گلگت بلتستان آئینی حیثیت کا مستحق
حکومت کوگلگت بلتستان کوآئینی صوبہ بنانےکےلیےمزیدتاخیرنہیں کرنی چاہیے،اس ضمن میں نئےاضلاع کےقیام کااعلان خوش آیند ہے۔
حکومتی امیدواروں کے لیے ترقیاتی پیکیجزسے زیادہ اہم وہ اقدامات انتخابی عمل کی شفافیت اور اسٹبلشمنٹ کی غیر جانبداری ہے جسکی جھلک قوم کو واضح نظر آئے ۔فوٹو: پی آئی ڈی
وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں تعمیری سیاست کرنے آئے ہیں، کنٹینر کی سیاست پر نہیں شائستگی کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا مقصد عوام کی بے غرض ہوکر خدمت کرنا ہے۔ لالک جان اسٹیڈیم گلگت میں عوامی اجتماع سے خطاب میں وزیراعظم نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے معاملہ کے جائزہ کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے کا بھی اعلان کیا جس کے سربراہ مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز ہوں گے۔
وزیراعظم کے خطاب میں دو باتیں اہمیت کی حامل ہیں ،ان میں ایک شائستگی اور عوامی خدمت پر مبنی حکومتی اقدامات اور فلاح و بہبود سے منسلک منصوبوں کی تکمیل کا عہد ہے اور دوسرے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین کا معاملہ ہے۔
بادی النظر میں دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ، ایک طرف گلگت بلتستان کے عوام میں وفاق سے اپنائیت کے بھرپور احساس کی ادارہ جاتی استقامت اور دوسری طرف امن و امان کی بہتری، دہشتگردی کے سدباب کے ساتھ ساتھ روزگار، تعلیم و صحت کے شعبوں میں سہولتوں اور افرادی قوت کو جدید فنی و سائنسی تعلیم اور صنعت و حرفت سے آراستہ کرنا ہے۔
تاہم یہ کام علاقہ کو آئینی مقام و حیثیت دینے کی صورت میں نتیجہ خیز ہوگا۔ اس لیے حکومت کو گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے کے لیے مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے ، اس ضمن میں نئے اضلاع کے قیام کا اعلان خوش آیند ہے ۔ وزیراعظم کا یہ کہنا چشم کشا ہے کہ ماضی میں گلگت بلتستان کونسل کے اجلاس اسلام آباد میں ہوا کرتے تھے تو وہ کہتے کہ یہ کیا مذاق ہے، لیکن اب وہ خود یہاں آئے ہیں کیونکہ ان کا دل گلگت بلتستان کے عوام کے لیے دھڑکتا ہے۔
انھوں نے بہت سے منصوبوں کی خوشخبری دی ۔ وزیراعظم کے مطابق خنجراب سے اسلام آباد تک ریلوے سروس شروع کی جائے گی۔ قراقرم یونیورسٹی کے بعد اب بلتستان یونیورسٹی بنائی جائے گی۔ ہنزہ میں عطاآباد جھیل میں 27 ارب روپے لاگت کی ٹنل کی تعمیر اور ہنزہ اور نگر کو ضلع کا درجہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شگر اور تھرمنگ کو بھی ضلع کا درجہ دیں گے۔ شمالی علاقوں میں سڑکوں کا جال بچھا دیں گے اور ایسا وقت بھی آئے گا کہ سکردو کو ریلوے کے ساتھ منسلک کریں گے۔
یوتھ ایمپلائمنٹ اسکیم کے تحت ہنرمند نوجوانوں کو 20، 20 لاکھ کے قرضے دیے جائیں گے۔ گلگت میں پانی کی کمی اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کردی جائے گی۔ دیامر بھاشا ڈیم سے 4 ہزار 500 میگا واٹ ، بونجی ڈیم 7 ہزار میگاواٹ داسو ڈیم 10 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔ قبل ازیں وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت گلگت بلتستان کونسل کا اجلاس ہوا۔
جس میں گورنر گلگت بلتستان برجیس طاہر نے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ شاہراہ قراقرم کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی فورس جب کہ جنگلات کے تحفظ کے لیے 30 سالہ پالیسی تشکیل دی جارہی ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے 45 ارب کے ترقیاتی منصوبوں پر شفاف طریقے سے عمل کیا جائے، بدعنوانی روکنے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے، حکومت گلگت بلتستان کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانا چاہتی ہے تو کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہ لائے۔
گلگت بلتستان کو 70 ء کے بعد سے ہی پاکستان کے انتظامی یونٹ سے بڑھ کر گریٹر پاکستان میں صوبہ کا درجہ ملنا چاہیے تھا اسی طرح فاٹا کو بھی عرصہ دراز سے نو مینز لینڈ بنا کر حکمراں اپنی تزویراتی ، معدنی ، معاشی اور جغرافیائی اہمیت کے اہم کام فراموش کر گئے۔ فاٹا بھی صوبہ بنائے جانے کا مستحق ہے اس کے عوام کو محبت و یگانگت اور قومی یکجہتی کے بے پایاں اظہار کو حقیقت کا روپ دینے جب کہ وفاق کے آئینی ڈھانچہ سے سیاسی ، اقتصادی اورا سٹرٹیجیکل محل وقوع کے اعتبار سے آزاد علاقہ کی ''قید'' اور ٹیگ سے عملاً نجات ملنی چاہیے۔
اجلاس میں گلگت بلتستان تحفظ پاکستان بل 2015ء اور آیندہ بجٹ کی منظوری دی گئی۔ ادھر پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر خان ترین نے نوازشریف کے دورہ گلگت اور وہاں پیکیج کے اعلان کو پری پول دھاندلی قراردیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔جہانگیر ترین نے چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کوایک خط لکھا ہے۔
جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کی اس سرگرمی کا نوٹس لیا جائے۔اگرچہ عدالتی احکامات پہلے ہی دیے جا چکے ہیں، اور عام انتخابات ، ضمنی الیکشن یا بلدیاتی انتخابات کے حوالہ سے حکومت کو خود بھی اس قسم کے ترقیاتی پیکیجز کے اعلان سے گریز لازم ہے تاکہ کسی کو پری پول رگنگ کی شکایت کا موقع نہ ملے۔ اپنے پڑوسی ملک بھارت کو دیکھئے ، وہاں یہ روایت نہیں، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی اس قسم کی پری پول ''سرمایہ کاری'' پر یقین نہیں رکھتے۔ حکومتی امیدواروں کے لیے ترقیاتی پیکیجزسے زیادہ اہم وہ اقدامات انتخابی عمل کی شفافیت اور اسٹبلشمنٹ کی غیر جانبداری ہے جسکی جھلک قوم کو واضح نظر آئے ۔
امید کی جانی چاہیے کہ وفاقی حکومت دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر ، پی آئی اے کی پروازوں میں اضافہ، گلگت ایئر پورٹ کو جیٹ طیاروں کے اترنے کے قابل بنانے اور گلگت بلتستان کے عوام کو بااختیاریت کے احساس سے سرشار کرنے کے لیے وہ تمام حقوق اور سہولتیں دے گی تاکہ علاقے کے عوام کی تقدیر بدلنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔
وزیراعظم کے خطاب میں دو باتیں اہمیت کی حامل ہیں ،ان میں ایک شائستگی اور عوامی خدمت پر مبنی حکومتی اقدامات اور فلاح و بہبود سے منسلک منصوبوں کی تکمیل کا عہد ہے اور دوسرے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین کا معاملہ ہے۔
بادی النظر میں دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ، ایک طرف گلگت بلتستان کے عوام میں وفاق سے اپنائیت کے بھرپور احساس کی ادارہ جاتی استقامت اور دوسری طرف امن و امان کی بہتری، دہشتگردی کے سدباب کے ساتھ ساتھ روزگار، تعلیم و صحت کے شعبوں میں سہولتوں اور افرادی قوت کو جدید فنی و سائنسی تعلیم اور صنعت و حرفت سے آراستہ کرنا ہے۔
تاہم یہ کام علاقہ کو آئینی مقام و حیثیت دینے کی صورت میں نتیجہ خیز ہوگا۔ اس لیے حکومت کو گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے کے لیے مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے ، اس ضمن میں نئے اضلاع کے قیام کا اعلان خوش آیند ہے ۔ وزیراعظم کا یہ کہنا چشم کشا ہے کہ ماضی میں گلگت بلتستان کونسل کے اجلاس اسلام آباد میں ہوا کرتے تھے تو وہ کہتے کہ یہ کیا مذاق ہے، لیکن اب وہ خود یہاں آئے ہیں کیونکہ ان کا دل گلگت بلتستان کے عوام کے لیے دھڑکتا ہے۔
انھوں نے بہت سے منصوبوں کی خوشخبری دی ۔ وزیراعظم کے مطابق خنجراب سے اسلام آباد تک ریلوے سروس شروع کی جائے گی۔ قراقرم یونیورسٹی کے بعد اب بلتستان یونیورسٹی بنائی جائے گی۔ ہنزہ میں عطاآباد جھیل میں 27 ارب روپے لاگت کی ٹنل کی تعمیر اور ہنزہ اور نگر کو ضلع کا درجہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شگر اور تھرمنگ کو بھی ضلع کا درجہ دیں گے۔ شمالی علاقوں میں سڑکوں کا جال بچھا دیں گے اور ایسا وقت بھی آئے گا کہ سکردو کو ریلوے کے ساتھ منسلک کریں گے۔
یوتھ ایمپلائمنٹ اسکیم کے تحت ہنرمند نوجوانوں کو 20، 20 لاکھ کے قرضے دیے جائیں گے۔ گلگت میں پانی کی کمی اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کردی جائے گی۔ دیامر بھاشا ڈیم سے 4 ہزار 500 میگا واٹ ، بونجی ڈیم 7 ہزار میگاواٹ داسو ڈیم 10 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔ قبل ازیں وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت گلگت بلتستان کونسل کا اجلاس ہوا۔
جس میں گورنر گلگت بلتستان برجیس طاہر نے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق بریفنگ میں بتایا کہ شاہراہ قراقرم کی سیکیورٹی کے لیے خصوصی فورس جب کہ جنگلات کے تحفظ کے لیے 30 سالہ پالیسی تشکیل دی جارہی ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے 45 ارب کے ترقیاتی منصوبوں پر شفاف طریقے سے عمل کیا جائے، بدعنوانی روکنے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے، حکومت گلگت بلتستان کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانا چاہتی ہے تو کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہ لائے۔
گلگت بلتستان کو 70 ء کے بعد سے ہی پاکستان کے انتظامی یونٹ سے بڑھ کر گریٹر پاکستان میں صوبہ کا درجہ ملنا چاہیے تھا اسی طرح فاٹا کو بھی عرصہ دراز سے نو مینز لینڈ بنا کر حکمراں اپنی تزویراتی ، معدنی ، معاشی اور جغرافیائی اہمیت کے اہم کام فراموش کر گئے۔ فاٹا بھی صوبہ بنائے جانے کا مستحق ہے اس کے عوام کو محبت و یگانگت اور قومی یکجہتی کے بے پایاں اظہار کو حقیقت کا روپ دینے جب کہ وفاق کے آئینی ڈھانچہ سے سیاسی ، اقتصادی اورا سٹرٹیجیکل محل وقوع کے اعتبار سے آزاد علاقہ کی ''قید'' اور ٹیگ سے عملاً نجات ملنی چاہیے۔
اجلاس میں گلگت بلتستان تحفظ پاکستان بل 2015ء اور آیندہ بجٹ کی منظوری دی گئی۔ ادھر پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر خان ترین نے نوازشریف کے دورہ گلگت اور وہاں پیکیج کے اعلان کو پری پول دھاندلی قراردیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔جہانگیر ترین نے چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کوایک خط لکھا ہے۔
جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کی اس سرگرمی کا نوٹس لیا جائے۔اگرچہ عدالتی احکامات پہلے ہی دیے جا چکے ہیں، اور عام انتخابات ، ضمنی الیکشن یا بلدیاتی انتخابات کے حوالہ سے حکومت کو خود بھی اس قسم کے ترقیاتی پیکیجز کے اعلان سے گریز لازم ہے تاکہ کسی کو پری پول رگنگ کی شکایت کا موقع نہ ملے۔ اپنے پڑوسی ملک بھارت کو دیکھئے ، وہاں یہ روایت نہیں، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی اس قسم کی پری پول ''سرمایہ کاری'' پر یقین نہیں رکھتے۔ حکومتی امیدواروں کے لیے ترقیاتی پیکیجزسے زیادہ اہم وہ اقدامات انتخابی عمل کی شفافیت اور اسٹبلشمنٹ کی غیر جانبداری ہے جسکی جھلک قوم کو واضح نظر آئے ۔
امید کی جانی چاہیے کہ وفاقی حکومت دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر ، پی آئی اے کی پروازوں میں اضافہ، گلگت ایئر پورٹ کو جیٹ طیاروں کے اترنے کے قابل بنانے اور گلگت بلتستان کے عوام کو بااختیاریت کے احساس سے سرشار کرنے کے لیے وہ تمام حقوق اور سہولتیں دے گی تاکہ علاقے کے عوام کی تقدیر بدلنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔