جماعت اسلامی کے بغیر فضل الرحمن کا 18 اکتوبر کو مجلس عمل بحال کرنیکا اعلان
جے یو آئی (ف)،جے یو آئی (س)،جمعیت علمائے پاکستان،جمعیت اہلحدیث اوراسلامی تحریک دوبارہ اتحاد میں شامل ہوجائیںگی
جماعت اسلامی سے نشستوں پراختلاف ہوا،عمران ہمارے گھرآئے تھے،الزامات کاجواب نہیں دونگا، جے یوآئی کے سربراہ کی پریس کانفرنس۔ فوٹو: فائل
جمعیت علمائے اسلام(ف) کے امیرمولانا فضل الرحمٰن نے متحدہ مجلس عمل کو جماعت اسلامی کے بغیرہی18 اکتوبرکوبحال کرنے کااعلان کردیاہے۔
اسلام آبادمیں میڈیابریفنگ کے دوران مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل 18اکتوبرکو بحال ہو جائے گی۔بحالی کے بعداس میں جے یو آئی (ف)،جے یوآئی (س)،جمعیت علمائے پاکستان ، جمعیت اہلحدیث اوراسلامی تحریک شامل ہوںگی۔ انھوںنے دعویٰ کیاکہ جماعت اسلامی نے خیبر پختونخوا اسمبلی کی50فیصد نشستیں مانگیں جس کی وجہ سے اختلاف ہوا،جماعت اسلامی والے ایم ایم اے کی صدارت بھی مانگ رہے تھے ۔
اس لیے اب فیصلہ ہواہے18 اکتوبر کوایم ایم اے کوجماعت اسلامی کی شمولیت کے بغیرہی بحال کردیاجائے گا ۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ عمران خان نے میرے گھر میںبیٹھ کرمجھ پر الزامات لگائے، اسی لیے ان کے الزامات کاجواب نہیں دونگا۔ فاٹاکے لوگ صرف امن چاہتے ہیں۔ ڈرون حملوں سے متعلق پارلیمانی قراردادوں پرعمل نہیںکیا گیا۔مولانا فضل الرحمن کاکہناتھا کہ وہ ایک روایت پسند پشتون ہیں،گھرکوئی مہمان آئے تو گھٹیا انداز نہیں اپناتے۔
انھوں نے کہاکہ امن مارچ پر تبصرہ بھی نہیں کرنا چاہتا۔ساری زندگی مارچ کیے، کوئی ہمارے مارچ کا مقابلہ نہیں کرسکتا، مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ،حکومت اورطالبان کوایک جگہ بات چیت پر راضی کرناہے، عمران نہ خود ہماری اقدارسے واقف ہیں نہ ان کی اگلی نسل سے اس کی توقع ہے۔ جے یوآئی( ف)کے سربراہ نے کہا کہ ہم دہری شہریت کے خلاف ہیں،آدھا تیتر آدھا بٹیرکاسلسلہ بند ہونا چاہیے۔ان کاکہناتھاکہ عمران خان خودکو محسودوںکا بھانجاکہتے ہیںلیکن جب انھوں نے پگڑی پیش کی تونیچے پھینک دی۔ان کاکہناہے کہ عمران خان ان سے رابطہ کرتے تو انھیں گھرآنے کی دعوت دیتے، اچھا کھانا اورپانی پیش کرتے۔
اسلام آبادمیں میڈیابریفنگ کے دوران مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل 18اکتوبرکو بحال ہو جائے گی۔بحالی کے بعداس میں جے یو آئی (ف)،جے یوآئی (س)،جمعیت علمائے پاکستان ، جمعیت اہلحدیث اوراسلامی تحریک شامل ہوںگی۔ انھوںنے دعویٰ کیاکہ جماعت اسلامی نے خیبر پختونخوا اسمبلی کی50فیصد نشستیں مانگیں جس کی وجہ سے اختلاف ہوا،جماعت اسلامی والے ایم ایم اے کی صدارت بھی مانگ رہے تھے ۔
اس لیے اب فیصلہ ہواہے18 اکتوبر کوایم ایم اے کوجماعت اسلامی کی شمولیت کے بغیرہی بحال کردیاجائے گا ۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ عمران خان نے میرے گھر میںبیٹھ کرمجھ پر الزامات لگائے، اسی لیے ان کے الزامات کاجواب نہیں دونگا۔ فاٹاکے لوگ صرف امن چاہتے ہیں۔ ڈرون حملوں سے متعلق پارلیمانی قراردادوں پرعمل نہیںکیا گیا۔مولانا فضل الرحمن کاکہناتھا کہ وہ ایک روایت پسند پشتون ہیں،گھرکوئی مہمان آئے تو گھٹیا انداز نہیں اپناتے۔
انھوں نے کہاکہ امن مارچ پر تبصرہ بھی نہیں کرنا چاہتا۔ساری زندگی مارچ کیے، کوئی ہمارے مارچ کا مقابلہ نہیں کرسکتا، مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ،حکومت اورطالبان کوایک جگہ بات چیت پر راضی کرناہے، عمران نہ خود ہماری اقدارسے واقف ہیں نہ ان کی اگلی نسل سے اس کی توقع ہے۔ جے یوآئی( ف)کے سربراہ نے کہا کہ ہم دہری شہریت کے خلاف ہیں،آدھا تیتر آدھا بٹیرکاسلسلہ بند ہونا چاہیے۔ان کاکہناتھاکہ عمران خان خودکو محسودوںکا بھانجاکہتے ہیںلیکن جب انھوں نے پگڑی پیش کی تونیچے پھینک دی۔ان کاکہناہے کہ عمران خان ان سے رابطہ کرتے تو انھیں گھرآنے کی دعوت دیتے، اچھا کھانا اورپانی پیش کرتے۔