چین کے صدر کا کامیاب دورہ

اس سارے منظر نامے میں سب سے اہم چیز پاکستان میں حقیقی معنوں میں امن و امان کا قیام ہے۔

اس سارے منظر نامے میں سب سے اہم چیز پاکستان میں حقیقی معنوں میں امن و امان کا قیام ہے۔ فوٹو: پی آئی ڈی

KARACHI:
عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی چن پنگ پاکستان کا دو روزہ دورہ مکمل کرکے منگل کو وطن واپس روانہ ہو گئے۔ صدر شی چن پنگ کا یہ دورہ پاکستان کے نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کا حامل تھا' اس کا اندازہ یوں لایا جا سکتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان مختلف نوعیت کے 51 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے جن کی مالیت 46 ارب ڈالر ہے۔

یوں دیکھا جائے تو چینی صدر کا یہ دورہ انتہائی کامیاب رہا ہے۔ اگر یہ سارے معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں عملی شکل اختیار کر لیں تو آنے والے برسوں میں پاکستان میں معاشی و اقتصادی ترقی کی رفتار غیر معمولی حد تک تیز ہو جائے گی جس سے روز گار اور کاروبار کے نئے مواقعے پیدا ہوں گے' یہی نہیں بلکہ عوامی جمہوریہ چین کی معیشت پر بھی ان منصوبوں کی تکمیل سے انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

چین کے صدر کا یہ دورہ اس اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ ان سے ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے بھی ملاقات کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے مسلح افواج کے سربراہوں سے بھی ملاقات کی۔

پاکستان اور چین کا مستقبل ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔ بلاشبہ چین اس وقت دنیا کے چند انتہائی طاقتور ممالک کی فہرست میں شامل ہے' وہ اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کا ویٹو پاور رکھنے والا رکن ملک ہے۔ اس کے علاوہ یہ طاقت امریکا 'روس' برطانیہ اور فرانس کو حاصل ہے۔

اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عالمی امور میں چین کتنا وزن رکھتا ہے۔ یہی نہیں اس کی معیشت برق رفتاری سے ترقی کر رہی ہے' اس کے پاس تین ٹریلین ڈالر سے زائد کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں ۔چین انتہائی وسیع و عریض رقبے کا حامل ملک ہے۔ یوں اس کے پاس وسائل بھی بہت زیادہ ہیں لیکن اسے مزید آگے بڑھنے کے لیے پاکستان کی انتہائی ضرورت ہے۔ ماضی میں پاکستان نے چین کو تنہائی سے نکال کر عالمی دنیا سے روابط استوار کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا۔


چین میں کمیونسٹ انقلاب برپا ہوا تو وہ آزاد دنیا سے کٹ گیا تھا' پاکستان پہلا ملک تھا جس نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا' پھر امریکا کے ساتھ رابطہ کرانے میں پاکستان کا اہم کردار تھا' اس کے بعد ہی چین کے امریکا اور مغربی یورپ سے تعلقات قائم ہوئے' دونوں ملکوں کے درمیان سرد جنگ کے دور میں جو تعلقات قائم ہوئے اس کا تسلسل اب بھی جاری ہے۔اب چینی معیشت کو مزید ترقی کی ضرورت ہے' خصوصاً مغربی چین میں ترقی کا عمل شروع کرنا انتہائی ضروری ہے۔

اگر چین اپنے پاکستان سے متصل سنکیانگ صوبے میں صنعتیں لگاتا ہے اور دنیا کو وہاں سرمایہ کاری کے مواقعے فراہم کرتا ہے تو اسے پاکستان کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان مجوزہ اکنامک کوریڈور اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اگر یہ اکنامک کوریڈورمنصوبے کے مطابق اپنی ٹائم لمٹ میں تیار ہو جاتا ہے تو چین میں ترقی کا سیلاب آ جائے گا جس کے ثمرات پاکستان بھی سمیٹے گا اور وسط ایشیا سے جنوبی ایشیا تک کے ممالک اس سے مستفید ہوں گے۔

بہر حال اس سارے منظر نامے میں سب سے اہم چیز پاکستان میں حقیقی معنوں میں امن و امان کا قیام ہے۔ معاشی ترقی کے لیے امن لازمی چیز ہوتا ہے۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف انتہائی سخت آپریشن جاری ہے اور اس کے نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ یہ امر بھی خوش آیند ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان ' عوامی جمہوریہ چین اور افغانستان میں خاصی ہم آہنگی پیدا ہو چکی ہے۔ اکنامک کوریڈور کے لیے پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں ہی نہیں بلکہ بلوچستان 'پنجاب اور سندھ میں بھی دہشت گردوں 'تخریب کاروں 'شرپسندوں اور جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔

افغانستان کی نئی حکومت بھی اس حوالے سے مثبت کردار ادا کررہی ہے۔ اب یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ اس خطے میں ترقی کا عمل شروع کرنے کے لیے سب کو اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہو گا۔بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعات موجود ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں ملکوں میں تجارت کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہی آج کے زمانے کی سچائی ہے۔

اس سچائی کو جس قدر جلد تسلیم کر لیا جائے 'وہی سب کے لیے بہتر ہو گا۔افغانستان اب زیادہ دیر دنیا سے الگ تھلگ قبائلی ملک کے طور پر زندہ نہیں رہ سکتا۔اسے جہاں دہشت گردی ختم کرنی ہے وہیں سماجی تبدیلی لانے کے لیے معاشی ڈھانچے میں بھی تبدیلی لانی ہے۔ یہی صورت حال پاکستان کی بھی ہے۔

پاکستان کو خیبرپختونخوا 'فاٹا اور بلوچستان میں سماجی ' معاشی اور آئینی تبدیلی کا عمل شروع کرنا ہو گا۔سندھ اور جنوبی پنجاب میں جاگیرداری اور گدی نشینی کے اثرونفوذ کو کم کرنا ہو گا' اس سے ہی پاکستان ترقی کے ثمرات حاصل کر سکے گا۔
Load Next Story