ملکی کرکٹ کی پستی پر سابق اسٹارز کےسر بھی شرم سے جھک گئے
اگر راست قدم نہ اٹھائے گئے تو پاکستانی کرکٹ کا قدموں پر کھڑا رہنا بھی دشوارہوجائے گا، جاوید میانداد
اگر راست قدم نہ اٹھائے گئے تو پاکستانی کرکٹ کا قدموں پر کھڑا رہنا بھی دشوارہوجائے گا، جاوید میانداد۔ فوٹو : فائل
ملکی کرکٹ کی پستی پرسابق اسٹارزکے سر بھی شرم سے جھک گئے، بنگلہ دیش سے شکست پر سب انتہائی مایوسی کا شکار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش نے رواں ون ڈے سیریز کا پہلا میچ جیت کر16سال بعد پاکستان کو کسی بھی فارمیٹ میں مات دی،اسکے بعد اتوار کو دوسرا مقابلہ بھی اپنے نام کر کے حریف کو تاریخ میں اولین مرتبہ کسی سیریز میں زیر کرنے کا کارنامہ بھی سرانجام دے دیا،دونوں میچز میں مہمان ٹیم بغیر لڑے ہی ہمت ہار گئی، یوں محسوس ہوا جیسے آسٹریلوی ٹیم سے مقابلہ ہو رہا تھا۔
اس صورتحال پر سابق ٹیسٹ کرکٹرز کے دل بھی خون کے آنسو رو رہے ہیں، جاوید میانداد نے کہاکہ بنگلہ دیش سے ہار پستی کی انتہا ہے۔اگر معاملات میں بہتری کیلیے ابھی سے درست اقدام نہ کیے گئے تو پاکستانی کرکٹ کا اپنے قدموں پر کھڑا رہنا بھی مشکل ہو جائے گا، انھوں نے کہا کہ بنگلہ دیش ماضی جیسی کمزور ٹیم نہیں رہی،اس کے کھیل میں مسلسل بہتری آرہی ہے، وہ کسی بھی ٹیم کو اپ سیٹ شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مجھے چند روز کیلیے ان کی کوچنگ کا موقع ملا تھا۔
اس وقت ٹائیگرز شارٹ پچ گیندوں کا سامنا کرنے میں دشواری محسوس کرتے تھے، میں نے انھیں بنیادی امور سے آگاہ کیا تھا،اب انھوں نے اپنی خامیوں پر بڑی تیزی سے قابوپالیا اور ایک مضبوط ٹیم میں ڈھلتے جارہے ہیں، دوسری جانب ہمارے معاملات مسلسل بدتر ہونے لگے ہیں۔ وسیم باری نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی کوئی حکمت عملی نہ پلان نظر آرہا ہے اسی وجہ سے کھیل کے پست معیار کا بھرم کھل گیا،بنگلہ دیش نے ورلڈکپ میں بہتر کارکردگی کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے عروج کی جانب سفر جاری رکھا جبکہ ہم زوال کی جانب گامزن ہوگئے ہیں۔
راشد لطیف نے کہا کہ ہم نے گذشتہ 5سالوں میں 90کے قریب کھلاڑیوں کو آزمایا،اس کا بدترین پہلو یہ ہے کہ کسی بھی بیٹسمین کی کوئی ایک پوزیشن مستحکم نہیں ہونے دی، اس عرصے میں پاکستان نے 19 اوپننگ پیئرزکا تجربہ کیا،بولرز میں بھی کسی کو مسلسل صلاحیتوں کا اظہار کرنے کے مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔
اس اکھاڑ پچھاڑ کے نتیجے میں کبھی ٹیم سیٹ ہی نہیں ہوپائی،انھوں نے کہا کہ اس قدر تبدیلیوں کے بعد ہمیں مستقبل میں بھی کارکردگی میں عدم استحکام اور برے نتائج کیلیے تیار رہنا چاہیے۔ محسن حسن خان نے کہا کہ جیت کیلیے 1،2کھلاڑیوں کو نہیں پوری ٹیم کو جان لڑانا پڑتی ہے، ہماری ٹیم میں کوئی جوش اور جذبہ نظر نہیں آرہا۔
ایسا محسوس ہوا کہ بنگلہ بیٹسمین ہمارے بولرز کے بھی اعصاب پر سوار ہوچکے ہیں۔ ثقلین مشتاق نے کہا کہ صرف تبدیلیوں کو ہی شکست کہ وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا، پاکستانی کھلاڑیوں میں مہارت کی کمی نظر آتی ہے، جدید ون ڈے کرکٹ کے تقاضوں میں خود کو ڈھالنے کیلیے سخت محنت کرنا پڑے گی۔
تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش نے رواں ون ڈے سیریز کا پہلا میچ جیت کر16سال بعد پاکستان کو کسی بھی فارمیٹ میں مات دی،اسکے بعد اتوار کو دوسرا مقابلہ بھی اپنے نام کر کے حریف کو تاریخ میں اولین مرتبہ کسی سیریز میں زیر کرنے کا کارنامہ بھی سرانجام دے دیا،دونوں میچز میں مہمان ٹیم بغیر لڑے ہی ہمت ہار گئی، یوں محسوس ہوا جیسے آسٹریلوی ٹیم سے مقابلہ ہو رہا تھا۔
اس صورتحال پر سابق ٹیسٹ کرکٹرز کے دل بھی خون کے آنسو رو رہے ہیں، جاوید میانداد نے کہاکہ بنگلہ دیش سے ہار پستی کی انتہا ہے۔اگر معاملات میں بہتری کیلیے ابھی سے درست اقدام نہ کیے گئے تو پاکستانی کرکٹ کا اپنے قدموں پر کھڑا رہنا بھی مشکل ہو جائے گا، انھوں نے کہا کہ بنگلہ دیش ماضی جیسی کمزور ٹیم نہیں رہی،اس کے کھیل میں مسلسل بہتری آرہی ہے، وہ کسی بھی ٹیم کو اپ سیٹ شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مجھے چند روز کیلیے ان کی کوچنگ کا موقع ملا تھا۔
اس وقت ٹائیگرز شارٹ پچ گیندوں کا سامنا کرنے میں دشواری محسوس کرتے تھے، میں نے انھیں بنیادی امور سے آگاہ کیا تھا،اب انھوں نے اپنی خامیوں پر بڑی تیزی سے قابوپالیا اور ایک مضبوط ٹیم میں ڈھلتے جارہے ہیں، دوسری جانب ہمارے معاملات مسلسل بدتر ہونے لگے ہیں۔ وسیم باری نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی کوئی حکمت عملی نہ پلان نظر آرہا ہے اسی وجہ سے کھیل کے پست معیار کا بھرم کھل گیا،بنگلہ دیش نے ورلڈکپ میں بہتر کارکردگی کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے عروج کی جانب سفر جاری رکھا جبکہ ہم زوال کی جانب گامزن ہوگئے ہیں۔
راشد لطیف نے کہا کہ ہم نے گذشتہ 5سالوں میں 90کے قریب کھلاڑیوں کو آزمایا،اس کا بدترین پہلو یہ ہے کہ کسی بھی بیٹسمین کی کوئی ایک پوزیشن مستحکم نہیں ہونے دی، اس عرصے میں پاکستان نے 19 اوپننگ پیئرزکا تجربہ کیا،بولرز میں بھی کسی کو مسلسل صلاحیتوں کا اظہار کرنے کے مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔
اس اکھاڑ پچھاڑ کے نتیجے میں کبھی ٹیم سیٹ ہی نہیں ہوپائی،انھوں نے کہا کہ اس قدر تبدیلیوں کے بعد ہمیں مستقبل میں بھی کارکردگی میں عدم استحکام اور برے نتائج کیلیے تیار رہنا چاہیے۔ محسن حسن خان نے کہا کہ جیت کیلیے 1،2کھلاڑیوں کو نہیں پوری ٹیم کو جان لڑانا پڑتی ہے، ہماری ٹیم میں کوئی جوش اور جذبہ نظر نہیں آرہا۔
ایسا محسوس ہوا کہ بنگلہ بیٹسمین ہمارے بولرز کے بھی اعصاب پر سوار ہوچکے ہیں۔ ثقلین مشتاق نے کہا کہ صرف تبدیلیوں کو ہی شکست کہ وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا، پاکستانی کھلاڑیوں میں مہارت کی کمی نظر آتی ہے، جدید ون ڈے کرکٹ کے تقاضوں میں خود کو ڈھالنے کیلیے سخت محنت کرنا پڑے گی۔