چینی صدر کا دورہ دفاعی اور معاشی ترقی کا سنگ میل
چینی صدر کے دورہ پاکستان کے دوران اقتصادی راہ داری سمیت 51 معاہدوں پر دستخط ہوئے
چینی صدر کے دورہ پاکستان کے بعد وزیراعظم میاں نواز شریف جلد سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے فوٹو : فائل
چینی صدر شی چن پنگ پاکستان کا تاریخی دورہ مکمل کرکے وطن واپس روانہ ہوگئے۔ منگل کو نور خان ایئربیس چک لالہ پر وزیر اعظم نواز شریف ، کابینہ کے اراکین، تینوں مسلح افواج کے سربراہان اوردیگراہم شخصیات نے معززمہمان کوالوداع کیا۔
چینی صدر کا طیارہ جونہی فضا میں بلند ہوا، پاک فضائیہ کے 8 جے ایف17 تھنڈرطیاروں نے دائیں اور بائیں چار، چار کی فارمیشن بنا کراسے حفاظتی حصار میں لے کر رخصت کیا جبکہ اس سے قبل چینی صدر کی پاکستان آمد کے موقع پر بھی ان کا تاریخی اور والہانہ استقبال کیا گیا۔ چینی صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کو عالمی سطح پر انتہائی اہمیت دی گئی ہے اور تمام عالمی میڈیا میں چینی صدر کے دورہ پاکستان کی خبریں نمایاں رہیں جبکہ الیکٹرانک میڈیا میں بھی چینی صدر کا دورہ پاکستان ہی موضوع بحث ہے ۔
بعض عالمی مبصرین اس دورے کو نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر جغرافیائی ، سفارتی اور سیاسی لحاظ سے گیم چینجر قرار دے رہے ہیں ۔ چینی صدر کے دورہ پاکستان کے دوران اقتصادی راہ داری سمیت 51 معاہدوں پر دستخط ہوئے جبکہ پاک چین تجارتی حجم 20 ارب ڈالر تک لانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
چینی صدر کی پاکستان آمد کے موقع پر چینی صدر کا تاریخی ، پُرجوش اور والہانہ استقبال کیا گیا۔ چینی صدر نے پاکستان میں قیام کے دوران چیئرمین سینٹ رضاربانی اور سپیکرقومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات کی اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کیا۔
ایوان صدر میں پروقار تقریب میں چینی صدر شی چن پنگ کو پاکستان کے سب سے بڑے سول ایوارڈ'' نشان پاکستان ''سے بھی نواز گیا جبکہ اپنے دورے کے اختتام سے قبل چینی صدر کی جانب سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے کیا جانے والا خطاب بھی تاریخی تھا۔ اس خطاب کے بعد ملک میں چین، پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو متنازعہ بنانے کا خواب دیکھنے والوں کی امیدوں پر یقیناً اوس پڑ جائے گی اور اس عظیم منصوبے کے خلاف مختلف کارنرز سے اٹھنے والی آوازیں دم توڑ جائیں گی ۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران چین کے صدر نے کہا کہ پارلیمنٹ سے خطاب کی دعوت کو وہ اعزاز سمجھتے ہیں ، پاکستان چین کا اچھا پڑوسی، دوست اور بھائی ہے، پاکستان اور چین کی دوستی باہمی اعتماد پر مبنی ہے، چینی صدر کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان کا مستقبل مشترک ہے ،دونوں ممالک کے تعلقات کو عملی اقدامات کے ذریعے مزید مستحکم کریں گے۔
انہیں وہ وقت یاد ہے جب چین دنیا میں بالکل تنہا تھا تو پاکستان نے چین کے لیے اپنے فضائی راستے کھولے، پاکستان چین کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے والا پہلا مسلم ملک تھا، جب چین قدرتی آفات میں گھرا تو پاکستان نے ہی چین کا ساتھ دیا۔ اسی طرح 2010 میں سیلاب سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لئے چین نے پاکستان کی بھرپور مدد کی ۔
چینی صدر کا پارلیمنٹ کے مُشترکہ اجلاس سے خطاب جہاں پاکستان کے تابناک و روشن مستقبل کے پیغامات سے بھرا ہوا تھا وہیں یہ خطاب نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے لئے بھی ایک واضح پیغام تھا۔ چینی صدر نے اپنے خطاب میں پاکستانی عوام کی بہادری و قابلیت کو بھی سراہا ہے جنہوں نے بڑے خطرات میں اپنی خودمختاری اور جغرافیائی حدود کا دفاع کیا، دہشت گردی کا خاتمہ دوطرفہ ترقی کیلئے انتہائی ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ چین پاکستان میں معاشی ترقی اور استحکام کا خواہاں ہے۔
آج ہزاروں پاکستانی چینی انجینئیرز کے ساتھ مل کر کئی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، پاکستان کے پاس ایشین ٹائیگر بننے کا موقع ہے، چین کے صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کا کئی علاقائی اور بین الاقوامی معاملات میں موقف یکساں ہے۔ یمن میں محصور پاکستانیوں اور چینی شہریوں کو دونوں ملکوں نے باہمی تعاون سے نکالا۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کی مدد کو اپنی مدد سمجھتا ہے، ہم فاٹا میں ازسرنو تعمیر کے منصوبوں میں پاکستان کی پوری مدد کریں گے۔
اس کے علاوہ گوادر پورٹ کو جدید بنانا بھی چین کا اہم منصوبہ ہے۔ چینی صدر نے اپنے خطاب میں پاکستان میں مختلف کارنرز سے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے بارے جو آوازیں تھ رہیں تھیں انکا بھی جواب دیا ہے اور واضع کیا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری چاروںصوبوں سے گذرے گی اور اسکا فاٹا کو بھی فائدہ ہوگا بلکہ بھارت سمیت خطے کے دوسرے ممالک بھی اس منصوبے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران چین کے صدر شی چن پنگ کے خطاب پر اظہار تشکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ چینی صدر کی آمد پران کے شکرگزار ہیں، ہمارے لئے باعث اعزاز ہے کہ آج ایک عظیم رہنما کی میزبانی کر رہے ہیں، چینی صدر جتنے اپنے ملک میں مقبول ہیں اتنے ہی پاکستان میں ہیں، پاکستان اور چین صحیح معنوں میں آہنی بھائی ہیں، دونوں ملکوں کی دوستی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے، پاکستان کے تمام سیاسی رہنماؤں کا چین کے بارے میں یکساں موقف ہے۔
وزیراعظم میں نوازشریف نے کہا کہ چین کی سکیورٹی پاکستان کی سکیورٹی ہے، پاکستان بین الاقوامی سطح پر ایک چین پالیسی کی حمایت جاری رکھے گا۔ ہم دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لئے ایک ساتھ مل کر لڑیں گے، اس سلسلے میں ہمیں مشترکہ کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری دونوں ملکوں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے جس پر تیزی سے کام ہو رہا ہے، پاکستان میں توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے چینی کوششوں کی تعریف کرتے ہیں۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بعد چین کے صدر سے تعارف کے دوران وزیر اعظم نواز شریف نے عمران خان سے شکوہ کیا کہ دھرنے کی وجہ سے ان کے دورہ پاکستان میں چھ ماہ کی تاخیر ہوئی ہے جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ انہیں تو دھرنا ختم کئے کئی ماہ گزر چکے ہیں۔ چینی صدر پاکستان کا کامیاب دورہ کرکے واپس روانہ ہوگئے ہیں تاہم غیر جانبدار مبصرین عمران خان کے اس جواب کو بھی سیاسی ناپُختگی سے تعبیر کر رہے ہیں ۔
سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر رکھنا ذمہ دار ممالک اور اقوام کا طرہ امتیاز ہوا کرتا ہے۔ چینی صدر کے دورہ پاکستان کے بعد وزیراعظم میاں نواز شریف جلد سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے، جہاں وہ سعودی حکام سے مشرق وسطٰی کی صورتحال بارے کی جانے والی کوششوں اور پارلیمنٹ کی متفقہ قرار داد اور یمن کی صوررتحال کے بارے میں ترکی کے صدر سمیت دیگر مسلم ممالک کے علاوہ دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والے رابطوں کے بارے میں سعودی قیادت سے بات چیت کریں گے اور اس بارے میں منفقی قوتوں کی جانب سے کئے جانیوالے پراپیگنڈے پر بھی سعودی حکام سے بات چیت کریں گے ۔
یقینی طور پر وزیراعظم جب سعودی قیادت سے ملاقات کریں گے تو اس میں ایرانی آرمی چیف کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کی دھمکی بھی موضوع بحث ہوگی کیونکہ ایران کی اس دھمکی سے سعودی عرب کے اس موقف کو تقویت ملتی ہے جس میں سعودی عرب دنیا کو ایران کی یمن میں مداخلت سے باز رکھنے کیلئے کردار ادا کرنے پر زور دے رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر سعودی عرب پر کسی قسم کے حملوں کی مذموم کوشش ہوتی ہے تو پوری دنیا کے مسلمان اٹھ کھڑے ہوں گے کیونکہ مسلکی اختلافات اپنی جگہ مگر مسلکی اختلافات کی بنیاد پر مقدس مقامات پر چڑھائی کو امت مسلمہ برداشت نہیں کرے گی ۔
چینی صدر کا طیارہ جونہی فضا میں بلند ہوا، پاک فضائیہ کے 8 جے ایف17 تھنڈرطیاروں نے دائیں اور بائیں چار، چار کی فارمیشن بنا کراسے حفاظتی حصار میں لے کر رخصت کیا جبکہ اس سے قبل چینی صدر کی پاکستان آمد کے موقع پر بھی ان کا تاریخی اور والہانہ استقبال کیا گیا۔ چینی صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کو عالمی سطح پر انتہائی اہمیت دی گئی ہے اور تمام عالمی میڈیا میں چینی صدر کے دورہ پاکستان کی خبریں نمایاں رہیں جبکہ الیکٹرانک میڈیا میں بھی چینی صدر کا دورہ پاکستان ہی موضوع بحث ہے ۔
بعض عالمی مبصرین اس دورے کو نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر جغرافیائی ، سفارتی اور سیاسی لحاظ سے گیم چینجر قرار دے رہے ہیں ۔ چینی صدر کے دورہ پاکستان کے دوران اقتصادی راہ داری سمیت 51 معاہدوں پر دستخط ہوئے جبکہ پاک چین تجارتی حجم 20 ارب ڈالر تک لانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
چینی صدر کی پاکستان آمد کے موقع پر چینی صدر کا تاریخی ، پُرجوش اور والہانہ استقبال کیا گیا۔ چینی صدر نے پاکستان میں قیام کے دوران چیئرمین سینٹ رضاربانی اور سپیکرقومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات کی اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کیا۔
ایوان صدر میں پروقار تقریب میں چینی صدر شی چن پنگ کو پاکستان کے سب سے بڑے سول ایوارڈ'' نشان پاکستان ''سے بھی نواز گیا جبکہ اپنے دورے کے اختتام سے قبل چینی صدر کی جانب سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے کیا جانے والا خطاب بھی تاریخی تھا۔ اس خطاب کے بعد ملک میں چین، پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کو متنازعہ بنانے کا خواب دیکھنے والوں کی امیدوں پر یقیناً اوس پڑ جائے گی اور اس عظیم منصوبے کے خلاف مختلف کارنرز سے اٹھنے والی آوازیں دم توڑ جائیں گی ۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران چین کے صدر نے کہا کہ پارلیمنٹ سے خطاب کی دعوت کو وہ اعزاز سمجھتے ہیں ، پاکستان چین کا اچھا پڑوسی، دوست اور بھائی ہے، پاکستان اور چین کی دوستی باہمی اعتماد پر مبنی ہے، چینی صدر کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان کا مستقبل مشترک ہے ،دونوں ممالک کے تعلقات کو عملی اقدامات کے ذریعے مزید مستحکم کریں گے۔
انہیں وہ وقت یاد ہے جب چین دنیا میں بالکل تنہا تھا تو پاکستان نے چین کے لیے اپنے فضائی راستے کھولے، پاکستان چین کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے والا پہلا مسلم ملک تھا، جب چین قدرتی آفات میں گھرا تو پاکستان نے ہی چین کا ساتھ دیا۔ اسی طرح 2010 میں سیلاب سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لئے چین نے پاکستان کی بھرپور مدد کی ۔
چینی صدر کا پارلیمنٹ کے مُشترکہ اجلاس سے خطاب جہاں پاکستان کے تابناک و روشن مستقبل کے پیغامات سے بھرا ہوا تھا وہیں یہ خطاب نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے لئے بھی ایک واضح پیغام تھا۔ چینی صدر نے اپنے خطاب میں پاکستانی عوام کی بہادری و قابلیت کو بھی سراہا ہے جنہوں نے بڑے خطرات میں اپنی خودمختاری اور جغرافیائی حدود کا دفاع کیا، دہشت گردی کا خاتمہ دوطرفہ ترقی کیلئے انتہائی ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ چین پاکستان میں معاشی ترقی اور استحکام کا خواہاں ہے۔
آج ہزاروں پاکستانی چینی انجینئیرز کے ساتھ مل کر کئی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، پاکستان کے پاس ایشین ٹائیگر بننے کا موقع ہے، چین کے صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کا کئی علاقائی اور بین الاقوامی معاملات میں موقف یکساں ہے۔ یمن میں محصور پاکستانیوں اور چینی شہریوں کو دونوں ملکوں نے باہمی تعاون سے نکالا۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کی مدد کو اپنی مدد سمجھتا ہے، ہم فاٹا میں ازسرنو تعمیر کے منصوبوں میں پاکستان کی پوری مدد کریں گے۔
اس کے علاوہ گوادر پورٹ کو جدید بنانا بھی چین کا اہم منصوبہ ہے۔ چینی صدر نے اپنے خطاب میں پاکستان میں مختلف کارنرز سے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے بارے جو آوازیں تھ رہیں تھیں انکا بھی جواب دیا ہے اور واضع کیا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری چاروںصوبوں سے گذرے گی اور اسکا فاٹا کو بھی فائدہ ہوگا بلکہ بھارت سمیت خطے کے دوسرے ممالک بھی اس منصوبے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران چین کے صدر شی چن پنگ کے خطاب پر اظہار تشکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ چینی صدر کی آمد پران کے شکرگزار ہیں، ہمارے لئے باعث اعزاز ہے کہ آج ایک عظیم رہنما کی میزبانی کر رہے ہیں، چینی صدر جتنے اپنے ملک میں مقبول ہیں اتنے ہی پاکستان میں ہیں، پاکستان اور چین صحیح معنوں میں آہنی بھائی ہیں، دونوں ملکوں کی دوستی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے، پاکستان کے تمام سیاسی رہنماؤں کا چین کے بارے میں یکساں موقف ہے۔
وزیراعظم میں نوازشریف نے کہا کہ چین کی سکیورٹی پاکستان کی سکیورٹی ہے، پاکستان بین الاقوامی سطح پر ایک چین پالیسی کی حمایت جاری رکھے گا۔ ہم دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لئے ایک ساتھ مل کر لڑیں گے، اس سلسلے میں ہمیں مشترکہ کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری دونوں ملکوں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے جس پر تیزی سے کام ہو رہا ہے، پاکستان میں توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے چینی کوششوں کی تعریف کرتے ہیں۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بعد چین کے صدر سے تعارف کے دوران وزیر اعظم نواز شریف نے عمران خان سے شکوہ کیا کہ دھرنے کی وجہ سے ان کے دورہ پاکستان میں چھ ماہ کی تاخیر ہوئی ہے جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ انہیں تو دھرنا ختم کئے کئی ماہ گزر چکے ہیں۔ چینی صدر پاکستان کا کامیاب دورہ کرکے واپس روانہ ہوگئے ہیں تاہم غیر جانبدار مبصرین عمران خان کے اس جواب کو بھی سیاسی ناپُختگی سے تعبیر کر رہے ہیں ۔
سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر رکھنا ذمہ دار ممالک اور اقوام کا طرہ امتیاز ہوا کرتا ہے۔ چینی صدر کے دورہ پاکستان کے بعد وزیراعظم میاں نواز شریف جلد سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے، جہاں وہ سعودی حکام سے مشرق وسطٰی کی صورتحال بارے کی جانے والی کوششوں اور پارلیمنٹ کی متفقہ قرار داد اور یمن کی صوررتحال کے بارے میں ترکی کے صدر سمیت دیگر مسلم ممالک کے علاوہ دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والے رابطوں کے بارے میں سعودی قیادت سے بات چیت کریں گے اور اس بارے میں منفقی قوتوں کی جانب سے کئے جانیوالے پراپیگنڈے پر بھی سعودی حکام سے بات چیت کریں گے ۔
یقینی طور پر وزیراعظم جب سعودی قیادت سے ملاقات کریں گے تو اس میں ایرانی آرمی چیف کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کی دھمکی بھی موضوع بحث ہوگی کیونکہ ایران کی اس دھمکی سے سعودی عرب کے اس موقف کو تقویت ملتی ہے جس میں سعودی عرب دنیا کو ایران کی یمن میں مداخلت سے باز رکھنے کیلئے کردار ادا کرنے پر زور دے رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر سعودی عرب پر کسی قسم کے حملوں کی مذموم کوشش ہوتی ہے تو پوری دنیا کے مسلمان اٹھ کھڑے ہوں گے کیونکہ مسلکی اختلافات اپنی جگہ مگر مسلکی اختلافات کی بنیاد پر مقدس مقامات پر چڑھائی کو امت مسلمہ برداشت نہیں کرے گی ۔