دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری رہے

ملک کے طول و عرض میں دہشت گردی کے واقعات تواتر سے جاری ہیں جن میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع لمحہ فکریہ ہے۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی ایجنسیاں دہشت گردوں اور شرپسندوں کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ فوٹو : فائل

ملک کے طول و عرض میں دہشت گردی کے واقعات تواتر سے جاری ہیں جن میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع لمحہ فکریہ ہے۔جمعرات کو کراچی کے علاقے کورنگی روڈ پر موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے ایس ایچ او پریڈی تھانہ اعجاز علی خواجہ جاں بحق ہوگئے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پریڈی تھانے کے 3ایس ایچ اوز کو شہید کیا گیا ہے۔

انسپکٹر غضنفر علی کاظمی کو منشیات فروشوں نے گارڈن میں قتل کردیا تھا جب کہ ڈی ایس پی پریڈی نواز رانجھا کو ایم اے جناح روڈ پر ان کے محافظ سمیت قتل کردیا گیا تھا، منی پاکستان میں پریڈی تھانے کی موبائل پر بم حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں 3 اہلکار بھی شہید ہوچکے ہیں۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام قادر تھیبو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس افسر کا قتل کراچی آپریشن کا نتیجہ ہے تاہم دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر کچھ بھی کرلیں آپریشن نہیں روکا جائے گا۔


کراچی میں ہی دہشت گردی کے دوسرے واقعے میں شہید ملت روڈ میڈی کیئر چورنگی کے قریب موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے کار میں سوار امریکی نژاد ڈاکٹر ڈیبرا لوبو گردن اور ہاتھ میں گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوگئیں۔ ڈاکٹر ڈیبرا جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں اسٹوڈنٹ افیئر ڈپارٹمنٹ میں وائس پرنسپل ہیں۔ حملہ آور فرار ہوتے ہوئے کار میںداعش سے متعلق پمفلٹ پھینک گئے۔ امریکی نژاد ڈاکٹر پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے رپورٹ طلب کرلی ہے جب کہ امریکا نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے۔

دہشت گردی کے ان واقعات کے ساتھ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں، کراچی پولیس نے جمعرات کو مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران مبینہ ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خور سمیت 7 ملزمان کو گرفتار کر کے اسلحہ اور مسروقہ سامان برآمد کرلیا ہے، جب کہ کراچی ہی میں مبینہ مقابلے میں طالبان کمانڈر سمیت 2 دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ کوہاٹ میں ایک دہشت گرد کو بارودی مواد کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا ہے۔

دریں اثنا اورکزئی ایجنسی اور جنوبی وزیرستان میں فورسز کی کارروائی اور تیراہ میں دھماکے کے نتیجے میں 14 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی ایجنسیاں دہشت گردوں اور شرپسندوں کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ ایسے شدت پسند عناصر کا پوری مستعدی کے ساتھ قلع قمع کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
Load Next Story