پاکستان مستقبل کا ایشین ٹائیگر

چین کے صدرشی چن پنگ نے ایک خوبصورت پیش گوئی کردی کہ پاکستان کے پاس ایشین ٹائیگربننے کا موقع ہے

چین کے تعاون سے شروع ہونیوالے توانائی کے منصوبے توانائی کی قلت کے خاتمے کا باعث بنیں گے۔

پاکستانیوں کو اپنے عزیزترین پڑوسی ملک چین کے صدرکی آمد سے جوخوشی حاصل ہوئی،اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں،دونوں ممالک کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، چین ایک ایسا دوست ہے ۔

جس کی دوستی پرجتنا بھی نازکیا جائے وہ کم ہے، دوست بظاہر مہمان بن کر آیا لیکن اپنے ساتھ پاکستانیوں کی معاشی واقتصادی ترقی کے لیے 46 ارب ڈالر کے پیکیج کی سوغات بھی ساتھ لایا ۔چین کے صدرشی چن پنگ نے ایک خوبصورت پیش گوئی کردی کہ پاکستان کے پاس ایشین ٹائیگربننے کا موقع ہے اور یہ ایک دن ضرور ایشین ٹائیگربنے گا اور پاکستانی قوم متحد ہوکر قومی ترقی کے اہداف حاصل کرسکتی ہے، جواباً وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ ہم سدا بہار اور آزمودہ اسٹرٹیجک شراکت دار ہونے کے ساتھ ساتھ حقیقی معنوں میں فولادی بھائی ہیں۔چینی صدر اور وزیراعظم پاکستان کے خیالات امن ،دوستی اور بھائی چارے کی مثال ہیں ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومتی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان جو معاہدے طے پائے ہیں ، ان کے ثمرات پاکستان کے عوام پر کیا مرتب ہوتے ہیں ۔پاکستان اس وقت معاشی واقتصادی طور پر گوناگوں مسائل کا شکار ہے ، اس کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے چین نے جو معاہدے کیے ہیں۔


ان پر ہونے والی پیش رفت سے پاکستان کی معاشی واقتصادی صورتحال میں بہت بڑی تبدیلی رونما ہوگی، کیونکہ امن وامان کی ابتری کے بعد وطن عزیز کا سب سے بڑا مسئلہ توانائی کا بحران ہے جس نے ہماری معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا ہے۔ توانائی کے منصوبوں کی تکمیل سے ملک کو لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں سے نجات ملے گی۔

مواصلات اور صنعتی منصوبوں کی تکمیل سے روزگار کے نئے مواقعے پیدا ہونگے ، لاکھوں بے روز گار افراد برسرروزگار ہوکر اپنے خاندانوں کی کفالت کرسکیں بلکہ ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی بھی رونما ہوگی ،چین کے تعاون سے شروع ہونیوالے توانائی کے منصوبے توانائی کی قلت کے خاتمے کا باعث بنیں گے اور نہ صرف ملک ایک بار پھرخوشحال ہوگابلکہ اقتصادی ترقی کا پہیہ بھی تیز رفتاری سے منازل طے کرے گا۔

چین تک راہدری کی تکمیل سے ذرایع مواصلات کے نظام کو بہتر بنانے اور پاکستانی مال کو وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی میں آسانی ہوگی۔ اقتصادی منصوبوں اور ان پر کام کرنیوالے چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے اسپیشل سیکیورٹی ڈویژن جو کہ 10ہزار فوجی اہلکاروں پر مشتمل ہوگا تشکیل دیا ہے۔یہ ایک مستحسن اقدام ہے،جس کے تحت چینیوں کو دہشتگردوں سے تحفظ فراہم کیا جاسکے گا ۔
Load Next Story