بوسنیا سے تجارتی تعاون معاہدہ مستحسن اقدام

تجارت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبہ جات میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو بڑھاوا دینے پر متفق ہونا مستحسن اقدام ہے

پاکستان اوربوسنیا نے دفاع اور تجارت کے شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کی دو مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کر کے دوستی کے لازوال رشتے پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ فوٹو: رائٹرز

بوسنیااور پاکستان ملت اسلامیہ کے دو برادر اسلامی ممالک ہونے کے ناتے جہاں قدیم تاریخی اور ثقافتی پس منظر کے حامل ہیں۔

وہیں دوستی،ایثار اورچاہت کے اٹوٹ بندھن میں بھی بندھے ہوئے ہیں ۔بوسنیا یورپ کا گیٹ وے ہے ۔ جنوب مشرقی یورپ کا اہم ترین ملک ہونے کے سبب اس گیٹ وے کے ذریعے لاکھوں افراد کی رسائی تجارتی منڈیوں تک باآسانی ہوسکتی ہے ۔ پاکستان کے صنعت وتجارت سے وابستہ کاروباری افراد کے لیے سنہری موقع ہے کہ وہ بوسنیا میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کریں اور قیمتی زرمبادلہ کے ذریعے وطن عزیز کی معیشت کو مستحکم بنانے میں اپنا بھرپورکردار ادا کریں ۔

منگل کو دورجدید کے تقاضوں کے عین مطابق پاکستان اوربوسنیا نے دفاع اور تجارت کے شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کی دو مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کر کے دوستی کے لازوال رشتے پر مہر تصدیق ثبت کی ہے ۔ بوسنیا کے صدر باقر عزت بیگووچ کی پاکستان آمد بالکل ایسی ہے جیسے ایک بھائی دوسرے بھائی کے گھر میں آئے اور اہل پاکستان اور صدرآصف زرداری نے ان کے لیے دیدہ ودل فرش راہ کیا ۔دو مسلمان ملکوں کے حکمرانوں اور عوام میں دوستی، محبت اورچاہت کے جذبات تو جہاں فطری امر ہیں تو دوسری جانب جدید دنیا اور عالمی تناظر کو مدنظر رکھتے ہوئے تجارت،توانائی اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبہ جات میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو بڑھاوا دینے پر متفق ہونا مستحسن اقدام قراردیا جاسکتا ہے۔مشترکہ پریس کانفرنس میںدونوں ممالک کے صدور نے اپنے پرمغز خیالات کا اظہار کیا ۔


صدر زرداری نے بوسنیا کی یکجہتی اورعلاقائی سالمیت کے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا۔بوسنیا کے صدر نے کہا پاکستان اوربوسنیا کے درمیان تاریخی روابط استوار ہیں۔تجارتی معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں ممالک دفاعی شعبے میں تعاون کو فروغ دے کر اپنی سلامتی وبقا کو یقینی بناسکتے ہیں۔ توانائی کے شدید بحران کے شکار وطن عزیز کو بوسنیا نے بھرپور مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے ، اس کے علاوہ بوسنیا اسٹیل، ہائی ٹیکنالوجی، تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں مواقع فراہم کرنے کو تیار ہے جب کہ پاکستان ٹیکسٹائل، کاٹن، زرعی اجناس اور دیگر مصنوعات بوسنیا میں درآمد کر کے عالمی منڈی میں بہتر مقام بناسکتا ہے۔طلبا کے تبادلے اور تعلیمی ایکسچینج پروگرام کی بدولت تعلیمی شعبے میں نئی راہیں کھلیں گی۔

بوسنیا نے عالمی پیش و پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے یورپ اور کینیڈا کے ساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ کر رکھا ہے اور ہمیں بھی معاہدے سے فائدہ اٹھانے کی پیشکش کی ہے۔تجارتی نقطہ نظر سے عالمی منڈیوں میں رسائی اورکامیابی اور نئے در وا ہونے سے پاکستانی تاجروں اور عوام کے گھروں میں گھی کے چراغ جل سکتے ہیں ۔تاریخی تناظر میں 950 سن عیسوی سے عالمی نقشے پر ابھرنے والا یہ خطہ سلطنت عثمانیہ کا اہم جزو رہنے کے سبب اور اہل مغرب کے جبر واستعداد اور اسلامی تشخص کو مٹانے کے لیے کی جانے والی نسل کشی کے باوجود اپنی قومی بقا وشناخت کو قائم ودائم رکھنے میں کامیابی وکامرانی سے ہمکنار ہوا ہے اور 1992 میں سابق یوگوسلاویہ سے لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر آزادی حاصل کرنے کے لیے عوام نے شورش،مزاحمت اور قومی بقا کے الفاظ کو نئے معانی عطا کیے ہیں۔

برادر اسلامی ملک نے ترقی کی راہوں پر اپنا سفر رواں دواں رکھا ہے۔ایسے پرعزم ملک وقوم کے ساتھ تجارتی معاہدے اور روابط ہماری قومی وملکی زندگی میں نئی روح پھونکنے میں معاون ومددگار ثابت ہوسکتے ہیں ۔ہم پر امید ہیں کہ پاکستان کے عظیم تر ملکی ومعاشی مفاد میں اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے تمام ممکن اقدامات کیے جائیں گے ۔
Load Next Story