فنڈز کے بغیر نئے منصوبوں کا اجرا
پاکستان شاید وہ واحد ملک قرار پائے جہاں حکومتی و ادارہ جاتی ہر سطح پر نظم و ضبط اور منصوبہ بندی کا فقدان نظر آتا ہے
جب تک چیک اینڈ بیلنس کا موثر نظام قائم اور منصوبہ بندی کا ادارہ قابل لوگوں کے سپرد نہیں کیا جائے گا صورتحال میں مثبت تبدیلی کی توقع عبث ہے۔فوٹو : فائل
پاکستان شاید وہ واحد ملک قرار پائے جہاں حکومتی و ادارہ جاتی ہر سطح پر نظم و ضبط اور منصوبہ بندی کا فقدان نظر آتا ہے، یہاں تک کہ وہ ادارے جو بزعم خود ملک کی ترقی کا پلان مرتب کرتے ہیں اور ترقیاتی منصوبہ بندی کے امور سرانجام دیتے ہیں راست اقدامات، متناسب اسٹرٹیجی اور دوررس سوچ سے عاری ہیں۔
بدھ کو قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وزارت منصوبہ بندی و ترقی کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزارت سے 2015تک کے جاری منصوبوں کے لیے مختص کردہ رقم اور نظرثانی سمیت سالانہ تفصیلات طلب کرلیں۔ چیئرمین خورشید شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کئی ایسی باتیں سامنے آئیں جو ادارے کی سنجیدگی اور اہلیت پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، نیز اس بات کا بھی ادراک ہوتا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کو مرتب کرتے ہوئے ٹائم فریم اور فنڈز کی دستیابی کو مدنظر نہیں رکھا جاتا، یہی وجہ ہے کہ جب وزارت منصوبہ بندی و ترقی اور وزارت خزانہ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 903 جاری منصوبوں کے لیے 1612 ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں، ان کی لاگت 5008 ارب روپے ہے۔
، تو چیئرمین پی اے سی نے مجموعی لاگت اور مختص فنڈز کے حوالے سے سوال اٹھایا کہ اگلے سال سات نئے منصوبوں کے لیے ایک روپیہ بھی مختص نہ کریں تب جاکر یہ منصوبے مکمل ہوں گے، یہ کیسی منصوبہ بندی ہے؟ جو صورتحال ہے اس سے جاری منصوبے اگلے 20 سال میں بھی مکمل نہیں ہوں گے، جاری منصوبوں کے لیے پیسے نہیں اور 50،60 ارب روپے کے نئے منصوبے شروع کردیے گئے۔ چیئرمین کمیٹی کا یہ کہنا بھی صائب ہے کہ وزارتوں کو پہلے پتہ ہونا چاہیے کہ کون سی رقم خرچ نہیں ہورہی۔ مذکورہ صورتحال نہایت مایوس کن اور اداروں کی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان ہے۔
یہ المیہ ہے کہ پاکستان میں ترقیاتی منصوبے یا تو کرائے ہی نہیں جاتے یاجو منصوبے شروع بھی ہوتے ہیں وہ اپنے تخمینے اور دورانیہ سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں، کئی باربجٹ کی مختص شدہ رقوم لیپس ہوجاتی ہیں، جب کہ ضمنی یا بلدیاتی الیکشن پر ترقیاتی مد میں سرکاری پیسہ لٹایا جاتا ہے، نیز ذمے داران کا تعین اور احتساب کا عمل نہ ہونے کے باعث بھی یہ صورتحال مزید خرابی کا شکار ہے، جاری منصوبوں میں تاخیر کا کوئی نہ کوئی تو ذمے دار ہوگا، لیکن کیا آج تک کسی ذمے دار کا احتساب کیا گیا؟ جب تک چیک اینڈ بیلنس کا موثر نظام قائم اور منصوبہ بندی کا ادارہ قابل لوگوں کے سپرد نہیں کیا جائے گا صورتحال میں مثبت تبدیلی کی توقع عبث ہے۔
بدھ کو قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وزارت منصوبہ بندی و ترقی کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے وزارت سے 2015تک کے جاری منصوبوں کے لیے مختص کردہ رقم اور نظرثانی سمیت سالانہ تفصیلات طلب کرلیں۔ چیئرمین خورشید شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کئی ایسی باتیں سامنے آئیں جو ادارے کی سنجیدگی اور اہلیت پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، نیز اس بات کا بھی ادراک ہوتا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کو مرتب کرتے ہوئے ٹائم فریم اور فنڈز کی دستیابی کو مدنظر نہیں رکھا جاتا، یہی وجہ ہے کہ جب وزارت منصوبہ بندی و ترقی اور وزارت خزانہ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 903 جاری منصوبوں کے لیے 1612 ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں، ان کی لاگت 5008 ارب روپے ہے۔
، تو چیئرمین پی اے سی نے مجموعی لاگت اور مختص فنڈز کے حوالے سے سوال اٹھایا کہ اگلے سال سات نئے منصوبوں کے لیے ایک روپیہ بھی مختص نہ کریں تب جاکر یہ منصوبے مکمل ہوں گے، یہ کیسی منصوبہ بندی ہے؟ جو صورتحال ہے اس سے جاری منصوبے اگلے 20 سال میں بھی مکمل نہیں ہوں گے، جاری منصوبوں کے لیے پیسے نہیں اور 50،60 ارب روپے کے نئے منصوبے شروع کردیے گئے۔ چیئرمین کمیٹی کا یہ کہنا بھی صائب ہے کہ وزارتوں کو پہلے پتہ ہونا چاہیے کہ کون سی رقم خرچ نہیں ہورہی۔ مذکورہ صورتحال نہایت مایوس کن اور اداروں کی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان ہے۔
یہ المیہ ہے کہ پاکستان میں ترقیاتی منصوبے یا تو کرائے ہی نہیں جاتے یاجو منصوبے شروع بھی ہوتے ہیں وہ اپنے تخمینے اور دورانیہ سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں، کئی باربجٹ کی مختص شدہ رقوم لیپس ہوجاتی ہیں، جب کہ ضمنی یا بلدیاتی الیکشن پر ترقیاتی مد میں سرکاری پیسہ لٹایا جاتا ہے، نیز ذمے داران کا تعین اور احتساب کا عمل نہ ہونے کے باعث بھی یہ صورتحال مزید خرابی کا شکار ہے، جاری منصوبوں میں تاخیر کا کوئی نہ کوئی تو ذمے دار ہوگا، لیکن کیا آج تک کسی ذمے دار کا احتساب کیا گیا؟ جب تک چیک اینڈ بیلنس کا موثر نظام قائم اور منصوبہ بندی کا ادارہ قابل لوگوں کے سپرد نہیں کیا جائے گا صورتحال میں مثبت تبدیلی کی توقع عبث ہے۔