اسپیکر کاپی ٹی آئی ارکان کی رکنیت ختم کرنے کیلئے اسمبلی میں رائے شماری کا اعلان تنخواہیں روک لی گئیں
اجلاس میں غیر حاضری پر رکنیت ختم کرنے کے لیے ایم کیو ایم کی تحریک منظور
استعفے منظورکرنے کی باتیں کرنیوالے اب ایوان میں ووٹ دیکرتحریک انصاف کے ارکان کی رکنیت ختم کرالیں،مجھے خوشی ہوگی،ایاز صادق فوٹو: فائل
اسپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق نے تحریک انصاف کے ارکان کی اجلاسوں میں غیر حاضر ہونے کے باعث رکنیت ختم کرنے کیلیے ایم کیو ایم کی تحریک منظورکرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں رائے شماری کروانے کااعلان کیا ہے اورکہاہے کہ آڈٹ اعتراضا ت کی وجہ سے تحریک انصاف کے اراکین کی تنخواہیں روکی گئی ہیں۔
پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اسپیکرایاز صادق نے کہا کہ ایم کیوایم کی جانب سے تحریک انصاف کے ارکان کی رکنیت ختم کرنے کیلیے پیش تحریک منظورکرلی گئی جس پر قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں نجی کارروائی کے روز رائے شماری کروائی جائے گی۔ تحریک ایم کیو ایم کے18 ارکان کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے جس پر فیصلہ ایوان کی اکثریت کرے گی۔
انھوں نے کہاکہ آڈٹ حکام کے اعتراض کے بعد تحریک انصاف کے اراکین کو تنخواہیں جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیاگیا اور روک لی گئیں کہ اگرتحریک انصاف کے اراکین کی رکنیت ختم ہوتی ہے تو پھرریکوری نہ کرنا پڑے ۔
اسپیکر نے کہاکہ انھیں پی ٹی آئی ارکان کی اسمبلیوں میں واپسی سے متعلق سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا خط موصول ہوا ہے، وہ حیران ہیں کہ سابق چیف جسٹس کو یہ معلوم نہیں کہ ایوان میں تحریک آئے گی توکوئی فیصلہ ہو گا۔ ان کے خط کا جواب ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے ۔ اسپیکر نے کہا پی ٹی آئی اراکین کے اسمبلی سے جانے کی سب سے زیادہ خوشی انھیں ہی ہوگی۔
انھوں نے کہاکہ استعفے کے معاملے پر انھوں نے رولنگ دے دی تھی اب اگر پاکستان تحریک انصا ف کے اراکین کی رکنیت منسوخ ہوتی ہے تو اس کی وجہ اجلاسوں میں عدم شرکت ہوگی ۔ انھوں نے کہاکہ اسپیکر کی ڈیوٹی ہے کہ وہ تمام اراکین سے استعفوں کی تصدیق کریں ماضی میں عدالتی فیصلے موجود ہیں اور جو فیصلہ اب آیا ہے وہ ان کی رولنگ کو سپورٹ کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کے اجلاسوں میں دوبارہ حاضرہونے یاان کی جانب سے چھٹی کی درخواست دینے کے بعد بھی تحریک پر کوئی اثر نہیں آئے گا اور اس پر ایوان میں بحث ہو گی ۔
اس حوالے سے فیصلہ ایوان نے کرنا ہے۔ جو لوگ استعفی منظورکرنے کی باتیں کرتے تھے وہ آکر ووٹ دے دیں۔ بی بی سی کے مطابق قومی اسمبلی کے20 اپریل سے شروع ہونے والے اجلاس میں متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے تحریک انصاف کے ارکان کی رکنیت کو 40 دن سے زیادہ ایوان سے غیر حاضرہ رہنے پر معطل کرنے کی تحریک ایوان میں پیش کی جائے گی۔ متحدہ کی ترجمان ثمن جعفری کے مطابق یہ تحریک آئین کے آرٹیکل64 کے تحت گذشتہ اجلاس کے دوران جمع کرائی گئی تھی۔ اس تحریک کا مقصد آئین اور قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کو اجاگر کرنا ہے۔
پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اسپیکرایاز صادق نے کہا کہ ایم کیوایم کی جانب سے تحریک انصاف کے ارکان کی رکنیت ختم کرنے کیلیے پیش تحریک منظورکرلی گئی جس پر قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں نجی کارروائی کے روز رائے شماری کروائی جائے گی۔ تحریک ایم کیو ایم کے18 ارکان کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے جس پر فیصلہ ایوان کی اکثریت کرے گی۔
انھوں نے کہاکہ آڈٹ حکام کے اعتراض کے بعد تحریک انصاف کے اراکین کو تنخواہیں جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیاگیا اور روک لی گئیں کہ اگرتحریک انصاف کے اراکین کی رکنیت ختم ہوتی ہے تو پھرریکوری نہ کرنا پڑے ۔
اسپیکر نے کہاکہ انھیں پی ٹی آئی ارکان کی اسمبلیوں میں واپسی سے متعلق سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا خط موصول ہوا ہے، وہ حیران ہیں کہ سابق چیف جسٹس کو یہ معلوم نہیں کہ ایوان میں تحریک آئے گی توکوئی فیصلہ ہو گا۔ ان کے خط کا جواب ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے ۔ اسپیکر نے کہا پی ٹی آئی اراکین کے اسمبلی سے جانے کی سب سے زیادہ خوشی انھیں ہی ہوگی۔
انھوں نے کہاکہ استعفے کے معاملے پر انھوں نے رولنگ دے دی تھی اب اگر پاکستان تحریک انصا ف کے اراکین کی رکنیت منسوخ ہوتی ہے تو اس کی وجہ اجلاسوں میں عدم شرکت ہوگی ۔ انھوں نے کہاکہ اسپیکر کی ڈیوٹی ہے کہ وہ تمام اراکین سے استعفوں کی تصدیق کریں ماضی میں عدالتی فیصلے موجود ہیں اور جو فیصلہ اب آیا ہے وہ ان کی رولنگ کو سپورٹ کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کے اجلاسوں میں دوبارہ حاضرہونے یاان کی جانب سے چھٹی کی درخواست دینے کے بعد بھی تحریک پر کوئی اثر نہیں آئے گا اور اس پر ایوان میں بحث ہو گی ۔
اس حوالے سے فیصلہ ایوان نے کرنا ہے۔ جو لوگ استعفی منظورکرنے کی باتیں کرتے تھے وہ آکر ووٹ دے دیں۔ بی بی سی کے مطابق قومی اسمبلی کے20 اپریل سے شروع ہونے والے اجلاس میں متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے تحریک انصاف کے ارکان کی رکنیت کو 40 دن سے زیادہ ایوان سے غیر حاضرہ رہنے پر معطل کرنے کی تحریک ایوان میں پیش کی جائے گی۔ متحدہ کی ترجمان ثمن جعفری کے مطابق یہ تحریک آئین کے آرٹیکل64 کے تحت گذشتہ اجلاس کے دوران جمع کرائی گئی تھی۔ اس تحریک کا مقصد آئین اور قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کو اجاگر کرنا ہے۔