فاٹا میں حکومتی رٹ کی بحالی
سردار مہتاب احمد خان نےکہاکہ ہم چاہتےہیں کہ آپریشن ضرب عضب،خیبرون اور ٹو آخری جنگ ہو تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں
وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر فاٹا کی آئینی اور قانونی حیثیت ہی نہیں بلکہ وہاں کے پورے سماجی ڈھانچے میں بھی تبدیلی لانی چاہیے۔ فوٹو : فائل
گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان نے گزشتہ روز گورنر ہاؤس پشاور میں سی پی این ای کے عہدیداروں کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے سے خطاب کے دوران فاٹا کے حوالے سے خاصی حوصلہ افزاء باتیں کی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ فاٹا کے 95 فیصد علاقہ پر ریاست کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے جب کہ40 فیصد حصہ اب سول انتظامیہ کے زیر انتظام ہے، فاٹا کی تعمیر نو، آئی ڈی پیز کی گھروں کو واپسی اور متاثرہ مکانات دوبارہ بنانے کے لیے معاوضوں کی ادائیگی کے سلسلے میں اقوام متحدہ اور غیر ملکی سفیروں کی مشاورت سے جامع حکمت عملی بنائی گئی ہے جس پر 90 کروڑ ڈالر لاگت کا تخمینہ ہے۔
سردار مہتاب احمد خان نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب، خیبرون اور ٹو آخری جنگ ہو تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔فاٹا میں بند صنعتوں کو دوبارہ بحال اور نئی صنعتیں قائم کی جائیں گی۔ 16 مارچ سے اب تک ایک لاکھ 40 ہزار آئی ڈی پیز واپس جا چکے ہیں، پہلے مرحلے میں رواں سال اگست تک 6 لاکھ آئی ڈی پیز اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ منتخب نمایندوں کو فنڈز کی فراہمی روک کر یہ رقم فاٹا کی تعمیر نو کے عمل کی جانب منتقل کر دی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اب فاٹا کے حوالے سے ہم جلد بازی میں کوئی غلط فیصلہ نہیں کرنا چاہتے۔فاٹا میں دہشت گردی کے حوالے سے جو کچھ ہوا ہے، اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بہت کچھ اب عوام کے سامنے آ چکا ہے، اگر فاٹا کے 95 فیصد علاقے پر ریاستی کنٹرول قائم ہو چکا ہے تو پھر وہاں تعمیر و ترقی کے منصوبوں کی رفتار تیز ہونی چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ فاٹا میں آئینی ریفارمز لانا بھی انتہائی ضروری ہے۔مالاکنڈ ڈویژن جو پاٹا تھا اسے صوبائی قوانین کے تحت لانا غلطی تھی لیکن اصل معاملہ یہ ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن کو صوبائی قوانین کے تحت لے لیا گیا لیکن وہاں سماجی تبدیلی کے لیے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔
ایک علاقہ جو قبائلی ہو ،اس کی آئینی اور قانونی حیثیت تو تبدیل کر دی جائے لیکن وہاں سماجی نظام میں تبدیلی نہ لائی جا سکے تو پھر حالات خراب ہونا لازمی ہو جاتے ہیں۔وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر فاٹا کی آئینی اور قانونی حیثیت ہی نہیں بلکہ وہاں کے پورے سماجی ڈھانچے میں بھی تبدیلی لانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ فاٹا میں لینڈ ریفارمز لائی جائیں تاکہ صدیوں پرانا نظام ختم ہو اور قبائلی نظام بتدریج جدید سماجی اور معاشی ڈھانچے میں تبدیل ہو سکے۔
انھوں نے کہا کہ فاٹا کے 95 فیصد علاقہ پر ریاست کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے جب کہ40 فیصد حصہ اب سول انتظامیہ کے زیر انتظام ہے، فاٹا کی تعمیر نو، آئی ڈی پیز کی گھروں کو واپسی اور متاثرہ مکانات دوبارہ بنانے کے لیے معاوضوں کی ادائیگی کے سلسلے میں اقوام متحدہ اور غیر ملکی سفیروں کی مشاورت سے جامع حکمت عملی بنائی گئی ہے جس پر 90 کروڑ ڈالر لاگت کا تخمینہ ہے۔
سردار مہتاب احمد خان نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب، خیبرون اور ٹو آخری جنگ ہو تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔فاٹا میں بند صنعتوں کو دوبارہ بحال اور نئی صنعتیں قائم کی جائیں گی۔ 16 مارچ سے اب تک ایک لاکھ 40 ہزار آئی ڈی پیز واپس جا چکے ہیں، پہلے مرحلے میں رواں سال اگست تک 6 لاکھ آئی ڈی پیز اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں گے۔ انھوں نے بتایا کہ منتخب نمایندوں کو فنڈز کی فراہمی روک کر یہ رقم فاٹا کی تعمیر نو کے عمل کی جانب منتقل کر دی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ اب فاٹا کے حوالے سے ہم جلد بازی میں کوئی غلط فیصلہ نہیں کرنا چاہتے۔فاٹا میں دہشت گردی کے حوالے سے جو کچھ ہوا ہے، اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بہت کچھ اب عوام کے سامنے آ چکا ہے، اگر فاٹا کے 95 فیصد علاقے پر ریاستی کنٹرول قائم ہو چکا ہے تو پھر وہاں تعمیر و ترقی کے منصوبوں کی رفتار تیز ہونی چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ فاٹا میں آئینی ریفارمز لانا بھی انتہائی ضروری ہے۔مالاکنڈ ڈویژن جو پاٹا تھا اسے صوبائی قوانین کے تحت لانا غلطی تھی لیکن اصل معاملہ یہ ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن کو صوبائی قوانین کے تحت لے لیا گیا لیکن وہاں سماجی تبدیلی کے لیے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔
ایک علاقہ جو قبائلی ہو ،اس کی آئینی اور قانونی حیثیت تو تبدیل کر دی جائے لیکن وہاں سماجی نظام میں تبدیلی نہ لائی جا سکے تو پھر حالات خراب ہونا لازمی ہو جاتے ہیں۔وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر فاٹا کی آئینی اور قانونی حیثیت ہی نہیں بلکہ وہاں کے پورے سماجی ڈھانچے میں بھی تبدیلی لانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ فاٹا میں لینڈ ریفارمز لائی جائیں تاکہ صدیوں پرانا نظام ختم ہو اور قبائلی نظام بتدریج جدید سماجی اور معاشی ڈھانچے میں تبدیل ہو سکے۔