یمن بحران جنگ بندی اور مصالحت ناگزیر
امریکا نے اپنے دو جنگی جہاز تھیوڈور روزویلٹ اور کروز میزائل کروزر یمن کے سمندری علاقے کی طرف روانہ کردیے ہیں
امریکا نے اپنے دو جنگی جہاز تھیوڈور روزویلٹ اور کروز میزائل کروزر یمن کے سمندری علاقے کی طرف روانہ کردیے ہیںفوٹو:فائل
لاہور:
یمن کے دارالحکومت صنعاء میں اسکڈ میزائل بیس پر اتحادی فوج کے فضائی حملے میں40 شہری ہلاک اور 300 زخمی ہوگئے، ہلاکتیں عمارتیں گرنے سے ہوئیں، حملے کے بعد عمارت کو آگ لگ گئی۔
ادھر میڈیا کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ ایران نے سعودی عرب کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے یمن میں فوجی کارروائی بند نہ کی تو ایران سعودی عرب کے خلاف فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا، اس خبر میں کتنی صداقت ہے ، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم یہ بات واضح ہے کہ یمن کی نازک اور مخدوش صورتحال بظاہر بگڑتی جارہی ہے تاہم عالمی میڈیا کے برعکس ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبدالاحیان کا کہنا ہے کہ سفارتی کوششیں عروج پر ہیں اور جنگجو گروپس جلد مفاہمت کی طرف لوٹیں گے۔
یہ بات انھوں نے تہران میں سوئس اور شامی وفود سے بات چیت کے بعد کہی، ادھر امریکا نے اپنے دو جنگی جہاز تھیوڈور روزویلٹ اور کروز میزائل کروزر یمن کے سمندری علاقے کی طرف روانہ کردیے ہیں اور کہا ہے کہ ان جہازوں کی موجودگی دو طرفہ پیغام سے مشروط ہے،ایک طرف سعودی عرب کو یقین دلانا ہے کہ ہم ان کے ساتھ ہیں جب کہ دوسری طرف ایران کو انتباہ کرنا ہے کہ ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے جنگی طیاروں نے صنعاء میں ایک ایسی فوجی چھاؤنی کو نشانہ بنایا، جو حوثی باغیوں کے زیرقبضہ ہے۔ سعودی اتحادی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے کہا ہے کہ اتحادی طیاروں نے یمن میں حوثی ملیشیا کے 80 فیصد گولہ بارود اور اسلحے کو تباہ کردیا ہیٗ بیلسٹک میزائلوں کو بھی ناکارہ بنا دیا ہے۔
ادھر ایران کی بری فوج کے سربراہ بریگیڈیئر احمد رضا بوردستان نے خبر دار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی بند نہ کی تو تہران، ریاض کے خلاف فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ تاہم انھوں نے یہ حوصلہ افزا بات بھی کی ہے کہ یمن کے مسئلہ کا حل ڈائیلاگ اور مفاہمت یا سمجھوتہ ہے۔ تاہم بوردستان کا کہنا ہے کہ غلط پالیسیوں کے نتیجے میں خطہ روز ایک نئی جنگ کا میدان بن جائے گا۔
یہ باتیں''العالم'' عالی ایک کی ویب سائٹ پر جاری ایک رپورٹ میں کہی گئی ہیں۔ ادھر یمنی باغیوں کے رہنما عبدالمالک الحوثی نے خبر دار کیا ہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں جاری بمباری کا مقصد القاعدہ کو تقویت دینا ہے۔وقت کا تقاضہ ہے کہ اقوام متحدہ فوری جنگ بندی کرائے۔
یمن کے دارالحکومت صنعاء میں اسکڈ میزائل بیس پر اتحادی فوج کے فضائی حملے میں40 شہری ہلاک اور 300 زخمی ہوگئے، ہلاکتیں عمارتیں گرنے سے ہوئیں، حملے کے بعد عمارت کو آگ لگ گئی۔
ادھر میڈیا کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ ایران نے سعودی عرب کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے یمن میں فوجی کارروائی بند نہ کی تو ایران سعودی عرب کے خلاف فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا، اس خبر میں کتنی صداقت ہے ، اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم یہ بات واضح ہے کہ یمن کی نازک اور مخدوش صورتحال بظاہر بگڑتی جارہی ہے تاہم عالمی میڈیا کے برعکس ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبدالاحیان کا کہنا ہے کہ سفارتی کوششیں عروج پر ہیں اور جنگجو گروپس جلد مفاہمت کی طرف لوٹیں گے۔
یہ بات انھوں نے تہران میں سوئس اور شامی وفود سے بات چیت کے بعد کہی، ادھر امریکا نے اپنے دو جنگی جہاز تھیوڈور روزویلٹ اور کروز میزائل کروزر یمن کے سمندری علاقے کی طرف روانہ کردیے ہیں اور کہا ہے کہ ان جہازوں کی موجودگی دو طرفہ پیغام سے مشروط ہے،ایک طرف سعودی عرب کو یقین دلانا ہے کہ ہم ان کے ساتھ ہیں جب کہ دوسری طرف ایران کو انتباہ کرنا ہے کہ ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے جنگی طیاروں نے صنعاء میں ایک ایسی فوجی چھاؤنی کو نشانہ بنایا، جو حوثی باغیوں کے زیرقبضہ ہے۔ سعودی اتحادی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے کہا ہے کہ اتحادی طیاروں نے یمن میں حوثی ملیشیا کے 80 فیصد گولہ بارود اور اسلحے کو تباہ کردیا ہیٗ بیلسٹک میزائلوں کو بھی ناکارہ بنا دیا ہے۔
ادھر ایران کی بری فوج کے سربراہ بریگیڈیئر احمد رضا بوردستان نے خبر دار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی بند نہ کی تو تہران، ریاض کے خلاف فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ تاہم انھوں نے یہ حوصلہ افزا بات بھی کی ہے کہ یمن کے مسئلہ کا حل ڈائیلاگ اور مفاہمت یا سمجھوتہ ہے۔ تاہم بوردستان کا کہنا ہے کہ غلط پالیسیوں کے نتیجے میں خطہ روز ایک نئی جنگ کا میدان بن جائے گا۔
یہ باتیں''العالم'' عالی ایک کی ویب سائٹ پر جاری ایک رپورٹ میں کہی گئی ہیں۔ ادھر یمنی باغیوں کے رہنما عبدالمالک الحوثی نے خبر دار کیا ہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں جاری بمباری کا مقصد القاعدہ کو تقویت دینا ہے۔وقت کا تقاضہ ہے کہ اقوام متحدہ فوری جنگ بندی کرائے۔