آرمی چیف کا انتشار پھیلانے والی قوتوں کو انتباہ

حکومت پاکستان متعدد بار کہہ چکی ہے کہ بلوچستان کے بگاڑ میں بھارت اور دیگر غیر ملکی قوتیں ملوث ہیں

اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت پاکستان بلوچستان میں ملوث غیرملکی خفیہ ایجنسیوں کی متعلقہ حکومتوں سے کھل کر بات کرے۔ فوٹو : فائل

لاہور:
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے بدھ کو کوئٹہ کے دورے کے موقع پر بیرونی ریاستوں اور غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کو کھلے الفاظ میں متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے سے باز رہیں ورنہ انجام اچھا نہیں ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں، ان کے مدد گاروں، ہمدردوں اور مالی معاونت کرنے والوں کو بے نقاب کیا جائے گا اور انھیں ملک بھر میں کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، ریاست کی گرفت کو مضبوط بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔

بلوچستان کے حالات ایک عرصے سے خراب چلے آ رہے ہیں اور سیکیورٹی ادارے وہاں بگڑتے ہوئے معاملات کو قابو میں رکھنے کے لیے حتی الامکان کوشاں ہیں اور انھوں نے اب تک بہت سے دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ حکومت پاکستان متعدد بار کہہ چکی ہے کہ بلوچستان کے بگاڑ میں بھارت اور دیگر غیر ملکی قوتیں ملوث ہیں، پاکستان بھارت کو اس کی مداخلت کے ثبوت پیش کرنے کے علاوہ امریکا کو بھی ان تمام معاملات سے آگاہ کر چکا ہے۔

سیکیورٹی اداروں کی تمام تر کارروائیوں کے باوجود بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال میں بہتری نہیں آ رہی اور آئے روز دہشت گردی کا کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہونے سے عیاں ہوتا ہے کہ دہشت گردی کی جڑیں کافی پھیل اور مضبوط ہو چکی ہیں۔ قتل و غارت اور اغوا برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتیں بھی تشویش کا باعث بن چکی ہیں بدھ کو بھی کوئٹہ اور اندرون بلوچستان فائرنگ کے مختلف واقعات میں ایف ڈبلیو او کے ایمبولینس ڈرائیور سمیت پانچ افراد جاں بحق اور 13 زخمی ہو گئے۔

بلوچستان میں تمام تر کوششوں کے باوجود حالات کا قابو میں نہ آنا اور مسلسل بگڑتے چلے جانا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ دہشت گردوں کے پیچھے غیرملکی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے جو ان کی ہر طرح سے مدد کر رہی ہیں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کسی بھی ملک میں دہشت گردی اس وقت تک پروان نہیں چڑھتی جب تک کوئی غیرملکی قوت اس کی پشت پناہی نہ کرے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ آرمی چیف نے بلوچستان میں شورش کی پشت پناہی کرنے والی قوتوں کو واضح طور پر للکارا ہے۔


اگر اس علاقے کے حالات میں بہتری نہ آئی اور امن و امان کی صورت حال یونہی بگڑتی چلی گئی تو اغلب امکان ہے کہ فوج کو شمالی وزیرستان کی طرح بلوچستان میں بھی بڑے پیمانے پر آپریشن کرنا پڑے گا۔ ذرایع کے مطابق آپریشن ضرب عضب کا دائرہ کار بلوچستان تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

گزشتہ دنوں تربت میں درجنوں دہشت گردوں نے کیمپ میں سوئے ہوئے مزدوروں پر فائرنگ کر دی جس سے 20 افراد جاں بحق ہو گئے تھے، ان میں 16 کا تعلق پنجاب اور چار کا سندھ سے تھا۔ اس واقعے سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ دہشت گرد ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت دوسرے صوبوں سے آئے ہوئے مزدوروں تک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ فوج تو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار بخوبی ادا کر رہی ہے، سول اداروں کو بھی اس سلسلے میں جامع طریقہ کار طے کرنا ہو گا جب تک سول ادارے اپنی ذمے داری جانفشانی سے ادا نہیں کرتے تب تک معاملات پر قابو پانا ایک مشکل امر ہے۔

مبصرین کافی عرصے سے یہ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ پولیس کی موجودہ تربیت اور نظام دہشت گردی پر قابو پانے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے پولیس کو جدید تربیت اور ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا ہو گا، روایتی تربیت اور روایتی اسلحہ سے لیس پولیس جدید ہتھیاروں سے مسلح دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی، اس کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس اداروں کو بھی متحرک کرنا ہو گا، یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ خفیہ ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر لائحہ عمل طے کریں کیونکہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک جتنا مضبوط اور مربوط ہے۔

اس سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کا نیٹ ورک بھی اس سے کئی گنا زیادہ منظم اور مربوط ہونا چاہیے۔ ایسی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں کہ دہشت گردوں کو بعض بااثر مقامی قوتوں کی آشیر باد حاصل ہے اور یہ قوتیں ایک خاص ایجنڈے کے تحت دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہیں، مقامی سطح پر دہشت گردوں کی سپلائی لائن یہی قوتیں ہیں جب تک ان قوتوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی نہیں کی جائے گی تب تک دہشت گردی کا انسداد ممکن نہیں۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے مدد گاروں، ہمدردوں اور مالی معاونت کرنے والوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔

آرمی چیف کا فوکس غیر ملکی ایجنسیوں پر تھا جن میں را بھی شامل ہے، آرمی چیف کے عزائم اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ ملک سے ہر ممکن طور پر دہشت گردی کا خاتمہ کر کے اس خطے کو پرامن بنانا چاہتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت پاکستان بلوچستان میں ملوث غیرملکی خفیہ ایجنسیوں کی متعلقہ حکومتوں سے کھل کر بات کرے اور انھیں پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشوں سے باز رکھنے کے لیے کوشش کرے۔
Load Next Story