سری نگرکشمیریوں کے پاکستان کے حق میں نعرے
لاکھوں کشمیریوں کو اذیت دے کر شہید کرنےاورنئےنئےقبرستان آباد کرنے کےباوجودوہ کشمیریوں کے جذبہ حریت کا دبا نہیں سکا ہے۔
تشدد جب ہی جنم لیتا ہے جب ایک فریق کے پاس دلیل کی طاقت نہیں رہتی اور وہ بزوربازو اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔ فوٹو : اے ایف پی
سپر پاور بننے کے خبط میں مبتلا بھارت نے بزورطاقت کشمیر پر اپنا تسلط تو ابھی تک برقرار رکھا ہوا ہے، کشمیر اٹوٹ انگ کی رٹ بھی بھارتی حکمرانوں کے منہ سے سننے کو ملتی ہے، اقوام متحدہ کی قراردادیں توکبھی کی سرد خانے کی نذر ہوچکیں، سات لاکھ فوج بھی کشمیر میں تعینات ہے۔
قبرستان آباد اور آبادیاں ویران کرکے بھی بھارت والے سمجھتے ہیں کہ وہ کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہیں،وادی جموں وکشمیر پر تو بظاہر بھارت کا قبضہ ہے،لیکن اس کے باوجود وہ کشمیریوں کے دل سے آزادی کا جذبہ نہ نکال سکا،گزشتہ روز ہی کی بات ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف ہزاروں کشمیریوں نے ریلی نکالی جس میں پاکستانی پرچم لہرائے اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ پرجوش کشمیریوں نے پاکستان زندہ باد اور بھارت مردہ باد کے نعرے لگائے۔
پاکستان سے کشمیریوں کی دلی وابستگی اور وارفتگی کا عالم دیدنی تھا، سچے اورکھرے جذبوں کے مالک کشمیریوں کی آزادی کی لہر دیکھ کر بھارتی میڈیا کے دل پر سانپ لوٹ گئے، بھارتی میڈیا نے حریت رہنماؤں کو 'باغی' اور 'غدار' قرار دے ڈالا۔ اپنے حق اور آزادی کے لیے لڑنے والے کشمیری بھلا کیسے باغی اور غدار ہوسکتے ہیں، یہ بات بھارتی میڈیا اور حکمرانوں کے سمجھ میں آنے والی لگتی نہیں ۔یا پھر وہ سمجھنا ہی نہیں چاہتے کہ کسی کو بھی بزور جبر تاحیات غلام نہیں بنایا جاسکتا ہے۔
پاکستان سے تین جنگیں کرکے بھی بھارت نے دیکھ لی ہیں۔لاکھوں کشمیریوں کو اذیت دے کر شہید کرنے اور نئے نئے قبرستان آباد کرنے کے باوجود وہ کشمیریوں کے جذبہ حریت کا دبا نہیں سکا ہے۔
بھارتی حکومت دنیا کے سامنے یہ پروپیگنڈا کرتی ہے کہ کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے ،جب تک کشمیریوں کو حق خود ارادیت نہیں ملتا ، ان کی جدوجہد جاری رہے گی ۔وادی میں ہندوؤں کی آبادکاری،لاکھوں کی فوج تعینات کرنے اور نام نہاد الیکشن کے ذریعے کٹھ پتلی حکومتیں قائم کرنے سے کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں ہوسکتا۔ پاکستانی دفترخارجہ کی ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ کشمیری عوام پر بھارتی تشدد قابل مذمت ہے، کشمیری عوام کو تشدد کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا، پرامن ریلی کے شرکاء پر بھارتی تشدد انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
تشدد جب ہی جنم لیتا ہے جب ایک فریق کے پاس دلیل کی طاقت نہیں رہتی اور وہ بزوربازو اپنی بات منوانا چاہتا ہے، کاش کوئی بھارت کو یہ بات سمجھا دے کہ کشمیریوں نے تین نسلیں اپنی آزادی کے لیے قربان کردی ہیں ، وہ بھلا کیسے بھارت کے غلام رہ سکتے ہیں، دنیا جلد وہ دن دیکھے گی جب آزادی کا سورج کشمیر میں بھی طلوع ہوگا ۔
قبرستان آباد اور آبادیاں ویران کرکے بھی بھارت والے سمجھتے ہیں کہ وہ کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہیں،وادی جموں وکشمیر پر تو بظاہر بھارت کا قبضہ ہے،لیکن اس کے باوجود وہ کشمیریوں کے دل سے آزادی کا جذبہ نہ نکال سکا،گزشتہ روز ہی کی بات ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف ہزاروں کشمیریوں نے ریلی نکالی جس میں پاکستانی پرچم لہرائے اور بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ پرجوش کشمیریوں نے پاکستان زندہ باد اور بھارت مردہ باد کے نعرے لگائے۔
پاکستان سے کشمیریوں کی دلی وابستگی اور وارفتگی کا عالم دیدنی تھا، سچے اورکھرے جذبوں کے مالک کشمیریوں کی آزادی کی لہر دیکھ کر بھارتی میڈیا کے دل پر سانپ لوٹ گئے، بھارتی میڈیا نے حریت رہنماؤں کو 'باغی' اور 'غدار' قرار دے ڈالا۔ اپنے حق اور آزادی کے لیے لڑنے والے کشمیری بھلا کیسے باغی اور غدار ہوسکتے ہیں، یہ بات بھارتی میڈیا اور حکمرانوں کے سمجھ میں آنے والی لگتی نہیں ۔یا پھر وہ سمجھنا ہی نہیں چاہتے کہ کسی کو بھی بزور جبر تاحیات غلام نہیں بنایا جاسکتا ہے۔
پاکستان سے تین جنگیں کرکے بھی بھارت نے دیکھ لی ہیں۔لاکھوں کشمیریوں کو اذیت دے کر شہید کرنے اور نئے نئے قبرستان آباد کرنے کے باوجود وہ کشمیریوں کے جذبہ حریت کا دبا نہیں سکا ہے۔
بھارتی حکومت دنیا کے سامنے یہ پروپیگنڈا کرتی ہے کہ کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے ،جب تک کشمیریوں کو حق خود ارادیت نہیں ملتا ، ان کی جدوجہد جاری رہے گی ۔وادی میں ہندوؤں کی آبادکاری،لاکھوں کی فوج تعینات کرنے اور نام نہاد الیکشن کے ذریعے کٹھ پتلی حکومتیں قائم کرنے سے کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں ہوسکتا۔ پاکستانی دفترخارجہ کی ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ کشمیری عوام پر بھارتی تشدد قابل مذمت ہے، کشمیری عوام کو تشدد کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا، پرامن ریلی کے شرکاء پر بھارتی تشدد انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
تشدد جب ہی جنم لیتا ہے جب ایک فریق کے پاس دلیل کی طاقت نہیں رہتی اور وہ بزوربازو اپنی بات منوانا چاہتا ہے، کاش کوئی بھارت کو یہ بات سمجھا دے کہ کشمیریوں نے تین نسلیں اپنی آزادی کے لیے قربان کردی ہیں ، وہ بھلا کیسے بھارت کے غلام رہ سکتے ہیں، دنیا جلد وہ دن دیکھے گی جب آزادی کا سورج کشمیر میں بھی طلوع ہوگا ۔