لکشمی مینشن منٹو اور ’’میں‘‘

وہ بلاشبہ ایک بہت بڑا اور نفیس مزاج افسانہ نگار تھا جس نے کتنے ہی زندہ افسانوی کردار اپنی میراث میں چھوڑے

Abdulqhasan@hotmail.com

عمران خان کی پرواز کو چھوڑتے ہوئے کہ یہ موضوع تو اب مدتوں ہم اخبار نویسوں کی جان نہیں چھوڑ سکتا۔

فی الحال لاہور شہر کی شکل بگاڑنے کی کوششوں کا احتجاجاً ذکر کرتے ہیں۔ پہلے تو یہ سن کر خوشی ہوئی کہ اس شہر کی ان عمارتوں کے تحفظ کا ایک منصوبہ زیر عمل ہے جو اس شہر کی شناخت ہیں اس سلسلے میں لاہور کی مال روڈ کی بعض عمارات کا حوالہ دیا گیا۔ شہر کی بعض دوسری پرانی خوبصورت عمارتوں کا ذکر بھی ہوا لیکن ان تمام خوشخبریوں پر یہ سن کر پانی پھر گیا کہ مال روڈ کے وسط میں ایک بہت پرانی اور زندہ خوبصورت عمارت لکشمی مینشن کو گرا کر اس کی جگہ کوئی کمرشل پلازا بن رہا ہے۔ اخبار نے بتایا کہ لاہور کی عمارتوں کے تحفظ کا اعلان کرنے والے بڑے افسر اس پر چپ ہیں۔

ریگل چوک میں واقع یہ عمارت دو حصوں پر مشتمل ہے ایک تو اس کا مال پر دکانوں کا سلسلہ ہے جو بیڈن روڈ اور ہال روڈ کے درمیان واقعہ ہے اس عمارت کے پیچھے رہائشی فلیٹ ہیں جو ایک سبزہ زار کے گرد دائرے کی شکل میں ہیں۔ ان فلیٹوں میں سعادت حسن منٹو نے ہجرت کے بعد لاہور میں زندگی بسر کی دوسری بڑی شخصیت جو یہاں مقیم رہی وہ ملک معراج خالد کی تھی، ملک صاحب دوسری منزل پر رہتے تھے، منٹو کا رہائشی فلیٹ گرائونڈ فلور پر تھا اور اس کے اوپر کے فلیٹ میں منٹو کے عزیز حامد جلال کی فیملی رہائش پذیر تھی۔


اپنے وقت کے ایک معروف صحافی زاہد چوہدری بھی یہاں ایک فلیٹ میں مقیم تھے، معروف سیاستدان میاں احسان بھی خاندان کے ہمراہ یہاں مقیم رہے اور ان معروف لوگوں کے پڑوس میں ایک غیر معروف عام صحافی عبدالقادر حسن بھی مقیم تھا۔ اس زمانے میں میری ہلکی سی داڑھی بھی ہوا کرتی تھی، میں نے منٹو صاحب کے ملنے والے ایک صاحب سے کہا کہ وہ ان سے میری ملاقات کے لیے وقت مانگے۔ دوسرے دن اس نے بتایا کہ منٹو صاحب نے کہا کہ تم اس داڑھی والے کی بات کر رہے ہو میں اس سے نہیں ملنا چاہتا لیکن ان سے ملاقات کے لیے میں ان کی ناپسند داڑھی تو نہیں منڈوا سکتا تھا البتہ چند برس بعد ہی ایسا کئی بار ہوا کہ منٹو صاحب شام کو کافی ہائوس آئے اور انھوں نے رات کے لیے پیسے مانگے تو اگر میری یا کسی دوست کی جیب میں ہوئے تو انھیں ساڑھے چار روپے دے دیتے جو ایک پوّے کی قیمت ہوتی تھی اور منٹو صاحب سامنے ایڈل جی کی دکان سے ایک کواٹر خرید کر قریب ہی اس کمرشل بلڈنگ میں اپنے ایک دوست دکاندار کے ہاں بیٹھ جاتے۔

رات کو وہ نشے سے فارغ ہو کر سالم تانگہ لیتے اور اس کی پچھلی نشست پر بیٹھ کر گھر چلے جاتے جو ایک بڑی عیاشی سمجھی جاتی تھی۔ عجیب آدمی تھے یا تو روزانہ یا اکثر شام کو مانگ کر شراب پیتے لیکن بال کٹوانے کے لیے کبھی کسی دکان پر نہیں گئے قریب کی ہال روڈ کے مشہور ہیئر ڈریسر کی دکان سے اپنا پسندیدہ حجام مبارک بلواتے اور گھر کے باہر ایک کرسی پر بیٹھ کر بال کٹواتے، پڑوسیوں سے میل جول بہت کم تھا، ان کے چند دوست ان سے ملنے باقاعدگی سے آیا کرتے جن میں ایک مصور شمزا بھی تھا۔ جو لندن چلا گیا۔ اسی طرح کچھ پبلشر بھی ان سے ملنے آتے۔ میں نے ایک پبلشر کے ذریعہ سے ہی ان سے ملاقات کی خواہش کی تھی جو نامنظور ہو گئی۔ قلم کا یہ بڑا نامور مزدور ایک اخبار میں کالم بھی لکھنے لگا تھا جس سے کچھ مل جاتا مگر وہ مانگے تانگے کی شراب پر زندگی گزارتا ہوا بہت جلد ہی دنیا چھوڑ گیا۔ وہ بلاشبہ ایک بہت بڑا اور نفیس مزاج افسانہ نگار تھا جس نے کتنے ہی زندہ افسانوی کردار اپنی میراث میں چھوڑے۔

بات مال روڈ کی ایک عمارت کی ہو رہی تھی جو اپنی تاریخ سمیت مسمار ہو رہی ہے بعض سرمایہ دار یہ زندہ تاریخ خرید رہے ہیں اور حکومت بیچ رہی ہے۔ خدا جانے کون نفع میں رہے گا اور کون نقصان میں لیکن سارا نقصان اس شہر لاہور کا ہو گا جو اپنی ایک یاد گار نشانی سے محروم ہو رہا ہے۔ پوری دنیا میں کسی بڑے شہر کی ایسی بڑی عمارتیں محفوظ رکھی جاتی ہیں قومی ورثہ سمجھ کر لیکن جو قوم ملک کا نصف حصہ مفت میں دے دے اس سے کوئی کیا گلہ کرے کہ اس نے ایک عمارت بیچ دی۔

آج لکشمی مینشن کی جان پر بنی ہوئی ہے تو کل دوسری عمارتیں بھی ملبہ کا ڈھیر ہوں گی۔ معلوم ہوا کہ کچھ با اثر لوگ لکشمی مینشن نام کی مرکزی لاہور میں واقع اس قیمتی عمارت پر ہاتھ صاف کر رہے ہیں اسی طرح دوسری عمارتیں بھی با اثر لوگوں کی نظر میں ہیں جو کسی دن بجری بنا کر ٹرکوں پر لادی جا رہی ہوں گی۔ کیا کوئی ہے جسے ملک کی ثقافت اور ورثوں سے محبت ہو اور ان کو اپنا گھر سمجھ کر محفوظ رکھ سکے لیکن وہ افسر کیا کسی عمارت کو اپنی سمجھیں گے جو کل لاہور سے تبدیل ہو کر کسی دوسرے شہر پر حکمران ہوں گے اور لاہور کو فراموش کر چکے ہوں گے مگر میں جو پیدائشی لاہوری نہیں ہوں اور جس کا گھر یہاں سے کوئی دو سو کلو میٹر دور ہے اس شہر کا درد رکھتا ہوں جہاں زندگی کی کتنی ہی سرمئی شامیں اور جاگتی راتیں گزر گئیں اور اب تک اس شہر میں مقیم ہوں اور اس کی یادوں کو بھول نہیں پایا۔ فی الوقت میں اس کی ان عمارتوں کو یاد کر رہا ہوں جن کو کل بھی اور آج بھی حسین سمجھتا تھا۔ کیا انسانی حرص کی کوئی حد نہیں ہوتی جو اپنی تاریخ کو اپنے ہاتھوں مسمار کر دیتی ہے یا ہمارے ہاں کرپشن، بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ اس قدر دلیر ہو گئی ہے کہ اس کے سامنے کسی کو ثبات نہیں ہے۔ رہے نام اللہ کا۔
Load Next Story