یمن کا بحران کیسے حل ہوسکتا ہے
یمن کا بحران حل کرنے میں سب سے اہم کردار سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک اور ایران کا ہے۔
اگر جنگ کے یہ تینوں فریق ایک ایک قدم پیچھے ہٹ جائیں تو یمن کا بحران حل ہو سکتا ہے۔ فوٹو : فائل
یمن کا بحران تا حال جاری ہے، گزشتہ روز بھی سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی لڑاکا طیاروں نے یمن میں حملے جاری رکھے، ادھر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بھی سعودی عرب پہنچے جہاں انھوں نے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی۔
میڈیا کی اطلاع کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ مقرن سے بھی ملاقات کی۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان یمن کے بحران کے فوری حل کے لیے مسلم ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ رابطے میں ہے، وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب اس سلسلے کی کڑی ہے۔ اقوام متحدہ اور او آئی سی بحران کے خاتمے کے لیے فعال کردار ادا کریں۔
پاکستان کا یمن کے بحران کے حوالے سے موقف واضح رہا ہے ۔اس بحران میں پاکستان سعودی عرب کا حامی ہے لیکن پاکستان نے یمن میں فوج نہیں بھیجی۔ البتہ یہ واضح کیا ہے کہ اگر سعودی عرب کو خطرہ ہوا تو اس کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔
گزشتہ دنوں یہ اطلاع آئی تھی کہ سعودی عرب نے یمن میں حملے روک دیے ہیں کیونکہ اس کے اہداف حاصل ہو گئے ہیں لیکن بعد میں پھر فضائی حملے شروع ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا تھا، اس سے یوں لگتا تھا جیسا معاملات کہیں مزید نہ بگڑ جائیں لیکن اب محسوس ہو رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات بہتری کا رخ اختیار کر سکتے ہیں تاہم اس کے لیے اسلامی ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
یمن کا بحران حل کرنے میں سب سے اہم کردار سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک اور ایران کا ہے۔ سعودی عرب کے بھی یمن میں گہرے اثرات ہیں جب کہ ایران کے بھی اثرات بہت گہرے ہیں۔ اس لیے جب تک یہ دونوں ممالک بحران کے خاتمے کے حوالے سے کسی قابل قبول حل کی طرف نہیں آتے ،معاملات بہتر نہیں ہوں گے۔
جہاں تک مسلم ممالک کا تعلق ہے تو ان میں پاکستان اور ترکی نے خاصا متحرک کردار ادا کیا۔ پاکستان اور ترکی کی کوشش ہے کہ وہ ایران اور سعودی عرب کویمن کے حوالے سے کسی حل پر لے کر آئے۔ دوسرے اسلامی ممالک کا اس بحران کے حل کے حوالے سے کوئی بڑا کردار فی الحال سامنے نہیں آیا۔
جتنے دنوں سے یہ بحران جاری ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اب تک اسلامی ممالک کے سربراہوں کا کوئی اجلاس ہو جاتا۔ اس اجلاس میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک کے سربراہان بھی شریک ہوتے اور ایران کی قیادت بھی موجود ہوتی۔ وہاں بہت سے اختلافی امور کو نمٹایا جا سکتا تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ او آئی سی اپنے فریم ورک اور آئینی ڈھانچے کی وجہ سے کوئی متحرک کردار ادا نہیں کر سکتی۔ جب سے یہ تنظیم قائم ہوئی ہے،اس کا مسلم ممالک میں پیدا ہونے والے بحران کے حل کے لیے کوئی بڑا کردار سامنے نہیں آیا۔
گزشتہ پندرہ بیس برسوں میں مسلم ممالک میں جو بحران پیدا ہوئے،او آئی سی کا کردار نہ ہونے کے برابر رہا ہے۔ ایران عراق وار ہو یا شام کا تنازعہ او آئی سی کہیں نظر نہیں آئی۔ یہی حال اب یمن کے بحران کے حوالے سے ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ روایتی انداز میں ایک بیان جاری کر دیتی ہے کہ فریقین جنگ سے گریز کریں یا پھر اقوام متحدہ ہلاکتوں کے اعدادوشمار جاری کر دیتی ہے۔ یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ کتنے لوگ زخمی ہوئے ،کتنے بے گھر ہوئے اور کتنے ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
اس کے سوا اقوام متحدہ کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ کسی ملک میں جنگ بند کرانی ہو یا وہاں کسی قسم کی مداخلت کرنی ہو ،یہ کام اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے مستقل ارکان کرتے ہیں جنھیں ویٹو پاور حاصل ہوتی ہے۔ ویٹو پاور رکھنے والے ممالک میں امریکا ،روس، چین ،برطانیہ اور فرانس شامل ہیں۔ ان ممالک کے عالمی سطح پر اپنے اپنے مفادات ہیں۔
ہر ملک اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر بیان جاری کرتا ہے اور ویٹو پاور کا استعمال کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں سب سے زیادہ ویٹو پاور کا استعمال امریکا نے کیا ہے اور یہ استعمال زیادہ تر اسرائیل کے حق میں رہا ہے۔ برطانیہ اور فرانس کے بھی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں مفادات ہیں، وہ بھی انھیں سامنے رکھ کر کام کرتے ہیں۔روس اور چین کی پالیسی بھی مفادات کے ہی طابع ہے۔جب امریکا اور اس کے اتحادی کسی خطے میں مداخلت کرتے ہیں تو پھر معاملات براہ راست ان کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ کویت وار اس کا ثبوت ہے۔
زمینی حقیقت یہی ہے کہ مسلم ممالک اپنے معاملات کو اولاً اتنا سنگین نہ بنائیں کہ نوبت خانہ جنگی یا جنگ تک پہنچ جائے اور اگر خدا نخواستہ کوئی بحران پیدا ہو گیا ہے تو پھر اسے اپنے بل بوتے پر حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یمنی اور سعودی عرب ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ ایران بھی حقائق سے پوری طرح آگاہ ہے۔ضرورت صرف نفرت اور انتقام کے جذبات کو سرد کرنے کی ہے۔ سعودی عرب ہو یا ایران یا پھر یمن کے باغی ،سب کو حقیقت کا اچھی طرح پتہ ہے۔
اگر جنگ کے یہ تینوں فریق ایک ایک قدم پیچھے ہٹ جائیں تو یمن کا بحران حل ہو سکتا ہے۔ پاکستان کا جو کردار بنتا ہے ،وہ بخوبی ادا کر رہا ہے لیکن مسائل حل کرنے کی کنجی یمن کے بحران کے اسٹیک ہولڈرز کے ہاتھ میں ہے۔ جب تک یہ اسٹیک ہولڈرز اپنے اپنے مفادات کے درمیان ہم آہنگی کا رشتہ قائم نہیں کرتے اور ایک دوسرے کو جیو اور جینے دو کے اصول پر نہیں پرکھتے 'اس وقت تک یہ بحران حل نہیں ہو گا۔
میڈیا کی اطلاع کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ مقرن سے بھی ملاقات کی۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان یمن کے بحران کے فوری حل کے لیے مسلم ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ رابطے میں ہے، وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب اس سلسلے کی کڑی ہے۔ اقوام متحدہ اور او آئی سی بحران کے خاتمے کے لیے فعال کردار ادا کریں۔
پاکستان کا یمن کے بحران کے حوالے سے موقف واضح رہا ہے ۔اس بحران میں پاکستان سعودی عرب کا حامی ہے لیکن پاکستان نے یمن میں فوج نہیں بھیجی۔ البتہ یہ واضح کیا ہے کہ اگر سعودی عرب کو خطرہ ہوا تو اس کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔
گزشتہ دنوں یہ اطلاع آئی تھی کہ سعودی عرب نے یمن میں حملے روک دیے ہیں کیونکہ اس کے اہداف حاصل ہو گئے ہیں لیکن بعد میں پھر فضائی حملے شروع ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا تھا، اس سے یوں لگتا تھا جیسا معاملات کہیں مزید نہ بگڑ جائیں لیکن اب محسوس ہو رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات بہتری کا رخ اختیار کر سکتے ہیں تاہم اس کے لیے اسلامی ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
یمن کا بحران حل کرنے میں سب سے اہم کردار سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک اور ایران کا ہے۔ سعودی عرب کے بھی یمن میں گہرے اثرات ہیں جب کہ ایران کے بھی اثرات بہت گہرے ہیں۔ اس لیے جب تک یہ دونوں ممالک بحران کے خاتمے کے حوالے سے کسی قابل قبول حل کی طرف نہیں آتے ،معاملات بہتر نہیں ہوں گے۔
جہاں تک مسلم ممالک کا تعلق ہے تو ان میں پاکستان اور ترکی نے خاصا متحرک کردار ادا کیا۔ پاکستان اور ترکی کی کوشش ہے کہ وہ ایران اور سعودی عرب کویمن کے حوالے سے کسی حل پر لے کر آئے۔ دوسرے اسلامی ممالک کا اس بحران کے حل کے حوالے سے کوئی بڑا کردار فی الحال سامنے نہیں آیا۔
جتنے دنوں سے یہ بحران جاری ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اب تک اسلامی ممالک کے سربراہوں کا کوئی اجلاس ہو جاتا۔ اس اجلاس میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک کے سربراہان بھی شریک ہوتے اور ایران کی قیادت بھی موجود ہوتی۔ وہاں بہت سے اختلافی امور کو نمٹایا جا سکتا تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ او آئی سی اپنے فریم ورک اور آئینی ڈھانچے کی وجہ سے کوئی متحرک کردار ادا نہیں کر سکتی۔ جب سے یہ تنظیم قائم ہوئی ہے،اس کا مسلم ممالک میں پیدا ہونے والے بحران کے حل کے لیے کوئی بڑا کردار سامنے نہیں آیا۔
گزشتہ پندرہ بیس برسوں میں مسلم ممالک میں جو بحران پیدا ہوئے،او آئی سی کا کردار نہ ہونے کے برابر رہا ہے۔ ایران عراق وار ہو یا شام کا تنازعہ او آئی سی کہیں نظر نہیں آئی۔ یہی حال اب یمن کے بحران کے حوالے سے ہے۔ ادھر اقوام متحدہ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ روایتی انداز میں ایک بیان جاری کر دیتی ہے کہ فریقین جنگ سے گریز کریں یا پھر اقوام متحدہ ہلاکتوں کے اعدادوشمار جاری کر دیتی ہے۔ یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ کتنے لوگ زخمی ہوئے ،کتنے بے گھر ہوئے اور کتنے ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
اس کے سوا اقوام متحدہ کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ کسی ملک میں جنگ بند کرانی ہو یا وہاں کسی قسم کی مداخلت کرنی ہو ،یہ کام اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے مستقل ارکان کرتے ہیں جنھیں ویٹو پاور حاصل ہوتی ہے۔ ویٹو پاور رکھنے والے ممالک میں امریکا ،روس، چین ،برطانیہ اور فرانس شامل ہیں۔ ان ممالک کے عالمی سطح پر اپنے اپنے مفادات ہیں۔
ہر ملک اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر بیان جاری کرتا ہے اور ویٹو پاور کا استعمال کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں سب سے زیادہ ویٹو پاور کا استعمال امریکا نے کیا ہے اور یہ استعمال زیادہ تر اسرائیل کے حق میں رہا ہے۔ برطانیہ اور فرانس کے بھی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں مفادات ہیں، وہ بھی انھیں سامنے رکھ کر کام کرتے ہیں۔روس اور چین کی پالیسی بھی مفادات کے ہی طابع ہے۔جب امریکا اور اس کے اتحادی کسی خطے میں مداخلت کرتے ہیں تو پھر معاملات براہ راست ان کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔ کویت وار اس کا ثبوت ہے۔
زمینی حقیقت یہی ہے کہ مسلم ممالک اپنے معاملات کو اولاً اتنا سنگین نہ بنائیں کہ نوبت خانہ جنگی یا جنگ تک پہنچ جائے اور اگر خدا نخواستہ کوئی بحران پیدا ہو گیا ہے تو پھر اسے اپنے بل بوتے پر حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یمنی اور سعودی عرب ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ ایران بھی حقائق سے پوری طرح آگاہ ہے۔ضرورت صرف نفرت اور انتقام کے جذبات کو سرد کرنے کی ہے۔ سعودی عرب ہو یا ایران یا پھر یمن کے باغی ،سب کو حقیقت کا اچھی طرح پتہ ہے۔
اگر جنگ کے یہ تینوں فریق ایک ایک قدم پیچھے ہٹ جائیں تو یمن کا بحران حل ہو سکتا ہے۔ پاکستان کا جو کردار بنتا ہے ،وہ بخوبی ادا کر رہا ہے لیکن مسائل حل کرنے کی کنجی یمن کے بحران کے اسٹیک ہولڈرز کے ہاتھ میں ہے۔ جب تک یہ اسٹیک ہولڈرز اپنے اپنے مفادات کے درمیان ہم آہنگی کا رشتہ قائم نہیں کرتے اور ایک دوسرے کو جیو اور جینے دو کے اصول پر نہیں پرکھتے 'اس وقت تک یہ بحران حل نہیں ہو گا۔