چینی صدر کا دورہ پاکستان

پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی بھی ملک یہاں اتنے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

گوادر کی بندر گاہ تک سڑکوں اور ریل کے رابطوں کی تعمیر سے جہاں چین کو فائدہ ہو گا وہاں پاکستان میں بھی صنعتی انقلاب آئے گا۔ فوٹو : اے پی پی

لاہور:
چین کے صدر شی چن پنگ پیر کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تو ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا،اس موقع پر صدر، وزیراعظم، وفاقی وزراء، وزیراعلیٰ پنجاب سمیت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان استقبال کے لیے موجود تھے۔ چینی صدر کا طیارہ پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو پاک فضائیہ کے 8 جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے ان کا فضا میں استقبال کیا اور انھیں اپنے حصار میں لے لیا۔

گزشتہ نو برسوں میں کسی بھی چینی صدر کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے، چینی صدر نے گزشتہ سال پاکستان کا دورہ کرنا تھا تاہم اسلام آباد میں دھرنوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی مسائل کی بنیاد پر یہ دورہ ملتوی کرنا پڑا تھا۔

خبروں کے مطابق 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مجوزہ معاہدوں میں سے 28 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط بھی چینی صدر کے اس دورے کا حصہ ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے میں خنجراب میں پاکستان اور چین کی سرحد سے لے کر بلوچستان میں گوادر کی بندر گاہ تک سڑکوں اور ریل کے رابطوں کی تعمیر کے علاوہ بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں سمیت متعدد ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ چین ملک میں توانائی کی کمی پوری کرنے کے لیے شروع کیے جانے والے نئے منصوبوں میں تقریباً 34 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرے گا، اس کے علاوہ چینی بینک پاکستان کو آسان شرائط پر 12 ارب ڈالر کے قرضے بھی دیں گے اور یہ رقم انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے منصوبوں پر خرچ ہو گی۔

چین کے تعاون سے سب سے پہلے تھر میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے منصوبے شروع کیے جائیں گے جن سے 6600 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی اس کے علاوہ چین پن بجلی، شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے مختلف منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری کرے گا، چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں گوادر کی بندر گاہ کو بہتر بنایا جائے گا، تیسرے مرحلے میں ریلوے لائنز، شاہراہیں اور ایکسپریس ویز تعمیر کی جائیں گی اور چوتھے مرحلے میں صنعتی تعاون میں اضافہ ہو گا جس کے تحت ملک میں خصوصی اقتصادی زون قائم کیے جائیں گے۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی بھی ملک یہاں اتنے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اس سرمایہ کاری سے ملک میں ترقیاتی منصوبے مکمل ہونے سے خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ چین اور پاکستان کے تعلقات کوہ ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہرے اور شہد سے میٹھے ہیں لیکن ان تعلقات کو فائدہ تب ہی پہنچے گا جب پاکستان چین میں ہونے والی ترقی سے فائدہ اٹھا کر خود بھی ترقی کی دوڑ میں آگے نکلنے والے ملکوں کی صف میں کھڑا ہو جائے گا۔


دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نئی تبدیلی آئی ہے اور یہ تعلقات اسٹرٹیجک شراکت داری سے اسٹرٹیجک اور اقتصادی شراکت داری میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ چین کے علاوہ امریکا، یورپ، عرب ممالک اور دیگر کئی ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جس سے یہاں روز گار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں مگر ان سب کے باوجود پاکستان میں اس سطح کی ترقی نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہیے تھی۔

جہاں دہشت گردوں نے امن و امان کا مسئلہ پیدا کر کے پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے وہیں کمزور ملکی انفرااسٹرکچر، سرکاری اداروں میں پائی جانے والی کرپشن اور سیاسی افراتفری نے بھی ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی۔ چین کی پہلی بار پاکستان میں اتنے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے پاکستانی حکام بہت خوش ہیں لیکن معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اس سے زیادہ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری بھارت اور دیگر ممالک میں کر رہا ہے۔

جس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت ایک بڑا صنعتی ملک ہونے کے علاوہ مضبوط انفراسٹرکچر کا حامل ہے۔ چین کی مدد سے پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے میں یقیناً مدد ملے گی تاہم اس بحران کے مکمل خاتمے کے لیے ایک عرصہ درکار ہے۔ صحرائے تھر کے نو ہزار مربع کلو میٹر کے رقبہ میں 175 ارب ڈالر کا کوئلہ موجود ہے ۔

جس سے پہلی بار چینی کمپنی بجلی پیدا کرے گی۔ چینی ماہرین کے مطابق کوئلے سے سستی بجلی دستیاب ہو گی اور روایتی قرضوں کی ادائیگی کے بعد مجموعی طور پر بجلی کی فی یونٹ قیمت میں پچاس فیصد کمی آ جائے گی۔ چینی سرمایہ کاروں کے مطابق پاکستان میں فوری طور پر لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ممکن نہیں اس کے لیے حکومت کو مزید تھرمل اور ہائیڈل منصوبے شروع کرنے ہوں گے۔

پاکستان میں توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں اگر حکومت ملک بھر میں چھوٹے چھوٹے ڈیم بنائے تو اس سے نہ صرف بجلی کے بحران بلکہ سیلابی صورت حال پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی اور زراعت کے لیے پانی بھی وافر مقدار میں دستیاب ہو گا۔

گوادر کی بندر گاہ تک سڑکوں اور ریل کے رابطوں کی تعمیر سے جہاں چین کو فائدہ ہو گا وہاں پاکستان میں بھی صنعتی انقلاب آئے گا۔ پاکستانی حکومت امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ اگر ملکی انفرااسٹرکچر میں موجود خامیوں کو دور کر کے اسے بھی مضبوط بنائے تو یہاں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کا عمل شروع ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔
Load Next Story