جوڈیشل کمیشن کے روبرو اہم معروضات

کمیشن کا یہ استفسار اہم ہے کہ چند حلقوں میں دھاندلی ثابت بھی ہوجائے تو پورے ملک پر اطلاق کیسے ہوگا۔

بلاشبہ یہ ملکی سیاست میں تعمیری سوچ کی مظہر عملیت پسندی ہے جسے فروغ دینا چاہیے۔ فوٹو : فائل

SIALKOT:
جوڈیشل کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ ایک ہفتہ میں انتخابی دھاندلیوں سے متعلق ثبوت دیں، جب کہ نادرا سے بھی 37 حلقوں کی فارانسک رپورٹ طلب کی گئی ہے۔

ادھر21 سیاسی جماعتوں سمیت 47 درخواستیں موصول ہوئیں ۔جمعرات کو جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں جسٹس امیر ہانی مسلم ،جسٹس اعجاز افضل پر مشتمل 3رکنی جوڈیشل کمیشن نے 2013 ء کے انتخابات مین مبینہ دھاندلی کے معاملہ کی سماعت کی۔ کمیشن کا یہ استفسار اہم ہے کہ چند حلقوں میں دھاندلی ثابت بھی ہوجائے تو پورے ملک پر اطلاق کیسے ہوگا۔

اسی طرح کمیشن کے اٹھائے گئے اس باریک نکتہ سے بھی کہ پی پی پورے الیکشن کو دھاندلی زدہ سمجھتی ہے یا چند حلقوں کو، ماہرین اور اہل سیاست اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ محض پنڈورا بکس کھلنے کا معاملہ نہیں بلکہ ملک کو پہلی بار آئین و قانون کی روشنی میں ادارہ جاتی ، مستحکم ، اور جواب دہ جمہوری کلچر سے ہم آہنگ کرنے کی تاریخ ساز کوشش ہے اور عدلیہ اس ٹاسک اور چیلنج کو ملکی اداروں میں شفافیت لانے کے حوالے سے ایک قابل تحسین نظیر قائم کرنا چاہتی ہے۔


ایک اور فورم پر اسی ضمن میں الیکشن کمیشن نے ڈی جی نادرا کا بیان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2013ء کے انتخابات میں نادرا کی تجویز کردہ مقناطیسی سیاہی استعمال کی گئی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق سیاہی پی سی ایس آئی آر سے تیار کرائی گئی، الیکشن کمیشن نے اپنی تمام ذمے داریاں نبھائیں اور صوبائی الیکشن کمشنر نے مقناطیسی سیاہی ریٹرننگ افسران کے سپرد کی ۔ڈی جی نادرا 26 ستمبر کے اجلاس میں تسلیم کر چکے ہیں کہ وہی سیاہی استعمال کی گئی جو نادرا نے منظور کی تھی، اس کا ریکارڈ موجود ہے۔

اگرچہ سیاسی جماعتوں اور حکومتی اراکین و وزرا کے مابین دھاندلی کے حوالے سے بیانات کا سلسلہ بھی چل رہا ہے تاہم جوڈیشل کمیشن کے قائم کردہ معیار اور ضوابط کے مطابق اس ایشو پر کمیشن کے فورم سے باہر جذباتی اور اسکور پوائنٹنگ جیسے الزامات سے احتراز لازم ہے، جس کے پاس جو بھی شواہد ،ٹھوس ثبوت، دستاویزات اور وضاحتیں یاصراحتیں پیش کرنی ہیں وہ جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہو۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن پر انھیں اور ان کی پارٹی کو مکمل اعتماد ہے، جو بھی فیصلہ آئیگا ہم اسے قبول کریں گے، آج جوڈیشل کمیشن نے سمت کا تعین کردیا ہے۔ بلاشبہ یہ ملکی سیاست میں تعمیری سوچ کی مظہر عملیت پسندی ہے جسے فروغ دینا چاہیے اور مخاصمت، محاذ آرائی ،کشیدگی سے بچتے ہوئے اور زندگی کے معمولات کی طرح سیاسی اختلافات کو بھی مسلمہ جمہوری فورمز پر زیر بحث لانے کے جمہوری رویوں کو سیاست کا جزو لاینفک بنانے کی ضرورت ہے۔
Load Next Story