صحبت کھوسو کیس میں معطل پولیس انسپکٹر کی بحالی کا حکم

قوم پرست تنظیم کے رکن کے کیس میں عدالت نے سابق ایس ایچ او ودیگر اہلکاروں کو معطل کیا تھا, سابق ایس ایچ او.

ملزمان نے بھائی کو قتل اور بیٹے کو اغوا کیا، اسماعیل بروہی،سینٹرل جیل حیدرآباد کے قریب فائرنگ سے قیدی زخمی ہوجاتے ہیں،آئی جی فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے قوم پرست تنظیم کے لاپتا کارکن صحبت کھوسو کیس میں معطل پولیس انسپکٹرخادم حسین کو عارضی طور پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

، عدالت نے گذشتہ سماعت پر سابق ایس ایچ او رانی پور غلام قادر جتوئی،ایس ایچ او رانی پور خادم حسین میمن اور انچارج سی آئی اے لاڑکانہ عبدالقادرچانڈیو کو صحبت کھوسو کی بازیابی کے سلسلے میں تسلی بخش اقدامات نہ کرنے پر معطل کردیا تھا،منگل کو معطل انسپکٹر خادم حسین نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ محض الزام کی بنیاد پر معطل کرنا انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں،ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں،اس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل میران محمد شاہ نے عدالت کو بتایا کہ 3اکتوبرکو ایس پی گمبٹ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اور توقع ہے کہ لاپتا شہری کی بازیابی کیلیے جلد پیش رفت ہوگی۔


عدالت نے سماعت دو ہفتوں کیلیے ملتوی کردی، گذشتہ سماعت پر عدالت نے اپنی آبزرویشن میں کہا تھا کہ لاپتہ صحبت کھوسو کی بازیابی کیلیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے اور اس ضمن میں کوئی مثبت رپورٹ پیش نہیں کی گئی، دریں اثنا اسی عدالت نے لڑکے کے اغوا کے مقدمے کی نگرانی متعلقہ ڈی آئی جی کو کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مقدمے میں اپنے ماتحتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں، بینچ کو بتایاگیا کہ ایک نامزد ملزم محبوب کورائی کو گرفتارکرلیاگیا ہے اور وہ اپنے خلاف مقدمے کا سامنا کررہا ہے۔

مغوی کی بازیابی کیلیے ہرممکن کوشش کی جارہی ہے، درخواست گزار محمد اسماعیل بروہی کے مطابق اسکے بھائی نے 25 اکتوبر 2011 میں لاڑکانہ کے رشید وگن پولیس اسٹیشن میں قتل اور دیگر الزامات میں گلن ، درمحمد اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی ، ملزمان نے اسکے بھائی محمد ابراہیم کو قتل اور اسکے بیٹے کو اغوا کرلیا ہے ،پولیس ملزمان کیخلاف کارروائی کے بجائے درخواست گزار کے رشتہ داروں سے رشوت طلب کررہی ہے،گرفتار ملزمان ضمانت پر رہائی کے بعد درخواست گزار اور اسکے اہل خانہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جیلوں میں قیدیوں کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت کی ،اس موقع پرایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سرورخان، ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ہوم) وسیم احمد، آئی جی جیل خانہ جات گلزار احمد چنااور دیگر پیش ہوئے۔آئی جی جیل خانہ جات نے عدالت کو بتایا کہ سینٹرل جیل حیدرآباد کے قریب فائرنگ معمول بن گئی ہے ۔
Load Next Story