خیبر پختون خوا میں طوفانی بارشوں سے تباہی
زلزلہ، طوفان اور دیگر قدرتی آفات جب بھی شدت اختیار کرتی ہیں تو اس سے بڑے پیمانے پر تباہی آتی ہے
کسی بھی قدرتی آفت کے بعد حکومت، امدادی ٹیموں اور عوام کی جانب سے امدادی کارروائیاں کرنا وقتی اور عارضی حل تو ہے مگر مستقل حل نہیں۔ فوٹو : اے ایف پی
لاہور:
اتوار کی شب پشاور، چارسدہ ، نوشہرہ اوردیگر علاقوں میں شدید بارشوں، طوفانی آندھی اور ژالہ باری سے تباہی مچ گئی، درجنوں گھروں کی چھتیں اور دیواریں گر گئیں جس سے بچوں اور خواتین سمیت 40 سے زائد افراد جاں بحق اور 225 سے زائد زخمی ہوگئے، پشاور کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
صدر ممنون حسین، وزیراعظم نوازشریف، عمران خان، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک، گورنر سردار مہتاب خان، وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور سراج الحق نے بارشوں سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
110کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آنے والی طوفانی بارش اور آندھی نے گھروں کو ملیامیٹ کردیا، فصلیں برباد ہوگئیں، جگہ جگہ درخت، سائن بورڈ اور بجلی کے کھمبے گرگئے جس سے گھنٹوں روڈ بلاک رہے، مواصلات کا نظام درہم برہم ہوگیا، پشاور میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے 20 افراد جاں بحق اور80 زخمی، 35گھر تباہ ہوگئے۔
واحد گڑھی میں چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے چھ بچے جاں بحق ہوئے، طوفان سے پشاور اسلام آباد موٹر وے پر ٹول پلازہ بھی گرگیا، پخہ غلام کے علاقے میں بارش اور تیز آندھی سے 30 فیصد گھروں کی چھتیں اور دیواریں گر گئیں، چارسدہ میں چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق اور متعدد زخمی، نوشہرہ میں چھت گرنے سے پانچ افراد زخمی،شبقدر میں مکانوں کی چھتیں گرنے سے 3خواتین سمیت چار جاں بحق،ماں بیٹی زخمی ہوگئیں، نوشہرہ میں جلوزئی متاثرین کیمپ میں بھی کئی خیمے گرگئے۔
ژالہ باری نے 40سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے،سردریاب پکنک اسپاٹ پر آسمانی بجلی گرنے سے آگ لگ گئی جس کی وجہ سے20 جھونپڑیاں اور فش مارکیٹ کی دکانیں جل کر خاکستر ہوگئیں، شبقدر میں رابطہ پل بھی بلاک ہوگئے، محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ پشاور میں 14ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ بارش سے متاثرہ علاقوں میں امدادی آپریشن جاری ہے، مقامی انتظامیہ نے امدادی کاموں کے لیے فوج طلب کرلی ہے۔
صوبہ خیبر پختون خوا میں آندھی اور طوفانی بارشوں سے جو تباہی آئی اس پر پوری قوم غمگین ہے اور اپنے متاثرہ بھائیوں کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے بھی خیبرپختونخوا حکومت کو متاثرین کی مدد کی پیشکش کی ہے۔
پاک فوج کی امدادی ٹیمیں بھی پشاور کے متاثرہ علاقوں میں کارروائیوں کے لیے پہنچ گئی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق منی سائیکلون نے پشاور کو متاثر کیا اس سے پہلے یہ سائیکلون سرگودھا اور سیالکوٹ کو متاثر کر چکا ہے۔ زلزلہ، طوفان اور دیگر قدرتی آفات جب بھی شدت اختیار کرتی ہیں تو اس سے بڑے پیمانے پر تباہی آتی ہے جسے روکنا انسان کے اختیار میں نہیں مگر بہترین منصوبہ بندی اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے ان قدرتی آفات سے ہونے والی تباہی کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔
ایک اہم مرحلہ متاثرین کی مدد کا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں جب بھی کسی قدرتی آفت سے تباہی مچتی ہے تو وقتی طور پر متاثرین کی کسی حد تک مدد کر دی جاتی ہے مگر اس کے بعد ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا اور وہ بے یار و مدد گار پڑے رہتے ہیں۔ ملک میں زلزلے اور سیلاب سے تباہی کوئی نئی بات نہیں مگر حکومتوں نے کبھی ان آفات سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی نہیں کی۔
اب دو تین ماہ بعد بارشوں کا موسم شروع ہونے والا ہے جس سے آنے والا سیلاب پورے ملک میں تباہی پھیلا دیتا ہے چند سال قبل آنے والے سیلاب نے پورے ملک میں ہر طرف تباہی پھیلائی اور بڑی تعداد میں انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ کھربوں روپے کا مالی نقصان بھی ہوا تھا۔مگر اس سب کے باوجود حکومت نے ابھی تک مستقبل میں سیلاب سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔
ماہرین بارہا کہہ چکے ہیں کہ اگر ملک بھر میں چھوٹے چھوٹے ڈیم اور پانی کے ذخائر تعمیر کیے جائیں تو سیلاب کے پانی کو محفوظ کر کے کسی حد تک تباہی سے ضرور بچا جا سکتا ہے لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس جانب توجہ دینا حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ دوسری جانب نیپال میں ہولناک زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 2500 سے زائد ہو گئی ہے اور سیکڑوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ میں سیاحوں سمیت 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جاپان میں آئے دن زلزلے آتے رہتے ہیں ان کی تباہی سے بچنے کے لیے وہاں زلزلہ پروف عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں۔
دوسری جانب چین نے بھی سیلاب سے ہونے والی تباہی سے بچنے کے لیے متعدد منصوبے تشکیل دیے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے بہت سے علاقے سیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے ہیں۔ چند سال قبل آزاد کشمیر میں آنے والے زلزلے نے بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی مگر اس کے بعد حکومتوں نے زلزلے سے ہونے والی تباہی سے بچنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔
کسی بھی قدرتی آفت کے بعد حکومت، امدادی ٹیموں اور عوام کی جانب سے امدادی کارروائیاں کرنا وقتی اور عارضی حل تو ہے مگر مستقل حل نہیں۔ ناگزیر ہے کہ حکومت مستقل طور پر کوئی حل تجویز کرے تاکہ قدرتی آفات سے ہونے والی تباہی پر کسی نہ کسی حد تک قابو ضرور پایا جا سکے۔
اتوار کی شب پشاور، چارسدہ ، نوشہرہ اوردیگر علاقوں میں شدید بارشوں، طوفانی آندھی اور ژالہ باری سے تباہی مچ گئی، درجنوں گھروں کی چھتیں اور دیواریں گر گئیں جس سے بچوں اور خواتین سمیت 40 سے زائد افراد جاں بحق اور 225 سے زائد زخمی ہوگئے، پشاور کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
صدر ممنون حسین، وزیراعظم نوازشریف، عمران خان، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک، گورنر سردار مہتاب خان، وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور سراج الحق نے بارشوں سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
110کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آنے والی طوفانی بارش اور آندھی نے گھروں کو ملیامیٹ کردیا، فصلیں برباد ہوگئیں، جگہ جگہ درخت، سائن بورڈ اور بجلی کے کھمبے گرگئے جس سے گھنٹوں روڈ بلاک رہے، مواصلات کا نظام درہم برہم ہوگیا، پشاور میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے 20 افراد جاں بحق اور80 زخمی، 35گھر تباہ ہوگئے۔
واحد گڑھی میں چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے چھ بچے جاں بحق ہوئے، طوفان سے پشاور اسلام آباد موٹر وے پر ٹول پلازہ بھی گرگیا، پخہ غلام کے علاقے میں بارش اور تیز آندھی سے 30 فیصد گھروں کی چھتیں اور دیواریں گر گئیں، چارسدہ میں چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق اور متعدد زخمی، نوشہرہ میں چھت گرنے سے پانچ افراد زخمی،شبقدر میں مکانوں کی چھتیں گرنے سے 3خواتین سمیت چار جاں بحق،ماں بیٹی زخمی ہوگئیں، نوشہرہ میں جلوزئی متاثرین کیمپ میں بھی کئی خیمے گرگئے۔
ژالہ باری نے 40سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے،سردریاب پکنک اسپاٹ پر آسمانی بجلی گرنے سے آگ لگ گئی جس کی وجہ سے20 جھونپڑیاں اور فش مارکیٹ کی دکانیں جل کر خاکستر ہوگئیں، شبقدر میں رابطہ پل بھی بلاک ہوگئے، محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ پشاور میں 14ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ بارش سے متاثرہ علاقوں میں امدادی آپریشن جاری ہے، مقامی انتظامیہ نے امدادی کاموں کے لیے فوج طلب کرلی ہے۔
صوبہ خیبر پختون خوا میں آندھی اور طوفانی بارشوں سے جو تباہی آئی اس پر پوری قوم غمگین ہے اور اپنے متاثرہ بھائیوں کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے بھی خیبرپختونخوا حکومت کو متاثرین کی مدد کی پیشکش کی ہے۔
پاک فوج کی امدادی ٹیمیں بھی پشاور کے متاثرہ علاقوں میں کارروائیوں کے لیے پہنچ گئی ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق منی سائیکلون نے پشاور کو متاثر کیا اس سے پہلے یہ سائیکلون سرگودھا اور سیالکوٹ کو متاثر کر چکا ہے۔ زلزلہ، طوفان اور دیگر قدرتی آفات جب بھی شدت اختیار کرتی ہیں تو اس سے بڑے پیمانے پر تباہی آتی ہے جسے روکنا انسان کے اختیار میں نہیں مگر بہترین منصوبہ بندی اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے ان قدرتی آفات سے ہونے والی تباہی کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔
ایک اہم مرحلہ متاثرین کی مدد کا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں جب بھی کسی قدرتی آفت سے تباہی مچتی ہے تو وقتی طور پر متاثرین کی کسی حد تک مدد کر دی جاتی ہے مگر اس کے بعد ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا اور وہ بے یار و مدد گار پڑے رہتے ہیں۔ ملک میں زلزلے اور سیلاب سے تباہی کوئی نئی بات نہیں مگر حکومتوں نے کبھی ان آفات سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی نہیں کی۔
اب دو تین ماہ بعد بارشوں کا موسم شروع ہونے والا ہے جس سے آنے والا سیلاب پورے ملک میں تباہی پھیلا دیتا ہے چند سال قبل آنے والے سیلاب نے پورے ملک میں ہر طرف تباہی پھیلائی اور بڑی تعداد میں انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ کھربوں روپے کا مالی نقصان بھی ہوا تھا۔مگر اس سب کے باوجود حکومت نے ابھی تک مستقبل میں سیلاب سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔
ماہرین بارہا کہہ چکے ہیں کہ اگر ملک بھر میں چھوٹے چھوٹے ڈیم اور پانی کے ذخائر تعمیر کیے جائیں تو سیلاب کے پانی کو محفوظ کر کے کسی حد تک تباہی سے ضرور بچا جا سکتا ہے لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس جانب توجہ دینا حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ دوسری جانب نیپال میں ہولناک زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 2500 سے زائد ہو گئی ہے اور سیکڑوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ میں سیاحوں سمیت 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جاپان میں آئے دن زلزلے آتے رہتے ہیں ان کی تباہی سے بچنے کے لیے وہاں زلزلہ پروف عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں۔
دوسری جانب چین نے بھی سیلاب سے ہونے والی تباہی سے بچنے کے لیے متعدد منصوبے تشکیل دیے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے بہت سے علاقے سیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو گئے ہیں۔ چند سال قبل آزاد کشمیر میں آنے والے زلزلے نے بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی مگر اس کے بعد حکومتوں نے زلزلے سے ہونے والی تباہی سے بچنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔
کسی بھی قدرتی آفت کے بعد حکومت، امدادی ٹیموں اور عوام کی جانب سے امدادی کارروائیاں کرنا وقتی اور عارضی حل تو ہے مگر مستقل حل نہیں۔ ناگزیر ہے کہ حکومت مستقل طور پر کوئی حل تجویز کرے تاکہ قدرتی آفات سے ہونے والی تباہی پر کسی نہ کسی حد تک قابو ضرور پایا جا سکے۔