پیپلز پارٹی کی لیاری سے کمٹمنٹ

لیاری مظلوم بھی ہے اور بنیادی ضرورتوں سے محروم بھی۔ اسے ایک ارب کا پیکیج دینا پیپلز پارٹی کا قابل تعریف اقدام ہے

غربت کے ستائے ہوئے اس علاقے میں غیر انسانی اور خستہ حالی کی صورتحال تبدیلی کی منتظر ہے اور اس کی تعمیر نو اہم چیلنج ہے۔ فوٹو : آئی این پی

سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے گزشتہ روز لیاری میں جلسہ سے خطاب کے دوران بہت کچھ کہا ، انھوں نے کہا کہ پاک چین سرمایہ کاری منصوبوں کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔

بھارتی قیادت کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ میرے تم سے کوئی تاجرانہ تعلقات نہیں۔کشمیریوں کو تنگ مت کرو ، کشمیری بھائیوں کے ساتھ ظلم برداشت نہیں کریں گے۔ تاہم کراچی کے تاریخی علاقے لیاری کے ککری گراؤنڈ میں پیپلز پارٹی کا جلسہ خاص اس کے قدیمی ووٹ بینک کے مکینوں اور جیالوں کے لیے تھا جسے پیپلزپارٹی کی قیادت نے آیندہ انتخابات کی جانب سفر قرار دیا ہے اور آصف زرداری کے بقول جلد ہی پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب، گلگت بلتستان اور جموں و کشمیر میں بھی جلسے کرے گی۔

یہ جلسہ ایک مثبت واپسی کا عمل ہے ، کیونکہ لیاری گزشہ ایک عشرہ سے گینگ وار کی شکل میں جس الم ناک اور وحشیانہ بدامنی اور قتل و غارت گری سے گزری ہے اس کی داستان لرزہ خیز اور چشم کشا ہے۔ لیاری ایسی نہ تھی جو دانستہ بنا دی گئی۔ سابق صدر نے درست کہا کہ 'لیاری میں سناروں کی دکانیں تھیں، یہاں ہر طرح کا امن ، بزنس تھا لیکن آمروں اور مشرف کی باقیات نے لیاری میں خون کی ہولی کھیلی۔، تاہم اس پر تاسف کا وقت گزر چکا ہے اب پیپلز پارٹی اور ارباب حکومت کو نیک نیتی سے ثابت کرنا چاہیے کہ وہ لیاری میں خون کی ہولی نہیں کھیلنے دیں گے،اور علاقہ کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔


نئی نسل کو قیادت سونپنے کا اعلان خوش آیند ہے مگر قیادت تعلیم یافتہ ، کمیٹڈ، باصلاحیت اور میرٹ پر ہو، بلاول اور آصفہ بھٹو زرداری میدان سیاست میں ضرور آئیں تاہم ان کو لیاری میں سیاسی عمل کے تجربات اور عوام سے قربت و محبت اور جذباتی وابستگی کا وہ احساس بھی پیدا کرنا ہوگا جسے پی پی کے ملک گیر جیالے اور وفاقی کی زنجیر میں پروئے ہوئے عوام ''بھٹوز'' کا ورثہ سمجھتے ہیں۔

لیاری مظلوم بھی ہے اور بنیادی ضرورتوں سے محروم بھی۔ اسے ایک ارب کا پیکیج دینا پیپلز پارٹی کا قابل تعریف اقدام ہے مگر جرائم پیشہ کی دن رات فائرنگ، اغوا،اور بے ہنگم غیر قانونی وارداتوں کے باعث مکینوں کا بہت بڑا حصہ بدترین مصائب اور پسماندگی کی نذر ہوا ہے، گینگ وار نے کئی گھرانوں کے چراغ جرم بیگناہی میں بھی بجھا دیے ہیں، لیاری کی شناخت ایک سیاسی قلعہ اور باشعور انقلابی و سیاسی جنکشن کی تھی ، اسے نادیدہ ہاتھوں اور اپنوں کی چیرہ دستیوں نے برباد کیا ہے ،حکمرانون کو احساس زیاں کے تحت لیاری کی ترقی و خوشحالی کے لیے ہر وہ اقدام کرنا چاہیے جو مہذب معاشروں میں ہوتا ہے ۔

غربت کے ستائے ہوئے اس علاقے میں غیر انسانی اور خستہ حالی کی صورتحال تبدیلی کی منتظر ہے اور اس کی تعمیر نو اہم چیلنج ہے۔
Load Next Story