یمن میں ’’آپریشن امید‘‘ خوش آیند ہے

حقیقت میں سعودی عرب اور یمن کے درمیان کشمکش بہت پرانی ہے اور اب جب کہ یمن کو بدترین سیاسی بحران کا سامنا ہے

اب عالمی برادری کو جلد مصالحت ، سیز فائر اور مکمل امن کی بحالی کے لیے سیاسی مکالمہ شروع کردینا چا ہیے. فوٹو : فائل

سعودی عرب نے یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن ختم کر دیا ہے۔ العربیہ ٹی وی کے مطابق سعودی فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے آپریشن ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن کے اہداف حاصل ہو گئے ہیں، یمن میں فضائی کارروائی ختم کر دی ہے۔

اس اعلان کے ساتھ ہی امن کی بحالی کی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں ، جب کہ پاکستان، ترکی ، خلیجی ممالک، ملائیشیا،انڈونیشیا اور مصر سمیت علاقے کے دیگر اہم ممالک کو انتظار ہے کہ یمن کا فوری رد عمل معلوم کیا جائے ، لیکن مسئلے کی سنگینی اعصاب شکن ہے کیونکہ یمن میں مرکزی حکومت کی عدم موجودگی اور شورش و افراتفری کے باعث فی الوقت کوئی ایسی قومی شخصیت نہیں جسے فوری طور پر یمن میں سیاسی نگراں یا قومی و اتحادی حکومت کے قیام کی کلید تھما دی جائے اور عالمی برادری اس کی پشت پر موجود ہو جب کہ امریکا، سعودی عرب اور دیگر ملکوں کی خواہش ہے کہ منصور ہادی کی حکومت کو بحال کردیا جائے۔

بہرحال جنگی صورتحال میں اس ڈرامائی تبدیلی کا خوش آیند پہلو یہ ہے کہ سعودی عرب نے آپریشن روکنے اور سیاسی مفاہمت کا عمل شروع کرنے کا اشارہ دیا ہے جب کہ پاکستانی پارلیمنٹ نے یمن بحران میں غیر جانبدار رہنے کا جو دانشمندانہ فیصلہ کیا اس کے پیچھے پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت اور پوری قوم کی غیر مشروط حمایت بھی مثالی تھی ، پھر وزیراعظم نواز شریف نے جو سعودی عرب پہنچ کر اپنے امن مشن اور یمن کی صورتحال پر سعودی زعما سے ملاقات کریں گے یہ واضح کردیا کہ سعودی عرب قریبی اتحادی اورا سٹرٹیجک پارٹنر ہے ۔

اس کے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر چلیں گے۔ صدر مملکت ممنون حسین بھی ترکی کے دورے پر ہیں، وزیراعظم کے واشگاف بیان نے بے یقینی کا خاتمہ کردیا ہے ۔ ایران نے آپریشن ختم کرنے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ایران، سعودی عرب اور یمن کے درمیان ثالثی پر رضامندی پہلے ہی ظاہر کرچکا تھا تاہم غیر ملکی میڈیا کا بار ملامت اس بات پر ایرانی حکام کے لیے پریشان کن تھا کہ یمن کے سارے فسانے میں جو اصل بات ہے وہ ایران کنکشن کے بغیر مکمل ہو نہیں سکتی۔

حقیقت میں سعودی عرب اور یمن کے درمیان کشمکش بہت پرانی ہے اور اب جب کہ یمن کو بدترین سیاسی بحران کا سامنا ہے ، ہولناک بمباری اور مسلح جھڑپوں سے پورا نفراسٹرکچر تباہ ہوگیا ہے ، عوام شدید غربت اور غذائی قلت کا شکار ہیں اس لیے آپریشن کا خاتمہ یمنی عوام کے لیے خوشگوار ہوا کا جھونکا ہے، اب عالمی برادری کو جلد مصالحت ، سیز فائر اور مکمل امن کی بحالی کے لیے سیاسی مکالمہ شروع کردینا چاہیے ۔ تاہم یہ اعلان کہ سعودی عرب اور پڑوسی ممالک کو درپیش خطرات کا خاتمہ ہو گیا ہے۔


اس وقت تک حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا جب تک یمن میں واقعتاً سیز فائر نہیں ہوتا، اور حوثی قبائلی قیادت یا تمام جنگجو گروپ مشترکہ اعلان نہ کردیں کہ یمنی حکومت کی درخواست پر آپریشن فیصلہ کن طوفان ختم کیا گیا ہے اور وہ بھی مسئلہ کے پر امن حل پر راضی ہیں، جب کہ زمینی صورتحال یہ ہے کہ امریکی بحری بیڑے میں شامل کئی جہاز یمن کے سمندری علاقے میں پوزیشنیں لیے ہوئے ہیں، یو ایس ایس تھیوڈور روز ویلٹ، کروز میزائل کرزور اور یو ایس ایس ونسٹن چرچل سمیت کئی میزائل بردار جہاز ایرانی آرمیڈا کی نقل و حرکت پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، بعض ایرانی جنگی کشتیوں کو حراست میں لینے کی اطلاع بھی آئی ہے۔

شنید ہے کہ سعودی فوج یمن کے حوثی باغیوں کے مخالف گروہوں کی مدد کرنے پر غور کر رہی ہے چنانچہ حوثی باغیوں نے کوئی کارروائی کی تو زمینی فوج اور بارڈر گارڈز جوابی کارروائی کریں گے۔ یہ اس بات کا عندیہ ہے کہ ابھی آزمائشی مراحل آنے والے ہیں۔ ترجمان کے مطابق اب نیاآپریشن ''آپریشن امید'' کی بحالی کے نام سے شروع کیا جائے گا۔

جس میں سفارتی اور سیاسی کوششیں اور فوجی آپریشن شامل ہوگا ، اگلا مرحلہ سیاسی عمل کی بحالی، امداد کی فراہمی اور ملک میں دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہے۔ واضح رہے کہ فضائی حملوں کا آغاز 26 مارچ کو ہوا تھا۔ جدہ میں سینٹر فار اسٹرٹیجک اینڈ لیگل اسٹڈیز کے چیئرمین انور ایشکی نے کہا کہ یمن کے جلاوطن صدر جلد وطن واپس پہنچیں گے اور حوثیوں کے حکومت سے مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ قبل ازیں سعودی اور اتحادی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے یمنی قبائل کو خبردار کیا کہ وہ حوثیوں کو پناہ دینے یا ان کا اسلحہ اپنے گھروں میں چھپانے سے گریز کریں ورنہ فوجی آپریشن میں انھیں بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

حوثیوں کے نمایندے حسین البخیتی کا کہنا ہے کہ حوثی قبائل سعودی عرب میں مقدس مقامات پر حملہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے، انھوں نے کہا اگر پاکستان حکومت اپنی افواج سعودی عرب بجھوا بھی دیتی ہے تو اس سے یمنی اور پاکستانی عوام کے تعلقات متاثر نہیں ہونگے۔

ہم جانتے ہیں کہ یہ فیصلہ شریف حکومت کا ہو گا نہ کہ پاکستانی عوام کا۔ اب گیند یمن کے داخلی اہم کرداروں کی کورٹ میں ہے ، حوثی قبائل اپنے ہارٹ لینڈ میں شورش اور یورش ترک کریں، زیتون کی سعودی شاخ کا خیرمقدم کریں، مکالمہ کی میز پر پہنچیں، پاکستان، ایران، ترکی ، مصر، خلیجی ممالک، او آئی سی اورعرب لیگ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر فوری عمل درآمد کے لیے سعودی عرب اور یمن کو سمجھوتہ پر قائل کریں دوسرا کوئی متبادل نہیں ۔
Load Next Story