بس سروس پروجیکٹ کا اجراء مستحسن فیصلہ

سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے لیکن وطن عزیز میں تو مسافروں کے لیے سفر انگریزی والا سفر ثابت ہوتا ہے

کراچی اور سندھ میں ٹرانسپورٹ کا نظام درست کرنے سے صورتحال یقینا بہترہوگی عام آدمی کو ریلیف ملے گا۔ فوٹو : فائل

سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے لیکن وطن عزیز میں تو مسافروں کے لیے سفر انگریزی والا سفر ثابت ہوتا ہے ، خلق خدا کو سفری سہولیات کی عدم فراہمی کا سامنا ہے، پبلک سیکٹر میں چلنے والی انٹرسٹی بس سروس کے حوالے سے سندھ میں مسافروں کو متعدد شکایات ہیں، زائد کرایوں کی وصولی، گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوارکرنا، مقررہ وقت میں منزل پر نہ پہنچنا، بسوں کی حالت کا درست نہ ہونا اور راستے میں موجود ہوٹلوں کے کھانے کا غیر معیاری ہونا شامل ہیں۔

عوام ٹرانسپورٹ مافیا کے ہاتھوں یرغمال بن چکے تھے،اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ حکومت نے ٹرانسپورٹ کے شعبے پر توجہ دینا چھوڑ دی تھی لیکن اب اسی مسئلے کوحل کرنے کی غرض سے حکومت سندھ اور نجی کمپنی کے درمیان ایک باضابطہ معاہدے طے پایا ہے جس کے تحت کراچی تا سکھر ایک سو نئی بسیں چلا کر کراچی کو حیدرآباد ، میرپورخاص، سکھر، بے نظیرآباد اور لاڑکانہ سے ملایا جارہا ہے۔

ابتدائی طور پر پچاس بسیں چلائی جارہی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کراچی میں سادہ اور پروقارتقریب میں انٹر بس سٹی سروس کا افتتاح کیا ۔تقریب میں کوریا کے سفیر، قونصل جنرل ، صدر ڈائیوو بس سروس نے بھی شرکت کی ۔اس موقعے پر وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے سندھ کے لوگوں سے معیاری،آرام دہ اور مناسب کرائے کے ساتھ بہتر ٹرانسپورٹ سہولتوں کی فراہمی کے وعدہ کو پورا کردیا ۔ہم نے کراچی کے مختلف روٹس پر بس سروس چلانے کے لیے ڈائیووکو پبلک پرائیوٹ پارٹنر کے تحت بسیں چلانے کی پیش کش کی ہے۔


وزیراعلیٰ سندھ کے خیالات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انھیں نہ صرف عوام کے مسائل کا ادراک ہے بلکہ وہ ان کو حل کرنے میں بھی بھرپور دلچسپی رکھتے ہیں ۔کراچی جو پاکستان کا آبادی کے لحاظ اتنا بڑا شہر ہے کہ اس میں چار شہر سما سکتے ہیں ۔

پبلک ٹرانسپورٹ کی شدید کمی کا شکار ہوچکا ہے، سی این جی کی بندش والے دن تو پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہوجاتی ہے، لاکھوں کی تعداد میں سفر کرنے والے مردوخواتین بچے ، بزرگ رل جاتے ہیں ۔نوجوان تو بسوں کی چھتوں پر بھی چڑھ جاتے ہیں لیکن خواتین اور بزرگوں کو دیکھ کر ڈرائیور حضرات بس تک نہیں روکتے ۔ جوکچھ حیثیت رکھتے ہیں وہ کار، موٹرسائیکل خریدنے پر مجبورکردیے گئے ہیں، ٹریفک جام کے مسائل الگ ہیں ۔

کراچی اور سندھ میں ٹرانسپورٹ کا نظام درست کرنے سے صورتحال یقینا بہترہوگی عام آدمی کو ریلیف ملے گا، غیرملکی سرمایہ داروں کا اعتماد بڑھے گا اور وہ ٹرانسپورٹ کے علاوہ مزید شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کریں گے ، اس طرح صوبہ سندھ ملکی ترقی میں اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کرسکے گا۔
Load Next Story