بحیرہ روم میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کا المناک واقعہ
کشتی ڈوبنے کے اس واقعے کو بحیرہ روم میں ابتک کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ انسانی اسمگلروں کے خلاف باقاعدہ کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔ فوٹو : فائل
THATTA:
بحیرہ روم میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 650 افراد ہلاک ہو گئے۔ کشتی ڈوبنے کے اس واقعے کو بحیرہ روم میں ابتک کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے اور اطالوی کوسٹ گارڈ حکام کا کہنا ہے کہ 20میٹر لمبی اس کشتی میں تقریباً 700 افراد سوار تھے جن میں سے 50اپنی جانیں بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
حالیہ واقعے میں ڈوبنے والے تارکین وطن کی قومیت کے بارے میں ابھی تک کچھ واضح نہیں ہو سکا۔ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کے باشندے بہتر روز گار کی تلاش میں ہر جائز اور ناجائز حربہ اختیار کرتے ہوئے ترقی یافتہ ممالک میں جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کی اس کوشش میں انسانی اسمگلروں کی چاندی ہو جاتی ہے 'یہ انسانی اسمگلر بیروز گار نوجوانوں سے بھاری رقوم لے کر انھیں مشکل ترین راستوں سے یورپ تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اس کوشش میں کچھ نوجوان کامیاب اورکچھ راستے ہی میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ تارکین وطن کے ساتھ یہ حادثہ پہلی بار پیش نہیں آیا ایسے حادثے معمول کی کارروائی بن چکے ہیں۔
حیرت انگیز امر ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں نے کبھی ان انسانی اسمگلروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی نہیں کی جس کی وجہ سے یہ اسمگلر انسانی جانوں سے بلا خوف و خطر کھیلتے چلے آرہے ہیں ۔ دوسری جانب ترقی یافتہ ممالک اور اقوام متحدہ نے کبھی ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں پر انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی کے لیے سنجیدگی سے دباؤ نہیں ڈالا۔اب وقت آ گیا ہے کہ انسانی اسمگلروں کے خلاف باقاعدہ کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
بحیرہ روم میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 650 افراد ہلاک ہو گئے۔ کشتی ڈوبنے کے اس واقعے کو بحیرہ روم میں ابتک کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے اور اطالوی کوسٹ گارڈ حکام کا کہنا ہے کہ 20میٹر لمبی اس کشتی میں تقریباً 700 افراد سوار تھے جن میں سے 50اپنی جانیں بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
حالیہ واقعے میں ڈوبنے والے تارکین وطن کی قومیت کے بارے میں ابھی تک کچھ واضح نہیں ہو سکا۔ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کے باشندے بہتر روز گار کی تلاش میں ہر جائز اور ناجائز حربہ اختیار کرتے ہوئے ترقی یافتہ ممالک میں جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کی اس کوشش میں انسانی اسمگلروں کی چاندی ہو جاتی ہے 'یہ انسانی اسمگلر بیروز گار نوجوانوں سے بھاری رقوم لے کر انھیں مشکل ترین راستوں سے یورپ تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اس کوشش میں کچھ نوجوان کامیاب اورکچھ راستے ہی میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ تارکین وطن کے ساتھ یہ حادثہ پہلی بار پیش نہیں آیا ایسے حادثے معمول کی کارروائی بن چکے ہیں۔
حیرت انگیز امر ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں نے کبھی ان انسانی اسمگلروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی نہیں کی جس کی وجہ سے یہ اسمگلر انسانی جانوں سے بلا خوف و خطر کھیلتے چلے آرہے ہیں ۔ دوسری جانب ترقی یافتہ ممالک اور اقوام متحدہ نے کبھی ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں پر انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائی کے لیے سنجیدگی سے دباؤ نہیں ڈالا۔اب وقت آ گیا ہے کہ انسانی اسمگلروں کے خلاف باقاعدہ کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔