تنخواہیں نہ ملنے پر کالعدم ڈی اے کے ملازمین کا مظاہرہ
بلدیہ عظمیٰ کی سفاک اور کرپٹ انتظامیہ نے ظلم وجبر کے پہاڑ توڑ دیے، ملازمین
تنخواہیں نہیں دی جارہیں مگرٹھیکیداروں کو ادائیگیوں کی تیاری مکمل کرلی گئی. فوٹو: فائل
کالعدم ڈی اے کے ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر بدھ کو سوک سینٹر کی چھٹی منزل پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اس موقع پر ملازمین نے دو ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر ایڈمنسٹریٹر اور فنانس ڈپارٹمنٹ کے افسران کے خلاف انتہائی سخت زبان استعمال کی اور ان کے خلاف سخت نعرے بازی کی، ان ملازمین کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کی سفاک اور کرپٹ انتظامیہ نے ظلم وجبر کے تمام پہاڑ توڑ دیے ہیں مگر کراچی میں کوئی ایسی اتھارٹی موجود نہیں ہے کہ وہ ان کرپٹ افسران کو قابو کرے، ان ملازمین نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ایک طرف تو ان کو دو ماہ سے تنخواہیں نہیں دی جارہیں۔
جبکہ دوسری طرف ٹھیکیداروں کو 13کروڑ روپے کی ادائیگیوں کی تیاری مکمل کرلی ہے اور اس سلسلے میں فنانس ڈپارٹمنٹ کے افسران نے ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ محمد حسین سید کی ہدایت پر ٹھیکیداروں کی لسٹ تیار کرلی ہے، ان ملازمین نے کہا یہ کونسا انصاف ہے کہ ملازمین کی تنخواہیں روک کر ٹھیکیداروں کو ادائیگی کی جائے احتجاجی ملازمین نے چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا ازخود نوٹس لیں کیونکہ کراچی میں تو کوئی ایسی اتھارٹی نہیں ہے جن کو ملازمین کے مسائل حل کرنے سے دلچسپی ہو، ملازمین نے تنخواہوں کی ادائیگی پر سخت احتجاجی مظاہرہ کیا، ملازمین کے غیض وغصب کو دیکھ فنانس ڈپارٹمنٹ کے افسران اپنے دفاتر سے بھاگ گئے اور جو افسران بھاگنے میں کامیاب نہیں ہوسکے وہ خوف زدہ ہوکر اپنے دفتروں میں چھپ گئے۔
اس موقع پر ملازمین نے دو ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر ایڈمنسٹریٹر اور فنانس ڈپارٹمنٹ کے افسران کے خلاف انتہائی سخت زبان استعمال کی اور ان کے خلاف سخت نعرے بازی کی، ان ملازمین کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کی سفاک اور کرپٹ انتظامیہ نے ظلم وجبر کے تمام پہاڑ توڑ دیے ہیں مگر کراچی میں کوئی ایسی اتھارٹی موجود نہیں ہے کہ وہ ان کرپٹ افسران کو قابو کرے، ان ملازمین نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ایک طرف تو ان کو دو ماہ سے تنخواہیں نہیں دی جارہیں۔
جبکہ دوسری طرف ٹھیکیداروں کو 13کروڑ روپے کی ادائیگیوں کی تیاری مکمل کرلی ہے اور اس سلسلے میں فنانس ڈپارٹمنٹ کے افسران نے ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ محمد حسین سید کی ہدایت پر ٹھیکیداروں کی لسٹ تیار کرلی ہے، ان ملازمین نے کہا یہ کونسا انصاف ہے کہ ملازمین کی تنخواہیں روک کر ٹھیکیداروں کو ادائیگی کی جائے احتجاجی ملازمین نے چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا ازخود نوٹس لیں کیونکہ کراچی میں تو کوئی ایسی اتھارٹی نہیں ہے جن کو ملازمین کے مسائل حل کرنے سے دلچسپی ہو، ملازمین نے تنخواہوں کی ادائیگی پر سخت احتجاجی مظاہرہ کیا، ملازمین کے غیض وغصب کو دیکھ فنانس ڈپارٹمنٹ کے افسران اپنے دفاتر سے بھاگ گئے اور جو افسران بھاگنے میں کامیاب نہیں ہوسکے وہ خوف زدہ ہوکر اپنے دفتروں میں چھپ گئے۔