جرمن بھارت تعاون مودی اپنا وژن صاف کریں
بات تو یقیناً اہمیت کی حامل اور سو فیصد درست ہے لیکن ہماری ناقص رائے میں مودی کو اپنا وژن کلیئر کرنے کی ازحد ضرورت ہے
مودی اپنے خیالات کی تطہیر کریں اور اپنا وژن صاف رکھیں، تبھی امن و دوستی کی یہ خواہش کامیابی سے ہمکنار ہوسکتی ہے۔ فوٹو : گیٹی امیجز
اخباری اطلاعات کے مطابق برلن میں جرمن چانسلر اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات میں جرمنی اور بھارت نے تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں۔ پریس کانفرنس سے قبل دونوں رہنماؤں نے جرمن دارالحکومت برلن میں چانسلر مرکل کے دفتر میں ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران ایک مستحکم افغانستان کی اہمیت، دہشت گردی کے باعث پیدا ہونے والے خطرات اور نریندر مودی کی طرف سے تجارت نواز ایجنڈا اپنانے کے بعد عالمی برادری کی طرف سے ان کے ملک میں سرمایہ کاری کی خواہش جیسے معاملات پر بات چیت ہوئی۔ بھارت میں شدت پسند تنظیموں کی حمایت اور گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے الزام میں ملوث بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ''میرا یقین ہے کہ دہشت گردی انسانیت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، انسان دوست قوتوں کو چاہیے کہ وہ اس خطرے کے خلاف متحد ہوجائیں''۔
بات تو یقیناً اہمیت کی حامل اور سو فیصد درست ہے لیکن ہماری ناقص رائے میں مودی کو اپنا وژن کلیئر کرنے کی ازحد ضرورت ہے، ایک جانب وہ دہشت گردی کے خلاف نظر آتے ہیں تو دوسری جانب بھارت میں شدت پسندوں کی حمایت اور مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم پر ان کا دہرا معیار دکھائی دیتا ہے، کشمیر کے مسلمانوں پر ڈھایا جانے والا ظلم کسی سے ڈھکا چھپا نہیں لیکن مذکورہ جرمن بھارت ملاقات میں بھی اپنی فوجی طاقت کو بڑھانے کی خواہش کا اظہار بھارت کے جنگی جنون کو ظاہر کرتا ہے۔
نریندر مودی نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات بھارت کی پہلی ترجیح رہے گی اور اس سلسلے میں پاکستان کے ساتھ بھی مذاکراتی عمل کی بحالی کی امید کی جا سکتی ہے۔ اس مثبت طرز عمل کے فوری بعد انھوں نے ایک بار پھر پاکستان پر الزام عائد کیا کہ پاکستان کی سرزمین ماضی میں بھی ہمارے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے، تشدد اور بات چیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔
پاک بھارت بہتر تعلقات خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہیں، اسی بات کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان نے ہمیشہ نیک نیتی اور خلوص سے پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات استوار کرنا چاہے ہیں، موجودہ حکومت کے تعلقات بحالی اقدامات پر کوئی شک نہیں کیا جاسکتا لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، بھارت کو بھی اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر اعتدال پسند رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ مخاصمت اور دوستی کی خواہش ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی، مودی اپنے خیالات کی تطہیر کریں اور اپنا وژن صاف رکھیں، تبھی امن و دوستی کی یہ خواہش کامیابی سے ہمکنار ہوسکتی ہے۔
ملاقات کے دوران ایک مستحکم افغانستان کی اہمیت، دہشت گردی کے باعث پیدا ہونے والے خطرات اور نریندر مودی کی طرف سے تجارت نواز ایجنڈا اپنانے کے بعد عالمی برادری کی طرف سے ان کے ملک میں سرمایہ کاری کی خواہش جیسے معاملات پر بات چیت ہوئی۔ بھارت میں شدت پسند تنظیموں کی حمایت اور گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے الزام میں ملوث بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ''میرا یقین ہے کہ دہشت گردی انسانیت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، انسان دوست قوتوں کو چاہیے کہ وہ اس خطرے کے خلاف متحد ہوجائیں''۔
بات تو یقیناً اہمیت کی حامل اور سو فیصد درست ہے لیکن ہماری ناقص رائے میں مودی کو اپنا وژن کلیئر کرنے کی ازحد ضرورت ہے، ایک جانب وہ دہشت گردی کے خلاف نظر آتے ہیں تو دوسری جانب بھارت میں شدت پسندوں کی حمایت اور مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم پر ان کا دہرا معیار دکھائی دیتا ہے، کشمیر کے مسلمانوں پر ڈھایا جانے والا ظلم کسی سے ڈھکا چھپا نہیں لیکن مذکورہ جرمن بھارت ملاقات میں بھی اپنی فوجی طاقت کو بڑھانے کی خواہش کا اظہار بھارت کے جنگی جنون کو ظاہر کرتا ہے۔
نریندر مودی نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات بھارت کی پہلی ترجیح رہے گی اور اس سلسلے میں پاکستان کے ساتھ بھی مذاکراتی عمل کی بحالی کی امید کی جا سکتی ہے۔ اس مثبت طرز عمل کے فوری بعد انھوں نے ایک بار پھر پاکستان پر الزام عائد کیا کہ پاکستان کی سرزمین ماضی میں بھی ہمارے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے، تشدد اور بات چیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔
پاک بھارت بہتر تعلقات خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہیں، اسی بات کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان نے ہمیشہ نیک نیتی اور خلوص سے پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات استوار کرنا چاہے ہیں، موجودہ حکومت کے تعلقات بحالی اقدامات پر کوئی شک نہیں کیا جاسکتا لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، بھارت کو بھی اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر اعتدال پسند رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ مخاصمت اور دوستی کی خواہش ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی، مودی اپنے خیالات کی تطہیر کریں اور اپنا وژن صاف رکھیں، تبھی امن و دوستی کی یہ خواہش کامیابی سے ہمکنار ہوسکتی ہے۔