درآمدی ایل این جی پررعایتی ڈیوٹی عائدسیلز ٹیکس میں مکمل چھوٹ

پاکستان آنےوالے ایف ایس آر یوکوپلانٹ،مشینری اورایل این جی ٹرمینل کیلیےایکوئپمنٹ کے طور پر شمار کیا جائیگا، نوٹیفکیشن

پاکستان آنےوالے ایف ایس آر یوکوپلانٹ،مشینری اورایل این جی ٹرمینل کیلیےایکوئپمنٹ کے طور پر شمار کیا جائیگا، نوٹیفکیشن۔ فوٹو: فائل

ایف بی آر نے درآمدی ایل این جی کو قدرتی گیس میں تبدیل کرکے پائپ لائن میں شامل کرنے کیلیے پاکستان آنیوالے فلوٹنگ اسٹوریج اینڈ ری گیسیفکیشن یونٹ(ایف ایس آر یو) پر پانچ فیصد رعایتی کسٹمز ڈیوٹی اور درآمدی سطح پر سیلز ٹیکس سے چھوٹ دیدی ہے۔


اس ضمن میں ایف بی آرنے گذشتہ روز باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن 337(I)/2015 جاری کردیا جس کے مطابق سات اگست 2004کو جاری ہونے والے ایس آر او 678(I)/2004 میں ترمیم کردی گئی ہے جس کے تحت درآمدی ایل این جی کی اسٹوریج اور ری گیسیفکیشن کیلیے پورٹ قاسم پر آنے والے ایف ایس آر یو کی درآمد پر صرف پانچ فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد ہوگی تاہم درآمدی سطع پر عائد تمام سیلز ٹیکس کی چھوٹ دیدی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان آنے والے ایف ایس آر یو کو پلانٹ،مشینری اور ایل این جی ٹرمینل کیلیے ایکوئپمنٹ کے طور پر شمار کیا جائیگا اور درآمدی مشینری و آلات اور پلانٹس کیلیے جو رعایت دی گئی ہے اس کا اطلاق اس پر بھی ہوگا جس کے مطابق اس ایف ایس آر یو پر پانچ فیصد کی رعایتی کسٹمز ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
Load Next Story