لکڑی کی پیٹیوں میں برآمد پرپابندیفروٹ ایکسپورٹرزکی حمایت
دنیا کے متعدد ملک عالمی معیار کی پراسیس شدہ محفوظ لکڑی سے تیار شدہ خوشنما پیکنگ استعمال کررہے ہیں، وحید احمد
دنیا کے متعدد ملک عالمی معیار کی پراسیس شدہ محفوظ لکڑی سے تیار شدہ خوشنما پیکنگ استعمال کررہے ہیں، وحید احمد فوٹو: فائل
لاہور:
آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیوریٹی اینڈ ریسرچ کی جانب سے لکڑی کی پیٹیوں میں پھلوں کی ایکسپورٹ پر پابندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے انڈسٹری اور ایکسپورٹ کے لیے ایک احسن فیصلہ قرار دیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے پیٹرن ان چیف وحید احمد کی جانب سے وفاقی وزارت تجارت کو ارسال کردہ خط میں فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرمعیاری اور ناقص لکڑی کی پیکنگ میں پاکستانی پھلوں کی ایکسپورٹ پاکستانی ہارٹی کلچر انڈسٹری کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے گزشتہ کئی سال سے پاکستانی پھلوں کی لکڑی کی پیکنگ میں اعتراض کیا جا رہا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ایسوسی ایشن لکڑی کی پیکنگ کی مخالف نہیں ہے۔
دنیا کے متعدد ملک عالمی معیار کی پراسیس شدہ محفوظ لکڑی سے تیار شدہ خوشنما پیکنگ استعمال کررہے ہیں تاہم پاکستان میں استعمال کی جانے والی لکڑی نہ تو پراسیس کی جاتی ہے اور نہ ہی عالمی معیار کی حامل ہے، اس لکڑی میں پیک کیے گئے پھلوں میں حشرات اور مضر اجسام داخل ہونے اور پھلوں کے معیار خراب ہونے کی شکایات عام ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دبئی جیسے ٹرانزٹ حب میں پاکستانی پھلوں کی طلب کم ہورہی ہے کیونکہ خلیجی ریاستیں بھی لکڑی کی پیکنگ پر پابندی عائد کرچکی ہیں، پاکستان کے حریف ممالک اپنی پیکنگ کی وجہ سے پھلوں کی زیادہ قیمت وصول کررہے ہیں، جدید پیکنگ میں پھل زیادہ عرصے تک محفوظ رہتے ہیں، پرزینٹیشن بہتر ہونے کی وجہ سے بھی پھلوں کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان سے پھلوں کی ایکسپورٹ کے لیے لکڑی کی پیٹیوں پر پابندی کا مسئلہ گزشتہ 3 سال سے زیر غور ہے اور اس پر کی جانے والی بحث کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی تاہم ایسوسی ایشن نے اپنے اراکین سے مشاورت کے بعد وفاقی وزارت کے اس اقدام کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے، ایسوسی ایشن کے 95فیصد اراکین نے لکڑی کی پیٹیوں پر پابندی اور گتے و کاغذ کی جدید پیکنگ کے استعمال کے حق میں رائے دی ہے۔
آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیوریٹی اینڈ ریسرچ کی جانب سے لکڑی کی پیٹیوں میں پھلوں کی ایکسپورٹ پر پابندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے انڈسٹری اور ایکسپورٹ کے لیے ایک احسن فیصلہ قرار دیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے پیٹرن ان چیف وحید احمد کی جانب سے وفاقی وزارت تجارت کو ارسال کردہ خط میں فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرمعیاری اور ناقص لکڑی کی پیکنگ میں پاکستانی پھلوں کی ایکسپورٹ پاکستانی ہارٹی کلچر انڈسٹری کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے گزشتہ کئی سال سے پاکستانی پھلوں کی لکڑی کی پیکنگ میں اعتراض کیا جا رہا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ایسوسی ایشن لکڑی کی پیکنگ کی مخالف نہیں ہے۔
دنیا کے متعدد ملک عالمی معیار کی پراسیس شدہ محفوظ لکڑی سے تیار شدہ خوشنما پیکنگ استعمال کررہے ہیں تاہم پاکستان میں استعمال کی جانے والی لکڑی نہ تو پراسیس کی جاتی ہے اور نہ ہی عالمی معیار کی حامل ہے، اس لکڑی میں پیک کیے گئے پھلوں میں حشرات اور مضر اجسام داخل ہونے اور پھلوں کے معیار خراب ہونے کی شکایات عام ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دبئی جیسے ٹرانزٹ حب میں پاکستانی پھلوں کی طلب کم ہورہی ہے کیونکہ خلیجی ریاستیں بھی لکڑی کی پیکنگ پر پابندی عائد کرچکی ہیں، پاکستان کے حریف ممالک اپنی پیکنگ کی وجہ سے پھلوں کی زیادہ قیمت وصول کررہے ہیں، جدید پیکنگ میں پھل زیادہ عرصے تک محفوظ رہتے ہیں، پرزینٹیشن بہتر ہونے کی وجہ سے بھی پھلوں کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان سے پھلوں کی ایکسپورٹ کے لیے لکڑی کی پیٹیوں پر پابندی کا مسئلہ گزشتہ 3 سال سے زیر غور ہے اور اس پر کی جانے والی بحث کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی تاہم ایسوسی ایشن نے اپنے اراکین سے مشاورت کے بعد وفاقی وزارت کے اس اقدام کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے، ایسوسی ایشن کے 95فیصد اراکین نے لکڑی کی پیٹیوں پر پابندی اور گتے و کاغذ کی جدید پیکنگ کے استعمال کے حق میں رائے دی ہے۔