکاری خدمات پہنچانے کیلیے کوشاں ہے۔
قاضی عبدالمقتدر کے مطابق اسٹیٹ بینک نے اپنی برانچ لائسنسنگ پالیسی کے تحت بینکوں کے لیے لازم قرار دیا ہے کہ اپنی کم از کم 20 فیصد نئی برانچیں دیہات اور بینکاری کی خدمات سے محروم علاقوں میں کھولیں، برانچ لیس بینکاری ملک بھر میں اپنی 30ہزار سے زائد ایکسس پوائنٹس کے ذریعے کم آمدنی والے اور بینکاری خدمات سے محروم افراد تک پہنچ رہی ہے، گزشتہ مالی سال کی چوتھی سہ ماہی کے دوران 115 ارب روپے کے تقریباً 3 کروڑ سودے برانچ لیس بینکاری کے ذریعے ہوئے اور اوسطاً 3لاکھ 15ہزار 178 سودے روزانہ ہوتے ہیں جبکہ برانچ لیس بینکاری اکاؤنٹس کی تعداد بڑھ کر 17 لاکھ ہوچکی ہے، عالمی بینک کے کنسلٹیٹو گروپ ٹو اسسٹ دی پور (سی جی اے پی) کے مطابق پاکستان دنیا میں برانچ لیس بینکاری کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔
ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کراچی پریس کلب میں اے ٹی ایم کا افتتاح بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اے ٹی ایمز کی دستیابی بہت کم ہے اور ملک میں صرف 5600 اے ٹی ایمز ہیں، فی الوقت ہمارے ہاں 2 بینک برانچوں پر صرف ایک اے ٹی ایم ہے جبکہ ترقی یافتہ ملکوں میں فی بینک برانچ 3 اے ٹی ایمز ہیں، اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو پالیسی ہدایات جاری کی ہیں جن کے تحت وہ مرحلہ وار اپنے اے ٹی ایم ورک نیٹ ورک کو توسیع دینے کے پابند ہیں تاکہ فی بینک برانچ ایک اے ٹی ایم کا ہدف حاصل کیا جا سکے، یہ ہدف حاصل ہونے کے بعد ہمارا منصوبہ ہے کہ بتدریج اس حد کو بڑھائیں تاکہ عالمی معیار تک پہنچ سکیں۔
گزشتہ روزکراچی پریس کلب کے دورے میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب کی مربوط کوششوں سے ہم ''بینکاری سب کے لیے'' کا مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ موثر اور پھلتے پھولتے بینکاری نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ملک میں مالی شمولیت بڑھانے کیلیے مالی اداروں کو ضوابطی ماحول فراہم کررہا ہے، عوام کو فنانس تک رسائی فراہم کرنا نہ صرف مرکزی بینک بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے دشوار کام ہے، اسٹیٹ بینک لوگوں کو ان کی دہلیز پر بینکاری خدمات پہنچانے کیلیے کوشاں ہے۔
قاضی عبدالمقتدر کے مطابق اسٹیٹ بینک نے اپنی برانچ لائسنسنگ پالیسی کے تحت بینکوں کے لیے لازم قرار دیا ہے کہ اپنی کم از کم 20 فیصد نئی برانچیں دیہات اور بینکاری کی خدمات سے محروم علاقوں میں کھولیں، برانچ لیس بینکاری ملک بھر میں اپنی 30ہزار سے زائد ایکسس پوائنٹس کے ذریعے کم آمدنی والے اور بینکاری خدمات سے محروم افراد تک پہنچ رہی ہے، گزشتہ مالی سال کی چوتھی سہ ماہی کے دوران 115 ارب روپے کے تقریباً 3 کروڑ سودے برانچ لیس بینکاری کے ذریعے ہوئے اور اوسطاً 3لاکھ 15ہزار 178 سودے روزانہ ہوتے ہیں جبکہ برانچ لیس بینکاری اکاؤنٹس کی تعداد بڑھ کر 17 لاکھ ہوچکی ہے، عالمی بینک کے کنسلٹیٹو گروپ ٹو اسسٹ دی پور (سی جی اے پی) کے مطابق پاکستان دنیا میں برانچ لیس بینکاری کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔
ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کراچی پریس کلب میں اے ٹی ایم کا افتتاح بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اے ٹی ایمز کی دستیابی بہت کم ہے اور ملک میں صرف 5600 اے ٹی ایمز ہیں، فی الوقت ہمارے ہاں 2 بینک برانچوں پر صرف ایک اے ٹی ایم ہے جبکہ ترقی یافتہ ملکوں میں فی بینک برانچ 3 اے ٹی ایمز ہیں، اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو پالیسی ہدایات جاری کی ہیں جن کے تحت وہ مرحلہ وار اپنے اے ٹی ایم ورک نیٹ ورک کو توسیع دینے کے پابند ہیں تاکہ فی بینک برانچ ایک اے ٹی ایم کا ہدف حاصل کیا جا سکے، یہ ہدف حاصل ہونے کے بعد ہمارا منصوبہ ہے کہ بتدریج اس حد کو بڑھائیں تاکہ عالمی معیار تک پہنچ سکیں۔