چینی سرمایہ کاری سے معیشت مضبوط ہوگیشفافیت ضروری ہےایکسپریس فورم

ہمسایوں سے تعلقات بہترکریں،جاوید حسین، چینی صدرکادورہ پاکستان کوریجنل پلیئر بنانے میں معاون ہوگا،بریگیڈیئر (ر)غضنفرعلی

چینی صدر کا دورہ پاکستان کے حوالے سے ایکسپریس فورم سے سابق سفارت کار جاوید حسین خطاب کررہے ہیں جبکہ بریگیڈر (ر) سید غضنفر علی، ڈاکٹر اعجاز بٹ اور ڈاکٹر حیفظ الرحمن ساتھ بیٹھے ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

چینی صدر کا دورہ پاکستان کو لائم لائٹ میں لانے میں مدد گار ثابت ہوگا، چینی سرمایہ کاری سے پاکستان کی معیشت مضبوط ہو گی، اگر شفافیت اور ایمانداری کے ساتھ ان منصوبوں پر کام نہ کیا گیا توخاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہونگے۔

ان خیالات کا اظہار''چینی صدر کے دورہ پاکستان'' کے حوالے سے ''ایکسپریس فورم'' میں سفارتی، دفاعی، اقتصادی و سیاسی تجزیہ کاروں نے کیا۔سابق سفارتکار جاوید حسین نے کہا کہ پاک چین اکنامک کوریڈور سے پاکستان کوبہت فائدہ ہوگا، اس میں خود چین کا بھی فائدہ ہے کیونکہ اس کے پسماندہ علاقوں کی بھی ترقی ہوگی، 46ارب ڈالرکی چینی سرمایہ کاری سے اگلے 10 برسوں میں پاکستان کی ترقی اورمعیشت مضبوط ہوگی۔ چین کی کوشش ہے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن قائم ہو۔


ہمیں بھی ہمسایہ ممالک کےساتھ تعلقات بہترکرنے چاہئیں تاکہ دفاعی اخراجات کم ہوں۔ اگرایران گوادر بندرگاہ کے حق میں نہ ہوتا تواس کے لیے 100میگاواٹ بجلی دینے کے لیے تیارنہ ہوتا۔ دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیئر (ر) سید غضنفر علی نے کہاکہ چین اورپاکستان کے دفاعی تعلقات بڑھ رہے ہیں، افغانستان میں بھارت کے قونصل خانے پاکستان کے خلاف اب بھی کام کر رہے ہیں جبکہ بلوچستان میں بھارتی ایجنسی ''را'' کا بہت بڑا ہاتھ ہے، یمن کے مسئلے میں ہمیں کسی حد تک سعودیہ کے ساتھ چلنا ہوگا۔

امریکا اور پاکستان نے 13سال ملکر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی لیکن امریکا نے صرف 5بلین ڈالرکی سرمایہ کاری کی۔ چینی صدرکا دورہ پاکستان کو لائم لائٹ میں لانے اور ریجنل پلیئر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا، منصوبوں میں شفافیت ضروری ہے۔ جامعہ پنجاب کے شعبہ اکنامکس کے سربراہ ڈاکٹرحفیظ الرحمن نے کہا کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری پاکستان میں آئی لہٰذا اب ہمیں اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

چند سیاسی جماعتوں نے سیاسی مقاصد کے لیے اقتصادی راہداری کے منصوبے کی مخالفت شروع کردی ہے، ہمیں ریجنل کی بجائے نیشنل سوچ اپنانی چاہیے، تجزیہ نگار ڈاکٹراعجاز بٹ نے کہا کہ پاک چین دوستی دوطرفہ تعلقات پر مبنی ہے اور دونوں ممالک عرصہ دراز سے ایک دوسرے کی مددکرتے آئے ہیں، ضرب عضب نے بھی چین کا پاکستان پر اعتماد بحال کیا ہے لہٰذا ہمیں سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید بہتر بنانا ہوگا، اس منصوبے کے حوالے سے بھارت اور ایران کا الائنس خطرناک ہوگا کیونکہ ایران نہیں چاہتا کہ چابہار بندرگاہ کے مقابلے میں گوادر بندرگاہ بہتر ہواوراس الائنس میں امریکا بھی شامل ہوسکتا ہے۔
Load Next Story